اسمبلی کیلیے زمین کا حصولحکومتی نوٹیفکیشن کیخلاف درخواست
زمین لیز شدہ ہے،صوبائی حکومت کو زمین کے فیصلے کا اختیا رنہیں، درخواست گزار.
رن وے کی تعمیر کیلیے ریتی بجری اٹھانے سے روکنے کیخلاف درخواست پر نوٹس جاری
وفاقی حکومت نے سندھ اسمبلی کی عمارت کیلیے زمین حاصل کرنے کے حکومتی اقدامات کے خلاف سندھ ہائیکورٹ میں زیر سماعت آئینی درخواست پر جواب طلب کرنے کیلیے مہلت طلب کرلی۔
درخواست رنگون والا فائونڈیشن اور دیگر8 افراد کی جانب سے دائر آئینی درخواست میں ملٹری اسٹیٹ افسرکراچی، ڈی سی سائوتھ اور ڈی ڈی او ریونیو صدر ٹائون کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ڈی سی سائوتھ نے 13دسمبر کو ایک مراسلہ جاری کیا ہے جس میں سندھ اسمبلی کی نئی عمارت کی تعمیر کیلیے 2280 مربع گز اراضی خالی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ،درخواست گزاروں کے مطابق جو زمین سندھ اسمبلی کے لیے طلب کی جارہی ہے وہ لیز شدہ زمین ہے اور درخواست گزاروں نے یہ زمین وفاقی حکومت اور ملٹری اسٹیٹ افسرکراچی سے ستمبر 2024 تک کی لیز پرحاصل کی ہے۔
صوبائی حکومت کو وفاقی حکومت کی زمین کے متعلق فیصلہ کرنے کا اختیا رنہیں ، ڈپٹی کمشنر کراچی جنوبی نے زمین خالی کرنے کیلیے15دن کی مہلت دی ہے، بے دخلی کا حکم معطل کیا جائے اور درخواست کے حتمی فیصلے تک حکم امتناع جاری کیا جائے۔
دریں اثنا سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے ریتی اور بجری کے حصول میں رکاوٹیں ڈالنے کے خلاف دائر درخواست پر18 دسمبرکو نوٹس جاری کرتے ہوئے درخواست گزار کو ہدایت کی ہے کہ درخواست میں سیکریٹری دفاع ،سیکریٹری داخلہ،پی اے ایف بیس فیصل اور کورنگی کریک کے کمانڈنگ افسروں کو بھی فریق بنایا جائے ،کنٹریکٹر سید خاور عباس کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کو کورنگی کریک میں بعض تعمیرات اور کا ٹھیکہ دیا گیاہے۔
تاہم تعمیرات کیلیے ریتی و بجری ملیر ندی سے اٹھانے کی کوشش کی گئی جس کی اجازت بھی حاصل کرلی گئی تھی مگر ڈی جی مائینز اینڈ منرلزاور دیگر مدعا علیہان کی جانب سے رکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں،عدالت نے ایڈوکیٹ جنرل سندھ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 18دسمبر کو تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے۔
درخواست رنگون والا فائونڈیشن اور دیگر8 افراد کی جانب سے دائر آئینی درخواست میں ملٹری اسٹیٹ افسرکراچی، ڈی سی سائوتھ اور ڈی ڈی او ریونیو صدر ٹائون کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ڈی سی سائوتھ نے 13دسمبر کو ایک مراسلہ جاری کیا ہے جس میں سندھ اسمبلی کی نئی عمارت کی تعمیر کیلیے 2280 مربع گز اراضی خالی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ،درخواست گزاروں کے مطابق جو زمین سندھ اسمبلی کے لیے طلب کی جارہی ہے وہ لیز شدہ زمین ہے اور درخواست گزاروں نے یہ زمین وفاقی حکومت اور ملٹری اسٹیٹ افسرکراچی سے ستمبر 2024 تک کی لیز پرحاصل کی ہے۔
صوبائی حکومت کو وفاقی حکومت کی زمین کے متعلق فیصلہ کرنے کا اختیا رنہیں ، ڈپٹی کمشنر کراچی جنوبی نے زمین خالی کرنے کیلیے15دن کی مہلت دی ہے، بے دخلی کا حکم معطل کیا جائے اور درخواست کے حتمی فیصلے تک حکم امتناع جاری کیا جائے۔
دریں اثنا سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے ریتی اور بجری کے حصول میں رکاوٹیں ڈالنے کے خلاف دائر درخواست پر18 دسمبرکو نوٹس جاری کرتے ہوئے درخواست گزار کو ہدایت کی ہے کہ درخواست میں سیکریٹری دفاع ،سیکریٹری داخلہ،پی اے ایف بیس فیصل اور کورنگی کریک کے کمانڈنگ افسروں کو بھی فریق بنایا جائے ،کنٹریکٹر سید خاور عباس کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کو کورنگی کریک میں بعض تعمیرات اور کا ٹھیکہ دیا گیاہے۔
تاہم تعمیرات کیلیے ریتی و بجری ملیر ندی سے اٹھانے کی کوشش کی گئی جس کی اجازت بھی حاصل کرلی گئی تھی مگر ڈی جی مائینز اینڈ منرلزاور دیگر مدعا علیہان کی جانب سے رکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں،عدالت نے ایڈوکیٹ جنرل سندھ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 18دسمبر کو تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے۔