71 کروڑ بھوکے انسان
انٹرنیشنل فوڈ پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے بھوک کے شکار ملکوں کی فہرست جاری کی گئی ہے
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
ISLAMABAD:
انٹرنیشنل فوڈ پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے بھوک کے شکار ملکوں کی فہرست جاری کی گئی ہے۔ رپورٹ میں 118 ممالک شامل ہیں پاکستان کا نمبر 107 ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غذا کی کمی کے حوالے سے پاکستان کی صورت حال انتہائی تشویشناک ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق پاکستان کے علاوہ صرف 11 ممالک ایسے ہیں جہاں بھوک کا تناسب زیادہ ہے۔ پاکستان 118 ممالک میں گیارہویں نمبر پر ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے کافی موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت کی صورتحال پاکستان سے بہتر ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا کے 70 کروڑ 95 لاکھ انسان بھوک کا شکار ہیں۔ اسی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آبادی کا 22 فیصد حصہ غذا کی کمی کا شکار ہے دنیا کے 8.1 فیصد بچے پانچ سال سے کم عمری میں بھوک کی وجہ سے موت کا شکارہوجاتے ہیں۔
بھارت، انڈونیشیا، نائیجیریا سمیت 43 ممالک بھی تشویشناک کیٹیگری میں شامل ہیں۔ 2030 تک دنیا سے بھوک کا خاتمہ کرنے کا ہدف تب ہی حاصل ہوگا جب سیاسی طور پراس کے حصول کی کوشش کی جائے اور جنگ وجدل کا خاتمہ ہو۔ ترقی یافتہ ملکوں میں بہت سارے ادارے مختلف مسائل پر سروے کا کام انجام دیتے ہیں، ایسے ہی اداروں کے سروے کے مطابق پاکستان اور بھارت سمیت کئی پسماندہ ملکوں کے 50 فیصد سے زیادہ ملک غربت کی لکیرکے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔
مغربی ممالک سے بعض ایسے کتابچے بھی شایع ہوتے ہیں جن میں دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست شامل ہوتی ہے۔ دنیا کے امیر ترین انسانوں میں بل گیٹس کا نام سرفہرست رہا ہے۔ بل گیٹس کی دولت کا اندازہ لگ بھگ 75 ارب ڈالر رہا ہے اور بھی کئی امیر ترین لوگ دنیا میں موجود ہیں جن کی دولت 50 اور 70 ارب ڈالر کے درمیان ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سابق سوشلسٹ ملک چین بھی ان ممالک میں شامل ہوگیا ہے جہاں دنیا کے امیر ترین لوگ اگ رہے ہیں ایسا اس لیے ہو رہا ہے کہ چین سمیت سابق سوشلسٹ ملکوں نے سوشلسٹ معیشت کو ترک کرکے سرمایہ دارانہ معیشت اختیارکرلی ہے اور سرمایہ دارانہ نظام دنیا کے انسانوں کو طبقات میں تقسیم کردیتا ہے۔ اس تقسیم کا المناک پہلو یہ ہے کہ دنیا کے 80 فیصد سے زیادہ انسان دو وقت کی روٹی سے محتاج ہیں کیونکہ دنیا کے چند بل گیٹس 70-80 ارب ڈالر کے مالک بنے بیٹھے ہیں۔
سوشلسٹ معیشت رکھنے والے ملکوں میں بھوک بیماری بے روزگاری جیسی لعنتوں کا خاتمہ ہوگیا تھا۔ جرائم کا نام و نشان مٹ گیا تھا۔ امن وامان سوشلسٹ ملکوں میں لازمی ضرورت بنا ہوا تھا اور یہ سب اس لیے ممکن ہوا تھا کہ ان ملکوں میں معاشی ناانصافیوں کی جڑ نجی ملکیت کے گلے میں رسی ڈال دی گئی تھی۔ اس نظام میں بھی اصلاح کی ضرورت ہوسکتی تھی لیکن اس نظام میں اصلاح کے بجائے اسے مکمل طور پر ختم کرنے کی سازش کی گئی۔ یہ سازش دنیا کے غریب عوام نے نہیں کی بلکہ ان سرمایہ داروں نے کی جو سوشلزم کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے سخت خوفزدہ تھے جن کا سرپرست اعلیٰ امریکا تھا۔
سوشلسٹ ملکوں کو تباہ کرنے کے لیے سرد جنگ کو استعمال کیا گیا اور اسٹاروارکے احمقانہ منصوبوں میں سوشلسٹ ملکوں کے وسائل کو ضایع کرا کر ان کی معیشت کو تباہ کردیا گیا، جس کا نتیجہ روس کی ٹوٹ پھوٹ کی شکل میں نکلا اور روس کی ٹوٹ پھوٹ کے ساتھ پورا سوشلسٹ بلاک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر رہ گیا۔ جو مفکر، جو دانشور، جو انسانی حقوق کے چیمپئن سوشلسٹ ملکوں میں انسانی حقوق کے حوالے سے واویلا کرتے تھے آج ان مفکرین اور دانشوروں کی زبانیں کیوں بند ہیں جب خود مغربی ملکوں کے سروے کرنے والے بتا رہے ہیں کہ اس وقت دنیا میں 71 کروڑ انسان بھوک کا شکار ہیں۔ دنیا کے غریب انسانوں کی اس قابل شرم صورتحال کے باوجود دنیا کے ملک جن میں پسماندہ ملک بھی شامل ہیں۔
اسلحے کی خریداری پر اربوں ڈالر خرچ کر رہے ہیں ابھی پچھلے دنوں امریکا نے اسرائیل سے دنیا کا سب سے بڑا دفاعی معاہدہ 38 ارب ڈالر کا کیا ہے جس کا بڑا حصہ ہتھیاروں کی خریداری پر خرچ کیا جائے گا۔
یہ حقیقت ہمیشہ پس پردہ رہتی ہے کہ دنیا بھر میں اسلحے کی تیاری اور تجارت کا کام ایک منظم منصوبہ بندی کے ساتھ کیا جاتا ہے جس میں بڑے بڑے ماہرین کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں جو مختلف ملکوں کے درمیان ایسے مسائل پیدا کردیتے ہیں کہ کشیدگی پیدا ہوجاتی ہے اور جب کشیدگی پیدا ہوجاتی ہے تو اس کا حل بھاری ہتھیاروں کی خریداری میں تلاش کیا جاتا ہے۔ یوں وہ دولت جسے غربت اور بھوک کے خاتمے کے لیے استعمال ہونا چاہیے وہ ہتھیاروں کی خریداری پر صرف کردی جاتی ہے۔
حیرت اور شرم کی بات ہے کہ کسی مفکر، کسی دانشور، کسی فلسفی نے اس انکشاف کے خلاف کوئی شدید ردعمل کا مظاہرہ نہیں کیا کہ خود ترقی یافتہ ملکوں کے ادارے بتا رہے ہیں کہ اس وقت 71 کروڑ انسان بھوک کا شکار ہیں۔ بھارت، پاکستان کا شمار دنیا کے پسماندہ ترین ملکوں میں ہوتا ہے۔ جہاں کی 50 فیصد آبادی غربت کی لکیرکے نیچے زندگی گزار رہی ہے ان ملکوں کو ایک احمقانہ مسئلے کے حوالے سے 69 سالوں سے برسر پیکار کردیا گیا ہے۔
مسئلہ کشمیر ہو یا مسئلہ فلسطین یہ مسائل آسانی سے حل ہوسکتے ہیں۔ بشرطیکہ دنیا کے بڑے ملک انھیں حل کرنا چاہیں لیکن ان انسان دشمن بڑے اور ترقی یافتہ ملکوں کے سیاسی اور اقتصادی مفادات کا تقاضا یہی ہے کہ یہ مسئلے ہمیشہ نہ صرف حل طلب رہیں بلکہ ان مسئلوں کی وجہ سے کشیدگی بڑھتی رہے اور ہتھیاروں کی طلب میں اضافہ ہوتا رہے تاکہ مغرب کی ہتھیاروں کی صنعت ترقی کرتی رہے اور اس صنعت میں سرمایہ لگانے والے سرمایہ کار اربوں ڈالر کماتے رہیں۔
انٹرنیشنل فوڈ پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ نے کہا ہے کہ بھوک کا خاتمے کرنے کا ہدف تب ہی حاصل ہوسکتا ہے جب سیاسی طور پر اس کے حصول کی کوشش کی جائے اور جنگ وجدل کا خاتمہ ہو۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سیاسی طور پر بھوک کے خاتمے کا ہدف کیوں حاصل نہیں ہو پا رہا ہے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ دنیا بھرکے سیاستدانوں کے ذہنوں میں کوٹ کوٹ کر قومی مفاد کا عیارانہ فلسفہ اس طرح ٹھونس دیا گیا ہے کہ وہ اس کے آگے نہ دیکھ سکتے ہیں نہ سوچ سکتے ہیں۔ جب صورتحال یہ ہو تو سیاسی طور پر بھوک کے خاتمے کا ہدف کس طرح حاصل کیا جاسکتا ہے۔
عملاً دنیا بھر کے سیاستدان دانستہ یا نادانستہ سرمایہ دارانہ نظام کے دلال بن چکے ہیں اور سرمایہ دارانہ نظام کی زندگی کا دارومدار جنگ وجدل پر ہے۔ یہ ایسی گمبھیر اور تشویشناک صورتحال ہے کہ اس سے نجات کے لیے دانشورانہ سطح پر ایک منظم اور منصوبہ بند تحریک چلانے کی ضرورت ہے جس میں بھوک کے اسباب اور اس میں سرمایہ دارانہ نظام کے کردار کو اجاگرکیا جائے لیکن یہ کام کرے گا کون؟
انٹرنیشنل فوڈ پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے بھوک کے شکار ملکوں کی فہرست جاری کی گئی ہے۔ رپورٹ میں 118 ممالک شامل ہیں پاکستان کا نمبر 107 ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غذا کی کمی کے حوالے سے پاکستان کی صورت حال انتہائی تشویشناک ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق پاکستان کے علاوہ صرف 11 ممالک ایسے ہیں جہاں بھوک کا تناسب زیادہ ہے۔ پاکستان 118 ممالک میں گیارہویں نمبر پر ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے کافی موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت کی صورتحال پاکستان سے بہتر ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا کے 70 کروڑ 95 لاکھ انسان بھوک کا شکار ہیں۔ اسی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آبادی کا 22 فیصد حصہ غذا کی کمی کا شکار ہے دنیا کے 8.1 فیصد بچے پانچ سال سے کم عمری میں بھوک کی وجہ سے موت کا شکارہوجاتے ہیں۔
بھارت، انڈونیشیا، نائیجیریا سمیت 43 ممالک بھی تشویشناک کیٹیگری میں شامل ہیں۔ 2030 تک دنیا سے بھوک کا خاتمہ کرنے کا ہدف تب ہی حاصل ہوگا جب سیاسی طور پراس کے حصول کی کوشش کی جائے اور جنگ وجدل کا خاتمہ ہو۔ ترقی یافتہ ملکوں میں بہت سارے ادارے مختلف مسائل پر سروے کا کام انجام دیتے ہیں، ایسے ہی اداروں کے سروے کے مطابق پاکستان اور بھارت سمیت کئی پسماندہ ملکوں کے 50 فیصد سے زیادہ ملک غربت کی لکیرکے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔
مغربی ممالک سے بعض ایسے کتابچے بھی شایع ہوتے ہیں جن میں دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست شامل ہوتی ہے۔ دنیا کے امیر ترین انسانوں میں بل گیٹس کا نام سرفہرست رہا ہے۔ بل گیٹس کی دولت کا اندازہ لگ بھگ 75 ارب ڈالر رہا ہے اور بھی کئی امیر ترین لوگ دنیا میں موجود ہیں جن کی دولت 50 اور 70 ارب ڈالر کے درمیان ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سابق سوشلسٹ ملک چین بھی ان ممالک میں شامل ہوگیا ہے جہاں دنیا کے امیر ترین لوگ اگ رہے ہیں ایسا اس لیے ہو رہا ہے کہ چین سمیت سابق سوشلسٹ ملکوں نے سوشلسٹ معیشت کو ترک کرکے سرمایہ دارانہ معیشت اختیارکرلی ہے اور سرمایہ دارانہ نظام دنیا کے انسانوں کو طبقات میں تقسیم کردیتا ہے۔ اس تقسیم کا المناک پہلو یہ ہے کہ دنیا کے 80 فیصد سے زیادہ انسان دو وقت کی روٹی سے محتاج ہیں کیونکہ دنیا کے چند بل گیٹس 70-80 ارب ڈالر کے مالک بنے بیٹھے ہیں۔
سوشلسٹ معیشت رکھنے والے ملکوں میں بھوک بیماری بے روزگاری جیسی لعنتوں کا خاتمہ ہوگیا تھا۔ جرائم کا نام و نشان مٹ گیا تھا۔ امن وامان سوشلسٹ ملکوں میں لازمی ضرورت بنا ہوا تھا اور یہ سب اس لیے ممکن ہوا تھا کہ ان ملکوں میں معاشی ناانصافیوں کی جڑ نجی ملکیت کے گلے میں رسی ڈال دی گئی تھی۔ اس نظام میں بھی اصلاح کی ضرورت ہوسکتی تھی لیکن اس نظام میں اصلاح کے بجائے اسے مکمل طور پر ختم کرنے کی سازش کی گئی۔ یہ سازش دنیا کے غریب عوام نے نہیں کی بلکہ ان سرمایہ داروں نے کی جو سوشلزم کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے سخت خوفزدہ تھے جن کا سرپرست اعلیٰ امریکا تھا۔
سوشلسٹ ملکوں کو تباہ کرنے کے لیے سرد جنگ کو استعمال کیا گیا اور اسٹاروارکے احمقانہ منصوبوں میں سوشلسٹ ملکوں کے وسائل کو ضایع کرا کر ان کی معیشت کو تباہ کردیا گیا، جس کا نتیجہ روس کی ٹوٹ پھوٹ کی شکل میں نکلا اور روس کی ٹوٹ پھوٹ کے ساتھ پورا سوشلسٹ بلاک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر رہ گیا۔ جو مفکر، جو دانشور، جو انسانی حقوق کے چیمپئن سوشلسٹ ملکوں میں انسانی حقوق کے حوالے سے واویلا کرتے تھے آج ان مفکرین اور دانشوروں کی زبانیں کیوں بند ہیں جب خود مغربی ملکوں کے سروے کرنے والے بتا رہے ہیں کہ اس وقت دنیا میں 71 کروڑ انسان بھوک کا شکار ہیں۔ دنیا کے غریب انسانوں کی اس قابل شرم صورتحال کے باوجود دنیا کے ملک جن میں پسماندہ ملک بھی شامل ہیں۔
اسلحے کی خریداری پر اربوں ڈالر خرچ کر رہے ہیں ابھی پچھلے دنوں امریکا نے اسرائیل سے دنیا کا سب سے بڑا دفاعی معاہدہ 38 ارب ڈالر کا کیا ہے جس کا بڑا حصہ ہتھیاروں کی خریداری پر خرچ کیا جائے گا۔
یہ حقیقت ہمیشہ پس پردہ رہتی ہے کہ دنیا بھر میں اسلحے کی تیاری اور تجارت کا کام ایک منظم منصوبہ بندی کے ساتھ کیا جاتا ہے جس میں بڑے بڑے ماہرین کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں جو مختلف ملکوں کے درمیان ایسے مسائل پیدا کردیتے ہیں کہ کشیدگی پیدا ہوجاتی ہے اور جب کشیدگی پیدا ہوجاتی ہے تو اس کا حل بھاری ہتھیاروں کی خریداری میں تلاش کیا جاتا ہے۔ یوں وہ دولت جسے غربت اور بھوک کے خاتمے کے لیے استعمال ہونا چاہیے وہ ہتھیاروں کی خریداری پر صرف کردی جاتی ہے۔
حیرت اور شرم کی بات ہے کہ کسی مفکر، کسی دانشور، کسی فلسفی نے اس انکشاف کے خلاف کوئی شدید ردعمل کا مظاہرہ نہیں کیا کہ خود ترقی یافتہ ملکوں کے ادارے بتا رہے ہیں کہ اس وقت 71 کروڑ انسان بھوک کا شکار ہیں۔ بھارت، پاکستان کا شمار دنیا کے پسماندہ ترین ملکوں میں ہوتا ہے۔ جہاں کی 50 فیصد آبادی غربت کی لکیرکے نیچے زندگی گزار رہی ہے ان ملکوں کو ایک احمقانہ مسئلے کے حوالے سے 69 سالوں سے برسر پیکار کردیا گیا ہے۔
مسئلہ کشمیر ہو یا مسئلہ فلسطین یہ مسائل آسانی سے حل ہوسکتے ہیں۔ بشرطیکہ دنیا کے بڑے ملک انھیں حل کرنا چاہیں لیکن ان انسان دشمن بڑے اور ترقی یافتہ ملکوں کے سیاسی اور اقتصادی مفادات کا تقاضا یہی ہے کہ یہ مسئلے ہمیشہ نہ صرف حل طلب رہیں بلکہ ان مسئلوں کی وجہ سے کشیدگی بڑھتی رہے اور ہتھیاروں کی طلب میں اضافہ ہوتا رہے تاکہ مغرب کی ہتھیاروں کی صنعت ترقی کرتی رہے اور اس صنعت میں سرمایہ لگانے والے سرمایہ کار اربوں ڈالر کماتے رہیں۔
انٹرنیشنل فوڈ پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ نے کہا ہے کہ بھوک کا خاتمے کرنے کا ہدف تب ہی حاصل ہوسکتا ہے جب سیاسی طور پر اس کے حصول کی کوشش کی جائے اور جنگ وجدل کا خاتمہ ہو۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سیاسی طور پر بھوک کے خاتمے کا ہدف کیوں حاصل نہیں ہو پا رہا ہے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ دنیا بھرکے سیاستدانوں کے ذہنوں میں کوٹ کوٹ کر قومی مفاد کا عیارانہ فلسفہ اس طرح ٹھونس دیا گیا ہے کہ وہ اس کے آگے نہ دیکھ سکتے ہیں نہ سوچ سکتے ہیں۔ جب صورتحال یہ ہو تو سیاسی طور پر بھوک کے خاتمے کا ہدف کس طرح حاصل کیا جاسکتا ہے۔
عملاً دنیا بھر کے سیاستدان دانستہ یا نادانستہ سرمایہ دارانہ نظام کے دلال بن چکے ہیں اور سرمایہ دارانہ نظام کی زندگی کا دارومدار جنگ وجدل پر ہے۔ یہ ایسی گمبھیر اور تشویشناک صورتحال ہے کہ اس سے نجات کے لیے دانشورانہ سطح پر ایک منظم اور منصوبہ بند تحریک چلانے کی ضرورت ہے جس میں بھوک کے اسباب اور اس میں سرمایہ دارانہ نظام کے کردار کو اجاگرکیا جائے لیکن یہ کام کرے گا کون؟