سندھ میں بلدیاتی اداروں کے اکاؤنٹس منجمد
حکومت سندھ کے اس اچانک اور بلاوجہ فیصلے کے بعد بلدیاتی اداروں کے ملازمین میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے
۔ فوٹو؛ فائل
سندھ میں صوبائی محکمہ مالیات نے کوئی وجہ بتائے بغیر بلدیہ عظمیٰ کراچی سمیت سندھ بھر کے بلدیاتی اداروں کے اکاؤنٹس منجمد کر دیے ہیں، جس کے باعث تمام بلدیاتی امور کی انجام دہی بند ہو گئی ہے۔
حکومت سندھ کے اس اچانک اور بلاوجہ فیصلے کے بعد بلدیاتی اداروں کے ملازمین میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ مذکورہ فیصلے سے نہ صرف ہندو ملازمین کو دیوالی کے موقع پر پیشگی تنخواہوں کی ادائیگی رک گئی ہے بلکہ پنشنرز کو پنشن کی ادائیگی کا سلسلہ بھی التوا کا شکار ہو گیا ہے، نیز مریضوں کو ادویات کی فراہمی، صفائی ستھرائی، چڑیا گھر اور سفاری پارک میں جانوروں کو خوراک کی فراہمی سمیت ترقیاتی کام بھی متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔
صوبائی محکمہ مالیات کو اتنا بڑا فیصلہ کرنے سے قبل کم از کم وجوہات سے آگاہ کرنا لازم تھا تا کہ کسی بھی ابہام سے بچا جا سکتا۔ واضح رہے کہ ہندوؤں کے تہوار دیوالی کے موقع پر سندھ حکومت کی جانب سے چند روز قبل بلدیہ عظمیٰ کراچی کو 15 کروڑ روپے ہندو ملازمین کو پیشگی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے جاری کیے گئے تھے جب کہ پنشنرز کے واجبات کی ادائیگی کی پہلی قسط 7 کروڑ روپے بھی جاری کر دی گئی تھی، تاہم اکاؤنٹس منجمد ہونے کے باعث نہ تو اقلیتی ملازمین کو پیشگی تنخواہیں جاری ہو سکیں گی اور نہ ہی پنشنرز کے واجبات کی ادائیگی ممکن ہو گی۔
رقم کی موجودگی کے باوجود فنڈز منجمد کرنے کا فیصلہ لایعنی اور تشویشناک ہے، کیونکہ مذکورہ فیصلے کے نتیجے میں کراچی سمیت سندھ کے تمام ترقیاتی کام رک جائیں گے، زیر تعمیر منصوبے مزید تعطل کا شکار ہوں گے اور صحت و صفائی کی صورتحال مزید ابتر ہو جائے گی۔
سندھ بھر کے بلدیاتی ملازمین میں جو شدید تشویش پائی جاتی ہے اس کے ازالے کے لیے حکومت سندھ وضاحت کرے کہ اس اچانک فیصلے کے پیچھے آخر کیا محرکات درپیش ہیں۔ حکومت سندھ کو اس بات کا بھی ادراک ہونا چاہیے کہ بلدیاتی اداروں کی کارکردگی پر عوام ویسے بھی برہم ہیں، شہر میں صفائی ستھرائی کی جو صورتحال ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، بوڑھے پنشنرز عدم ادائیگیوں پر خودکشی پر مجبور ہیں۔
ایسے میں فنڈز منجمد کرنے کا فیصلہ نہ صرف بلدیاتی ملازمین کو اپنے ڈیوٹی سے مزید بددل کرے گا بلکہ بوڑھے و غریب پنشنرز جن کی کفالت کا واحد سہارا مہینے میں ملنے والی قلیل رقم ہے وہ اس سے بھی محروم ہو جائیں گے۔ مناسب ہو گا کہ حکومت سندھ مذکورہ فیصلے کو معطل کرتے ہوئے اکاؤنٹس کو فوراً بحال کرے۔
حکومت سندھ کے اس اچانک اور بلاوجہ فیصلے کے بعد بلدیاتی اداروں کے ملازمین میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ مذکورہ فیصلے سے نہ صرف ہندو ملازمین کو دیوالی کے موقع پر پیشگی تنخواہوں کی ادائیگی رک گئی ہے بلکہ پنشنرز کو پنشن کی ادائیگی کا سلسلہ بھی التوا کا شکار ہو گیا ہے، نیز مریضوں کو ادویات کی فراہمی، صفائی ستھرائی، چڑیا گھر اور سفاری پارک میں جانوروں کو خوراک کی فراہمی سمیت ترقیاتی کام بھی متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔
صوبائی محکمہ مالیات کو اتنا بڑا فیصلہ کرنے سے قبل کم از کم وجوہات سے آگاہ کرنا لازم تھا تا کہ کسی بھی ابہام سے بچا جا سکتا۔ واضح رہے کہ ہندوؤں کے تہوار دیوالی کے موقع پر سندھ حکومت کی جانب سے چند روز قبل بلدیہ عظمیٰ کراچی کو 15 کروڑ روپے ہندو ملازمین کو پیشگی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے جاری کیے گئے تھے جب کہ پنشنرز کے واجبات کی ادائیگی کی پہلی قسط 7 کروڑ روپے بھی جاری کر دی گئی تھی، تاہم اکاؤنٹس منجمد ہونے کے باعث نہ تو اقلیتی ملازمین کو پیشگی تنخواہیں جاری ہو سکیں گی اور نہ ہی پنشنرز کے واجبات کی ادائیگی ممکن ہو گی۔
رقم کی موجودگی کے باوجود فنڈز منجمد کرنے کا فیصلہ لایعنی اور تشویشناک ہے، کیونکہ مذکورہ فیصلے کے نتیجے میں کراچی سمیت سندھ کے تمام ترقیاتی کام رک جائیں گے، زیر تعمیر منصوبے مزید تعطل کا شکار ہوں گے اور صحت و صفائی کی صورتحال مزید ابتر ہو جائے گی۔
سندھ بھر کے بلدیاتی ملازمین میں جو شدید تشویش پائی جاتی ہے اس کے ازالے کے لیے حکومت سندھ وضاحت کرے کہ اس اچانک فیصلے کے پیچھے آخر کیا محرکات درپیش ہیں۔ حکومت سندھ کو اس بات کا بھی ادراک ہونا چاہیے کہ بلدیاتی اداروں کی کارکردگی پر عوام ویسے بھی برہم ہیں، شہر میں صفائی ستھرائی کی جو صورتحال ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، بوڑھے پنشنرز عدم ادائیگیوں پر خودکشی پر مجبور ہیں۔
ایسے میں فنڈز منجمد کرنے کا فیصلہ نہ صرف بلدیاتی ملازمین کو اپنے ڈیوٹی سے مزید بددل کرے گا بلکہ بوڑھے و غریب پنشنرز جن کی کفالت کا واحد سہارا مہینے میں ملنے والی قلیل رقم ہے وہ اس سے بھی محروم ہو جائیں گے۔ مناسب ہو گا کہ حکومت سندھ مذکورہ فیصلے کو معطل کرتے ہوئے اکاؤنٹس کو فوراً بحال کرے۔