پنشن کی بروقت ادائیگی لازم بنائی جائے

نیشنل بینک کا آئی ٹی نظام بیٹھنے سے ملازمین اور پنشنرز دن بھر رُلتے رہے۔ فوٹو؛ فائل

عمر کا ایک طویل حصہ کسی بھی ادارے کے سپرد کرنے کے بعد بزرگ ریٹائرڈ ملازمین کا گزر اوقات کے لیے واحد سہارا وہ پنشن ہوتی ہے جو انھیں پوری عمر اس ادارے میں خدمات ادا کرنے کے عوض دی جاتی ہے لیکن یہ امر نہایت قابل افسوس و مذمت ہے کہ پاکستان میں بزرگ پنشنرز کو ان کے حق کی بروقت ادائیگی میں نہ صرف تاخیر برتی جاتی ہے بلکہ پنشنرز کو درپیش مشکلات اور ہزار تکالیف کے تناظر میں ایسا لگتا ہے جیسے وہ اپنا حق نہیں خیرات وصول کرنے گئے ہوں۔

اس سلسلے میں خوش نوید ہے کہ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے پنشن کی ادائیگی میں حائل رکاوٹوں اور تاخیر کا ازخود نوٹس لے کر رپورٹ طلب کر لی ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ چیف جسٹس کے نوٹس لینے کے بعد بزرگ پنشنرز کی دادرسی میں تاخیر نہیں برتی جائے گی۔


واضح رہے کہ ازخود نوٹس جسٹس امیر ہانی کے نوٹ پر لیا گیا ہے جس میں پنشن کی بروقت ادائیگی سے متعلق عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی خلاف ورزی اور سپریم کورٹ کے ہیومن رائٹس سیل کو اس ضمن میں ملنے والی درخواستوں میں بزرگ پنشنروں کو درپیش مشکلات اور تکالیف کا ذکر کیا گیا تھا۔

پنشن کے حصول میں ریٹائرڈ ملازمین کو جن کلفتوں کا سامنا ہوتا ہے اس کا بارہا تذکرہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں کیا جاتا رہا ہے، طویل تر قطاروں میں صبح سے اپنی باری کا انتظار کرتے ضعیف و معذور پنشنرز بے ہوش اور حادثات کا شکار بھی ہوئے ہیں، پنشنروں کے لیے سہولیات کی عدم موجودگی اور اداروں کی ناقص کارکردگی کے باعث ایسے افسوسناک واقعات انسانی المیہ ہی قرار دیے جا سکتے ہیں۔

عمر کے آخری حصے میں اپنے حق کے حصول میں ناکامی بزرگ پنشنرز کو انتہائی اقدام اٹھانے پر بھی مجبور کر سکتی ہے جس کا افسوسناک مظاہرہ گزشتہ ہفتے ایک بزرگ کی خودکشی کی صورت میں سامنا آیا۔ صائب ہو گا کہ ادارے اپنا چلن درست کریں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن جو کہ ان کا قانونی حق ہے انھیں بروقت ادا کی جائے۔
Load Next Story