سیاسی صورتحال اور دور اندیشی کے تقاضے

ان ہاؤس تبدیلی یا کسی تیسری قوت کے آنے کی افواہوں کا بازار گرم ہے

۔ فوٹو: پی ٹی آئی

لاہور:
ملکی سیاسی صورتحال داخلی اور خارجی اعتبار سے خاصی پیچیدہ ہو گئی ہے مگر چشم کشا بھی ہے اگر دل کی آنکھ سے دیکھا جائے۔ ادھر تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے مابین تند و تیز الزامات کی گھن گرج سنائی دی تو دوسری طرف ہتک عزت کے دعوے اور جوابی دعوؤں سے فضا بوجھل ہے، کئی اطراف سے بلیم گیم اور جمہوری عمل پر سیاسی دباؤ جاری ہے، ساتھ ہی یہ جمہوریت کی استقامت کی سخت آزمائش کا بھی فیصلہ کن مرحلہ ہے، ملک کے فہمیدہ حلقے انگشت بدنداں ہیں کہ کل کیا ہو گا؟

قیاس آرائیوں کا طوفان اٹھا ہے، چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں، ان ہاؤس تبدیلی یا کسی تیسری قوت کے آنے کی افواہوں کا بازار گرم ہے، تاہم اس غیر معمولی دورانئے میں عدلیہ کا رد عمل بھی سامنے آ گیا ہے۔

اسلام آبادہائی کورٹ کے جج شوکت عزیز صدیقی نے دو نومبر کو ضلعی انتظامیہ اور تحریک انصاف دونوں کو شہر بند کرنے سے روکنے کا حکم دیا ہے، عدالت نے چیئرمین تحریک انصاف کو اسلام آباد بند کرنے کے بیانات پر 31 اکتوبر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر وضاحت دینے کا حکم دیا ہے، عدالت نے قرار دیا کہ عدالت ہی تھرڈ امپائر ہے۔ جب کہ پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما شاہ محمود قریشی نے استفسار کیا ہے کہ عدلیہ نے کیسے یہ اندازہ یا فرض کیا کہ ہم لوگ اسلام آباد بند کرنے جا رہے ہیں۔

ذرایع کے مطابق پی ٹی آئی اور دیگر سیاسی جماعتیں بھی عدالتوں سے رجوع کرنے کے لیے پر تول رہی ہیں۔ غرض کہ صورتحال خاصی پیچیدہ اور سیمابی ہے جب کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاست دان ہوشمندی اور سنجیدگی سے قومی معاملات اور سیاسی ایشوز پر پیش قدمی کریں، ٹکراؤ قوم و ملک کے مفاد میں ہر گز نہیں ہے، عاصمہ جہانگیر نے کہا ہے کہ سیاست دان اس شاخ کو نہ کاٹیں جس پر وہ بیٹھے ہیں، انھوں نے صائب بات کی کیونکہ جب شاخ ِجمہوریت ہی نہ رہی تو کہاں کا آشیانہ۔

بہر کیف اس عجیب دھما چوکڑی اور افراتفری میں یہ اندازہ لگانا آسان نہیں کہ سیاسی کشیدگی آخر کیا رنگ لائیگی لیکن الزامات کے شور کو مدھم کرنے کا راستہ بند نہیں، تدبر و دوراندیشی سے کام لے کر روزافزوں کشیدگی کم کی جا سکتی ہے، جسکے باعث ''کچھ نہ کچھ ہونے'' کے اندیشے قوم کی روح کو مضمحل کیے ہوئے ہیں۔

اگرچہ دھرنے کے قافلے منزل کی طرف چل پڑے ہیں جب کہ اسلام آباد میں قانون نافذ کرنے کی کارروائی بھی شروع ہو چکی ہے، پیدا شدہ گھمبیر صورتحال کے باوجود کسی بریک تھرو سے مایوس بھی نہ ہونا چاہیے، اگرچہ ایک طرف تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے مابین کرپشن کے الزامات کی گونج سنائی دیتی ہے، عمران نے شہباز سمیت قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ پر بھی نکتہ چینی کی ہے۔


دوسری طرف سیاست ہمہ جہتی بحران کی زد میں ہے لیکن قوم حکمرانوں اور حکومت سے نبرد آزما پی ٹی آئی اور دیگر سیاسی جماعتوں سے مفاہمانہ، روادارانہ اور تدبر و تحمل پر مبنی ایک منصفانہ مکالمہ کی توقع رکھے ہوئے ہے، وہ جانتی ہے کہ تصادم اور گھیراؤ جلاؤ یا غضبناکی سے کسی کو کچھ حاصل نہیں ہو گا، پی ٹی آئی کے دھرنے سے پیدا شدہ صورتحال سے احسن طریقے سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔

اس لیے آیندہ چند روز میں حالات کے ابتر اور سنگین ہونے کا انتظار نہ کیا جائے بلکہ جلتی پر پانی ڈالنے کی کوئی تدبیر ہے تو اس پر عمل کرنے میں دیر نہ لگائی جائے۔ ملک اپنی تاریخ کے ایک ناقابل یقین، حیرت ناک اور اعصاب شکن موڑ پر آ پہنچا ہے، سیاسی بلیم گیم بلا تاخیر ختم ہونی چاہیے۔ اسلام آباد میں سیاسی درجہ حرارت نکتہ عروج پر ہے اسے نیچے لانے کی سبیل ڈھونڈی جائے۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ پانامہ لیکس کے معاملہ پر سپریم کورٹ کی جانب سے کارروائی شروع کیے جانے کے بعد اب کسی دھرنے کی ضرورت باقی نہیں رہی، ادھر حکمران مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے درمیان ناراضی بتدریج کم ہو گئی ہے۔ پیپلزپارٹی نے وفاقی حکومت کو تحریک انصاف کے 2 نومبر کو اسلام آباد میں ہونے والے دھرنے اور لاک ڈاؤن پالیسی سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن تعاون کا یقین دلا دیا ہے۔

سیاست سے الگ بھی عدالتی کارروائی، ریفرنسز اور مقدمات کی سماعت جاری ہے، عدالتیں کام کر رہی ہیں، اس لیے قوم اطمینان رکھے کہ سیاستدان دانش مندی کا ثبوت دیں گے اور ملک کسی بھی مہم جوئی کی نذر نہیں ہو گا۔ امریکا نے ملکی سیاسی صورتحال کے پیش نظر کہا ہے کہ دھرنا پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے، امریکا منتخب حکومت کے ساتھ ہے۔

جو سیاسی اور فکری عناصر سازش تھیوری کے دلدادہ ہیں اور سمجھتے ہیں کہ امریکی آشیرباد سے ہی ملکی سیاسی پتے ہوا دینے لگتے ہیں ان کے لیے امریکی بیان ایک معنی خیز پیغام لیے ہوئے ہے۔ تاہم حکمرانوں کو بھارتی پینترے بازی، لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں اور اب سفارتی آداب کی پامالی کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے۔ لہٰذا داخلی استحکام نظر سے اوجھل نہیں ہونا چاہیے۔

 
Load Next Story