پولیس ہیڈ کوارٹر سے متصل تجاوزات کو ختم کرنے کا حکم

گارڈن ہیڈ کوارٹرمیں کوئی جگہ کسی نجی شخص کولیز یا کرائے پر نہ دی جائے، آئی جی سندھ کو ہائیکورٹ کی ہدایت.

گارڈن ہیڈ کوارٹرمیں کوئی جگہ کسی نجی شخص کولیز یا کرائے پر نہ دی جائے، آئی جی سندھ کو ہائیکورٹ کی ہدایت. فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے پولیس ہیڈ کوارٹر گارڈن سے متصل تجاوزات کوایک ہفتے میں ختم کرنے کا حکم دیتے ہوئے آئی جی سندھ کو ہدایت کی ہے کہ پولیس ہیڈ کوارٹرز میں کوئی جگہ کسی نجی شخص کولیز یا کرائے پر نہ دی جائے ۔

فاضل بینچ نے یہ حکم پولیس ہیڈ کوارٹر گارڈن میں واقع مسجد کی بیرونی چار دیواری کے ساتھ دکانیں قائم کرنے کے خلاف آئینی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے جاری کیا، پولیس ہیڈ کوارٹر گارڈن میں قائم مدینہ مسجد کی انتظامی کمیٹی کے صدر حاجی محمداختر لودھی نے موقف اختیار کیا ہے کہ مذکورہ مسجد 1947سے قائم ہے جہاں لوگوں کی بڑی تعداد نماز ادا کرتی ہے، بعض پولیس افسران و اہلکاروں نے مسجد کی اراضی پر قبضہ شروع کردیا اور غیر قانونی طور پر دکانیں تعمیر کردی ہیں، مسجد کی دیوار کو بھی نقصان پہنچا ہے،دیوار تعمیر کرنے کی اجازت دی جائے اور تجاوزات کو منہدم کیا جائے۔




اطراف کے رہائشی بھی اسی مسجد میں نماز کیلیے آتے ہیں، عدالت تجاوزات کے خاتمے کا حکم دے چکی مگرعدالتی حکم پر عمل درآمد نہیں ہورہا،سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے ریتی اور بجری کے حصول میں رکاوٹیں ڈالنے کے خلاف دائر درخواست پر 18دسمبرکونوٹس جاری کرتے ہوئے درخواست گزار کو ہدایت کی ہے کہ درخواست میں سیکریٹری دفاع ،سیکریٹری داخلہ،پی اے ایف بیس فیصل اور کورنگی کریک کے کمانڈنگ افسروں کو بھی فریق بنایا جائے۔

کنٹریکٹر سید خاور عباس کی جانب سے دائر آئینی درخواست میں ایس ایس پی انکروچمنٹ سیل،ڈی جی مائینز اینڈ منرلز اور دیگر کو فریق بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کو کورنگی کریک میں بعض تعمیرات اور پی اے ایف بیس فیصل میں4کلومیٹرطویل نئے رن وے اور 10 فٹ اونچی دیواریںتعمیر کرنے کا ٹھیکہ دیا گیا ہے۔

 

Recommended Stories

Load Next Story