بھارت میں پاکستانی سفارتی اہلکار کی گرفتاری اور رہائی
بھارت نے اس سفارتی اہلکار کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک چھوڑنے کا حکم دیا
۔ فوٹو: فائل
لاہور:
ایسے وقت میں جب بھارت کنٹرول لائن ورکنگ باؤنڈری پر مسلسل اشتعال انگیزی کر رہا ہے' بھارت نے مزیداشتعال انگیزی کی ہے۔اطلاعات کے مطابق بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں تعینات پاکستانی سفارت خانے کے اہلکار کو بدھ کو دہلی پولیس نے حراست میں لیا اور ان سے پوچھ گچھ کرتے رہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستانی سفارتی افسر کو رہا کر دیا گیا تاہم بھارت نے اس سفارتی اہلکار کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک چھوڑنے کا حکم دیا اس کے ساتھ ساتھ بھارت نے پاکستان کے ہائی کمشنر کو بھی طلب کیا ۔ پاکستان نے بھارت کی جانب سے سفارتی اہلکار کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک چھوڑنے کے حکم پر شدید احتجاج کیا۔
ادھر ورکنگ باؤنڈری اور کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ جس کی وجہ سے تین شہری شہید ہوئے۔ پاکستان کی جوابی فائرنگ سے بھارتی فوج کی چار چوکیاں تباہ ہوئی ہیں اور پانچ بھارتی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔بھارت کی ان اشتعال انگیزیوںپر پاکستان مسلسل احتجاج کر رہا ہے۔
پاکستان نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کر کے شہریوں کی شہادت پر شدید احتجاج کیا۔ایسا لگتا ہے کہ بھارت نے پاکستانی سفارتی اہلکار کو گرفتار کر کے اور پاکستانی سفیر کو طلب کر کے جوابی اقدام کیا ہے۔ پاکستانی سفارتی اہلکار کی گرفتاری سراسر زیادتی ہے۔
پاکستانی سفارتی اہلکار پر جاسوسی کا الزام لگایا گیا ' پاکستان نے بھارتی الزامات کو مسترد کر دیا ہے اور اپنے سفارتی اہلکار کی حراست اور ان سے بدسلوکی پر بھارت کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ اقدام پہلے سے کشیدہ ماحول میں اضافہ کرے گا اور یہ ویانا کنونشن اور سفارتی اداب کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
سفارتی عملہ قابل احترام ہوتا ہے اور ان کے ساتھ بدتمیزی کرنا یا انھیں حراساں کرنا اور گرفتار کرنا کسی طور بھی درست طرز عمل نہیں ہے لیکن دیکھنے میں آیا ہے بھارت نہ تو بین الاقوامی سفارتی اصول و ضوابط کی کوئی پروا کرتا ہے اور نہ ہی کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری کے زمرے میں آنے والے قواعد کو خاطر میں لاتا ہے۔
بھارت دراصل پاکستان کو دباؤ میں لانے کے لیے مختلف حربے استعمال کر رہا ہے۔ کبھی وہ پاکستان کو تنہا کرنے کی بات کرتا ہے' کبھی سرجیکل اسٹرائیک کا پراپیگنڈا کرتا ہے اورکنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر مسلسل اشتعال انگیزی کر رہا ہے۔اب اس نے پاکستانی سفارتی اہلکار کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔یہ سارے اقدامات اس خطے کے امن کے لیے بھی خطرہ ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان امن کے عمل کو شروع ہونے کے امکانات کو بھی ختم کر رہا ہے۔
ایسے وقت میں جب بھارت کنٹرول لائن ورکنگ باؤنڈری پر مسلسل اشتعال انگیزی کر رہا ہے' بھارت نے مزیداشتعال انگیزی کی ہے۔اطلاعات کے مطابق بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں تعینات پاکستانی سفارت خانے کے اہلکار کو بدھ کو دہلی پولیس نے حراست میں لیا اور ان سے پوچھ گچھ کرتے رہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستانی سفارتی افسر کو رہا کر دیا گیا تاہم بھارت نے اس سفارتی اہلکار کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک چھوڑنے کا حکم دیا اس کے ساتھ ساتھ بھارت نے پاکستان کے ہائی کمشنر کو بھی طلب کیا ۔ پاکستان نے بھارت کی جانب سے سفارتی اہلکار کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک چھوڑنے کے حکم پر شدید احتجاج کیا۔
ادھر ورکنگ باؤنڈری اور کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ جس کی وجہ سے تین شہری شہید ہوئے۔ پاکستان کی جوابی فائرنگ سے بھارتی فوج کی چار چوکیاں تباہ ہوئی ہیں اور پانچ بھارتی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔بھارت کی ان اشتعال انگیزیوںپر پاکستان مسلسل احتجاج کر رہا ہے۔
پاکستان نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کر کے شہریوں کی شہادت پر شدید احتجاج کیا۔ایسا لگتا ہے کہ بھارت نے پاکستانی سفارتی اہلکار کو گرفتار کر کے اور پاکستانی سفیر کو طلب کر کے جوابی اقدام کیا ہے۔ پاکستانی سفارتی اہلکار کی گرفتاری سراسر زیادتی ہے۔
پاکستانی سفارتی اہلکار پر جاسوسی کا الزام لگایا گیا ' پاکستان نے بھارتی الزامات کو مسترد کر دیا ہے اور اپنے سفارتی اہلکار کی حراست اور ان سے بدسلوکی پر بھارت کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ اقدام پہلے سے کشیدہ ماحول میں اضافہ کرے گا اور یہ ویانا کنونشن اور سفارتی اداب کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
سفارتی عملہ قابل احترام ہوتا ہے اور ان کے ساتھ بدتمیزی کرنا یا انھیں حراساں کرنا اور گرفتار کرنا کسی طور بھی درست طرز عمل نہیں ہے لیکن دیکھنے میں آیا ہے بھارت نہ تو بین الاقوامی سفارتی اصول و ضوابط کی کوئی پروا کرتا ہے اور نہ ہی کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری کے زمرے میں آنے والے قواعد کو خاطر میں لاتا ہے۔
بھارت دراصل پاکستان کو دباؤ میں لانے کے لیے مختلف حربے استعمال کر رہا ہے۔ کبھی وہ پاکستان کو تنہا کرنے کی بات کرتا ہے' کبھی سرجیکل اسٹرائیک کا پراپیگنڈا کرتا ہے اورکنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر مسلسل اشتعال انگیزی کر رہا ہے۔اب اس نے پاکستانی سفارتی اہلکار کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔یہ سارے اقدامات اس خطے کے امن کے لیے بھی خطرہ ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان امن کے عمل کو شروع ہونے کے امکانات کو بھی ختم کر رہا ہے۔