ٹارگٹ کنگ کی 7وارداتوں میں ایک ہی گروپ کے ملوث ہونے کا انکشاف
7 وارداتوں میں 14 افراد کو نشانہ بنایا گیا تھا، تفتیشی افسران کو فارنسک ڈویژن کی مرتب کردہ تفصیلی رپورٹس موصول.
تفتیش کا دائرہ مزید وسیع، ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران گرفتار کیے جانے ٹارگٹ کلرز سے تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں، ذرائع. فوٹو: اے ایف پی
شہر میں ٹارگٹ کلنگ کی نصف درجن سے زائد وارداتوں میں ایک ہی گروپ کے ملوث ہونے انکشاف ہوا ہے۔
تفتیشی افسران کو فارنسک ڈویژن سندھ کی مرتب کردہ تفصیلی رپورٹس موصول ہو گئیں، تفتیشی افسران نے رپورٹس کی روشنی میں تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ، ٹارگٹ کلنگ کی مذکورہ 7 وارداتوں میں14افراد کو نشانہ بنایا گیا تھا،تفصیلات کے مطابق31 اکتوبر قائد آباد میں نامعلوم مسلح موٹر سائیکل سوار ملزمان نے سیاسی جماعت کے عہدیدار سمیت 3 کارکنان محمد سلم ، یوسف زئی اورعابد ہزاروی کو قتل کر دیا تھا ، 29 نومبر کو مانسہرہ کالونی میں ناملعوم ملزمان نے ٹیکسی پر اندھا دھند فائرنگ کے کر کے مہاجر قومی موومنٹ کے 3 رہنمائوں سمیت 4 افراد کو جبکہ سچل تھانے کے علاقے گلشن کنیز فاطمہ سوسائٹی روڈ پر نامعلوم افراد نے کار پر فائرنگ کر کے اقبال حسن اور ان کی اہلیہ دلشاد فاطمہ کو ہلاک کیا تھا۔
30 نومبر کو فیروز آباد تھانے کے علاقے جیل روڈ پر واقع ہیپی ہوم اسکول کے قریب نامعلوم مسلح ملزمان نے کار پر فائرنگ کر کے پی سی ایچ ایس بلاک 3 کے رہائشی نذر عباس کو ہلاک جبکہ ان کی بیٹی کو زخمی کیا تھا،3دسمبر کو سچل تھانے کے علاقے ابوالحسن اصفحانی روڈ پر نامعلوم مسلح افراد نے کار پر فائرنگ کے نتیجے میں مدرسہ احسن العلوم اور استاد حدیث مولانا محمد اسماعیل کو جاں بحق کر دیا تھا جبکہ اسی روز سچل کے علاقے سپر ہائی وے نزد نیو پل کے قریب سے گلشن اقبال بلاک3 کے رہائشی اور متحدہ آرگنائزنگ کمیٹی کے2 کارکنوں کو اغوا کے بعد فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔
10 دسمبر کو رضویہ تھانے کی حدود میں نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کر کے بم ڈسپوزل اسکواڈ کے اہلکار سید علی عباس نقوی کے قتل کیا تھا، ٹارگٹ کی کلنگ کی ان 7 وارداتوں میں 14 افراد کو نشانہ بنایا گیا ، ذرائع کے مطابق ان ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں پولیس کو جائے وقوع سے 9 ایم ایم پستول ، 30 بور اور 32 بور پستول کے خالی خول ملے تھے جنھیں پولیس نے اپنی تحویل میں لینے کے بعد جانچ کے لیے فارنسک ڈویژن بھجوا دیے تھے جہاں ان گولیوں کے خالی خولوں کا تجزیہ کرنے کے بعد تفتیشی افسران کو فارنسک ڈویژن سندھ کی مرتب کردہ تفصیلی رپورٹ ارسال کر دی گئی جس کی روشنی میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ ٹارگٹ کلنگ کی ان 7 وارداتوں میں ایک ہی گروپ ملوث ہے۔
تفتیشی افسران نے فارنسک ڈویژن کی مرتب کردہ رپورٹ کے روشنی میں تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے حالیہ دنوں میں پولیس اور رینجرز کے ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران گرفتار کیے جانے ٹارگٹ کلرز سے مذکورہ وارداتوں کے حوالے سے تحقیقات اور ان کے گروہ میں شامل دیگر ملزمان کے بارے میں باریک بینی سے تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں جبکہ جیلوں میں قید اجرتی قاتلوں سے بھی ٹارگٹ کلر گروپ کے حوالے سے معلومات حاصل کرنے کے لیے حکمت ترتیب دی جا رہی ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ گروہ میں شامل افراد نے متحدہ قومی موومنٹ ، مہاجر قومی موومنٹ ، عوامی نیشنل پارٹی ، اہل تشیع اور اہلسنت و الجماعت سے تعلق رکھنے والے افراد کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا ہے جس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مذکورہ گروپ شہر میں خوف و ہراس پھیلا کر ایک دوسرے کو لڑانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
تفتیشی افسران کو فارنسک ڈویژن سندھ کی مرتب کردہ تفصیلی رپورٹس موصول ہو گئیں، تفتیشی افسران نے رپورٹس کی روشنی میں تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ، ٹارگٹ کلنگ کی مذکورہ 7 وارداتوں میں14افراد کو نشانہ بنایا گیا تھا،تفصیلات کے مطابق31 اکتوبر قائد آباد میں نامعلوم مسلح موٹر سائیکل سوار ملزمان نے سیاسی جماعت کے عہدیدار سمیت 3 کارکنان محمد سلم ، یوسف زئی اورعابد ہزاروی کو قتل کر دیا تھا ، 29 نومبر کو مانسہرہ کالونی میں ناملعوم ملزمان نے ٹیکسی پر اندھا دھند فائرنگ کے کر کے مہاجر قومی موومنٹ کے 3 رہنمائوں سمیت 4 افراد کو جبکہ سچل تھانے کے علاقے گلشن کنیز فاطمہ سوسائٹی روڈ پر نامعلوم افراد نے کار پر فائرنگ کر کے اقبال حسن اور ان کی اہلیہ دلشاد فاطمہ کو ہلاک کیا تھا۔
30 نومبر کو فیروز آباد تھانے کے علاقے جیل روڈ پر واقع ہیپی ہوم اسکول کے قریب نامعلوم مسلح ملزمان نے کار پر فائرنگ کر کے پی سی ایچ ایس بلاک 3 کے رہائشی نذر عباس کو ہلاک جبکہ ان کی بیٹی کو زخمی کیا تھا،3دسمبر کو سچل تھانے کے علاقے ابوالحسن اصفحانی روڈ پر نامعلوم مسلح افراد نے کار پر فائرنگ کے نتیجے میں مدرسہ احسن العلوم اور استاد حدیث مولانا محمد اسماعیل کو جاں بحق کر دیا تھا جبکہ اسی روز سچل کے علاقے سپر ہائی وے نزد نیو پل کے قریب سے گلشن اقبال بلاک3 کے رہائشی اور متحدہ آرگنائزنگ کمیٹی کے2 کارکنوں کو اغوا کے بعد فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔
10 دسمبر کو رضویہ تھانے کی حدود میں نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کر کے بم ڈسپوزل اسکواڈ کے اہلکار سید علی عباس نقوی کے قتل کیا تھا، ٹارگٹ کی کلنگ کی ان 7 وارداتوں میں 14 افراد کو نشانہ بنایا گیا ، ذرائع کے مطابق ان ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں پولیس کو جائے وقوع سے 9 ایم ایم پستول ، 30 بور اور 32 بور پستول کے خالی خول ملے تھے جنھیں پولیس نے اپنی تحویل میں لینے کے بعد جانچ کے لیے فارنسک ڈویژن بھجوا دیے تھے جہاں ان گولیوں کے خالی خولوں کا تجزیہ کرنے کے بعد تفتیشی افسران کو فارنسک ڈویژن سندھ کی مرتب کردہ تفصیلی رپورٹ ارسال کر دی گئی جس کی روشنی میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ ٹارگٹ کلنگ کی ان 7 وارداتوں میں ایک ہی گروپ ملوث ہے۔
تفتیشی افسران نے فارنسک ڈویژن کی مرتب کردہ رپورٹ کے روشنی میں تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے حالیہ دنوں میں پولیس اور رینجرز کے ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران گرفتار کیے جانے ٹارگٹ کلرز سے مذکورہ وارداتوں کے حوالے سے تحقیقات اور ان کے گروہ میں شامل دیگر ملزمان کے بارے میں باریک بینی سے تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں جبکہ جیلوں میں قید اجرتی قاتلوں سے بھی ٹارگٹ کلر گروپ کے حوالے سے معلومات حاصل کرنے کے لیے حکمت ترتیب دی جا رہی ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ گروہ میں شامل افراد نے متحدہ قومی موومنٹ ، مہاجر قومی موومنٹ ، عوامی نیشنل پارٹی ، اہل تشیع اور اہلسنت و الجماعت سے تعلق رکھنے والے افراد کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا ہے جس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مذکورہ گروپ شہر میں خوف و ہراس پھیلا کر ایک دوسرے کو لڑانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔