سندھ میں امن و امان کا قیام پولیس و رینجرز کا اہم فریضہ ہے وزیر اعلیٰ
پولیس میں خالی اسامیوں پر بھرتی کا عمل جلد مکمل کیا جائے، قائم علی شاہ
صوبہ سندھ بالخصوص کراچی میں امن وامان سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس سے خطاب فوٹو: فائل
وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ کراچی سمیت صوبے بھر میں امن و امان کا قیام پولیس اور رینجرز کا اہم فریضہ ہے اور سندھ حکومت پولیس کو 200 ڈرائیورز فراہم کرے گی۔
جبکہ پولیس میں خالی اسامیوں پر بھرتی کا عمل جلد مکمل کیا جائے ۔ انھوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خبردار کیا کہ سندھ کی سرحدوں پر تمام داخلی راستوں پر نقل و حمل کے تمام ذرائع کی سختی کے ساتھ چیکنگ کی جائے تاکہ آتش گیر مادہ ، منشیات ، غیرقانونی اسلحہ و گولہ بارود کی روک تھام کی جاسکے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے جمعے کو وزیراعلیٰ ہائوس میں صوبہ سندھ بالخصوص کراچی میں امن وامان سے متعلق ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کے دوران کیا۔ اجلاس میں وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن، چیف سیکریٹری راجا محمد عباس ، آئی جی پولیس فیاض احمد لغاری ، ڈپٹی ڈی جی رینجرز بریگیڈیئر محمد رفیق خان ، ایڈیشنل آئی جی پولیس کراچی اقبال محمود، ایڈیشنل آئی جی (سی آئی ڈی)، ایڈیشنل آئی جی (اسپیشل برانچ) ، کراچی شرقی،غربی،جنوبی کے ڈ ی آئی جیز اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے سربراہوں نے شرکت کی۔
وزیراعلیٰ نے متعدد ٹارگیٹ کلنگ کے واقعات ، رینجرز اور پولیس اہلکاروں کے قتل اور مذہبی و لسانی بنیادوں پر ہلاکتوں کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے صورتحال سینمٹنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کی ہدایت کی ۔انھوں نے کہا کہ مجرموں اور دہشت گرد عناصر ، کلرز، بھتہ مافیا اور اغواکنندگان کی مذموم سرگرمیوں پر کڑی نگاہ رکھی جائے اور پیٹرولنگ میں مزیداضافہ کیا جائے۔ انھوں نے آئی جی پولیس سندھ کو ہدایت کی کہ وہ پولیس فورس اور گاڑیوں کی ضرورت کے سلسلے میں پلان مرتب کریں جسے پور ا کیا جائیگا۔ آئی جی پولیس نے اجلاس کو بتایا کہ کراچی شہر میں186گاڑیاں گشت پر مامور ہیں ، جبکہ100 نئی گاڑیاں اور 1300 جوان سندھ پولیس میں شامل کیے گئے ہیں۔
جبکہ پولیس میں خالی اسامیوں پر بھرتی کا عمل جلد مکمل کیا جائے ۔ انھوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خبردار کیا کہ سندھ کی سرحدوں پر تمام داخلی راستوں پر نقل و حمل کے تمام ذرائع کی سختی کے ساتھ چیکنگ کی جائے تاکہ آتش گیر مادہ ، منشیات ، غیرقانونی اسلحہ و گولہ بارود کی روک تھام کی جاسکے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے جمعے کو وزیراعلیٰ ہائوس میں صوبہ سندھ بالخصوص کراچی میں امن وامان سے متعلق ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کے دوران کیا۔ اجلاس میں وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن، چیف سیکریٹری راجا محمد عباس ، آئی جی پولیس فیاض احمد لغاری ، ڈپٹی ڈی جی رینجرز بریگیڈیئر محمد رفیق خان ، ایڈیشنل آئی جی پولیس کراچی اقبال محمود، ایڈیشنل آئی جی (سی آئی ڈی)، ایڈیشنل آئی جی (اسپیشل برانچ) ، کراچی شرقی،غربی،جنوبی کے ڈ ی آئی جیز اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے سربراہوں نے شرکت کی۔
وزیراعلیٰ نے متعدد ٹارگیٹ کلنگ کے واقعات ، رینجرز اور پولیس اہلکاروں کے قتل اور مذہبی و لسانی بنیادوں پر ہلاکتوں کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے صورتحال سینمٹنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کی ہدایت کی ۔انھوں نے کہا کہ مجرموں اور دہشت گرد عناصر ، کلرز، بھتہ مافیا اور اغواکنندگان کی مذموم سرگرمیوں پر کڑی نگاہ رکھی جائے اور پیٹرولنگ میں مزیداضافہ کیا جائے۔ انھوں نے آئی جی پولیس سندھ کو ہدایت کی کہ وہ پولیس فورس اور گاڑیوں کی ضرورت کے سلسلے میں پلان مرتب کریں جسے پور ا کیا جائیگا۔ آئی جی پولیس نے اجلاس کو بتایا کہ کراچی شہر میں186گاڑیاں گشت پر مامور ہیں ، جبکہ100 نئی گاڑیاں اور 1300 جوان سندھ پولیس میں شامل کیے گئے ہیں۔