ہوش مندی کی ضرورت
حالات کا تقاضا تو یہ ہے کہ ٹکراؤ اور گھیراؤ جلاؤ سے گریزکی پالیسی اختیار کی جائے لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا
LOS ANGELES:
ملک کی سیاسی صورتحال بدستور کشیدہ اور پیچیدہ بنی ہوئی ہے۔ تحریک انصاف کا 2نومبر کو دھرنا ہے اور کسی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت انتظامی اقدامات کر رہی ہے۔ تحریک انصاف کے کارکنوں کی گرفتاریاں اور سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
اسی دوران ایک خبر کے معاملے پر پرویز رشید سے وزارت اطلاعات کا قلمدان واپس لے لیا گیا ہے' ادھر عمران خان اور پی ٹی آئی کے دیگر لیڈر وزیراعظم اور حکومت کے خلاف مسلسل سخت زبان استعمال کر رہے ہیں۔ حکومت تحریک انصاف کے 2نومبر کے دھرنے کو روکنے کے لیے اسلام آباد' راولپنڈی اور دیگر شہروں میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے' گزشتہ روز اسلام آباد' پشاور موٹر وے پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں جس پر خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے شدید ردعمل کا اظہار کیا، پھر وزیر داخلہ چوہدری نثار علی کی مداخلت پر یہ رکاوٹیں ہٹائی گئی ہیں۔
ان روکاوٹوں کی وجہ سے گزشتہ روز ایک ناخوشگوار حادثہ بھی ہواجس میں پاک فوج کے ایک لیفٹیننٹ کرنل شہید ہو گئے۔ وہ موٹروے پر رکاوٹیں ہونے کے باعث اپنے ساتھیوں کے ہمراہ متبادل راستہ تلاش کر رہے تھے کہ ایک کھائی میں گر گئے۔ اسلام آباد' پشاور موٹروے پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کے ایشو پر خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے وزیراعظم اور وفاقی حکومت کے خلاف سخت بیان دیا جس پر اتوار کو وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے بھی ان کے بیانات پر خاصا سخت ردعمل دیا اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ادھر وزیراعظم میاں نواز شریف نے گزشتہ روز لاہور سے تقریباً 50 کلو میٹر دور ضلع قصور کے قصبے پھولنگر میں خطاب کیا اور سیاسی مخالفین پر تنقید کی۔ انھوں نے کہا کہ جب ہم فوجی آمروں کی جیلیں کاٹ رہے تھے' ہمارے مخالفین جعلی ریفرنڈم کے حق میں مہم چلا رہے تھے' انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی بلکہ اگلی حکومت بھی ان کی ہی ہو گی۔
اس منظرنامے کو غور سے دیکھا جائے تو کہیں بھی افہام و تفہیم کا عنصر نظر نہیں آتا بلکہ حالات زیادہ گمبھیر ہوتے نظر آتے ہیں۔ لہٰذا فہمیدہ حلقے اس بات پر تشویش میں مبتلا ہیں کہ اس ساری کھینچا تانی اور کشیدگی کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ گزشتہ روز میڈیا کی اطلاعات کے مطابق پشاور سے اسلام آباد کی طرف آنے والی ایک گاڑی سے بھاری مقدار میں اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔ یہ اطلاعات یقیناً تشویشناک ہیں' ان حالات میں اسلام آباد میں اسلحہ کی آمد خطرناک ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جب افراتفری اور انتشار کی صورت حال ہو گی تو اس میں شرپسند عناصر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
تحریک انصاف احتجاج کر رہی ہے کہ جلسہ کرنا' جلوس نکالنا اور دھرنا دینا اس کا حق ہے اور اس کے کارکن پورے ملک سے آ رہے ہیں لیکن حکومت انھیں گرفتار کر رہی ہے۔ یہ موقف اصولی طور پر درست ہے لیکن اسلام آباد میں یوتھ کنونشن کے موقع پر پولیس نے پی ٹی آئی کے کارکنوں پر تشدد کیا اور کئی گرفتار کر لیے گئے' اس کے بعد راولپنڈی میں یہی کچھ ہوا' سیاست میں جب تشدد کا عنصر داخل ہوتا ہے تو اس کا نتیجہ کبھی اچھا نہیں نکلتا۔1977ء کی تحریک کو تمام سیاستدانوں کو مدنظر رکھنا چاہیے' یہ تحریک پر تشدد ہوئی اور اس کے نتیجے میں ذوالفقار علی بھٹو کی جمہوری حکومت کا خاتمہ ہو گیا' یوں پاکستان قومی اتحاد کو بھی کچھ نہ ملا اور وہ اتحاد بکھر گیا جب کہ ملک 11سال تک آمریت کے زیر سایہ چلا گیا' اس صورت حال کو ضروری سامنے رکھنا چاہیے۔
حالات خاصے سنگین اشارے دے رہے ہیں' ایک جانب حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تناؤ ہے اور اس کے آثار واضح ہیں اور دوسری جانب ملک میں جاری سیاسی محاذ آرائی ہے' ایسے میں حالات کا تقاضا تو یہ ہے کہ ٹکراؤ اور گھیراؤ جلاؤ سے گریزکی پالیسی اختیار کی جائے لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے' پاناما لیکس کا ایشو سپریم کورٹ میں ہے' دیگر معاملات بھی عدالت کے پاس ہیں لیکن ملک میں سیاسی محاذ آرائی کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے جو ملک و قوم کے لیے کسی صورت سود مند نہیں ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ موجود غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے اور اس کے ساتھ خوشگوار تعلق قائم کرے۔ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد انتہائی ضروری ہے' اس پر عملدرآمد کے لیے اپنے اپنے مفادات سے پیچھے ہٹنے کی ضرورت ہے۔ ادھر حکومت اور تحریک انصاف کو بھی حالات کی سنگینی کا احساس کرنا چاہیے۔
احتجاج کا مطلب جنگ نہیں ہوتا' اس نکتے کو وفاقی حکومت اور تحریک انصاف دونوں کو سوچنا چاہیے' ملک کی سالمیت اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کو اولیت حاصل ہونا چاہیے' احتجاج آئین و قانون کے تناظر میں جمہوری دائرے میں رہنا چاہیے اور حکومت کو بھی بے جا سختی سے گریز کرنا چاہیے' اس مقصد کے لیے دونوں فریقوں کو معاملات طے کر لینے چاہئیں تاکہ 2نومبر کا دن خوش اسلوبی سے گزر جائے' تحریک انصاف کا دھرنا ہو اور کوئی تصادم بھی نہ ہو' افہام و تفہیم جلد ہونی چاہیے۔ ایسا نہ ہو کہ دیر ہو جائے لہٰذا سب کو ہوش مندی کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔
ملک کی سیاسی صورتحال بدستور کشیدہ اور پیچیدہ بنی ہوئی ہے۔ تحریک انصاف کا 2نومبر کو دھرنا ہے اور کسی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت انتظامی اقدامات کر رہی ہے۔ تحریک انصاف کے کارکنوں کی گرفتاریاں اور سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
اسی دوران ایک خبر کے معاملے پر پرویز رشید سے وزارت اطلاعات کا قلمدان واپس لے لیا گیا ہے' ادھر عمران خان اور پی ٹی آئی کے دیگر لیڈر وزیراعظم اور حکومت کے خلاف مسلسل سخت زبان استعمال کر رہے ہیں۔ حکومت تحریک انصاف کے 2نومبر کے دھرنے کو روکنے کے لیے اسلام آباد' راولپنڈی اور دیگر شہروں میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے' گزشتہ روز اسلام آباد' پشاور موٹر وے پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں جس پر خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے شدید ردعمل کا اظہار کیا، پھر وزیر داخلہ چوہدری نثار علی کی مداخلت پر یہ رکاوٹیں ہٹائی گئی ہیں۔
ان روکاوٹوں کی وجہ سے گزشتہ روز ایک ناخوشگوار حادثہ بھی ہواجس میں پاک فوج کے ایک لیفٹیننٹ کرنل شہید ہو گئے۔ وہ موٹروے پر رکاوٹیں ہونے کے باعث اپنے ساتھیوں کے ہمراہ متبادل راستہ تلاش کر رہے تھے کہ ایک کھائی میں گر گئے۔ اسلام آباد' پشاور موٹروے پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کے ایشو پر خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے وزیراعظم اور وفاقی حکومت کے خلاف سخت بیان دیا جس پر اتوار کو وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے بھی ان کے بیانات پر خاصا سخت ردعمل دیا اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ادھر وزیراعظم میاں نواز شریف نے گزشتہ روز لاہور سے تقریباً 50 کلو میٹر دور ضلع قصور کے قصبے پھولنگر میں خطاب کیا اور سیاسی مخالفین پر تنقید کی۔ انھوں نے کہا کہ جب ہم فوجی آمروں کی جیلیں کاٹ رہے تھے' ہمارے مخالفین جعلی ریفرنڈم کے حق میں مہم چلا رہے تھے' انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی بلکہ اگلی حکومت بھی ان کی ہی ہو گی۔
اس منظرنامے کو غور سے دیکھا جائے تو کہیں بھی افہام و تفہیم کا عنصر نظر نہیں آتا بلکہ حالات زیادہ گمبھیر ہوتے نظر آتے ہیں۔ لہٰذا فہمیدہ حلقے اس بات پر تشویش میں مبتلا ہیں کہ اس ساری کھینچا تانی اور کشیدگی کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ گزشتہ روز میڈیا کی اطلاعات کے مطابق پشاور سے اسلام آباد کی طرف آنے والی ایک گاڑی سے بھاری مقدار میں اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔ یہ اطلاعات یقیناً تشویشناک ہیں' ان حالات میں اسلام آباد میں اسلحہ کی آمد خطرناک ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جب افراتفری اور انتشار کی صورت حال ہو گی تو اس میں شرپسند عناصر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
تحریک انصاف احتجاج کر رہی ہے کہ جلسہ کرنا' جلوس نکالنا اور دھرنا دینا اس کا حق ہے اور اس کے کارکن پورے ملک سے آ رہے ہیں لیکن حکومت انھیں گرفتار کر رہی ہے۔ یہ موقف اصولی طور پر درست ہے لیکن اسلام آباد میں یوتھ کنونشن کے موقع پر پولیس نے پی ٹی آئی کے کارکنوں پر تشدد کیا اور کئی گرفتار کر لیے گئے' اس کے بعد راولپنڈی میں یہی کچھ ہوا' سیاست میں جب تشدد کا عنصر داخل ہوتا ہے تو اس کا نتیجہ کبھی اچھا نہیں نکلتا۔1977ء کی تحریک کو تمام سیاستدانوں کو مدنظر رکھنا چاہیے' یہ تحریک پر تشدد ہوئی اور اس کے نتیجے میں ذوالفقار علی بھٹو کی جمہوری حکومت کا خاتمہ ہو گیا' یوں پاکستان قومی اتحاد کو بھی کچھ نہ ملا اور وہ اتحاد بکھر گیا جب کہ ملک 11سال تک آمریت کے زیر سایہ چلا گیا' اس صورت حال کو ضروری سامنے رکھنا چاہیے۔
حالات خاصے سنگین اشارے دے رہے ہیں' ایک جانب حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تناؤ ہے اور اس کے آثار واضح ہیں اور دوسری جانب ملک میں جاری سیاسی محاذ آرائی ہے' ایسے میں حالات کا تقاضا تو یہ ہے کہ ٹکراؤ اور گھیراؤ جلاؤ سے گریزکی پالیسی اختیار کی جائے لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے' پاناما لیکس کا ایشو سپریم کورٹ میں ہے' دیگر معاملات بھی عدالت کے پاس ہیں لیکن ملک میں سیاسی محاذ آرائی کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے جو ملک و قوم کے لیے کسی صورت سود مند نہیں ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ موجود غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے اور اس کے ساتھ خوشگوار تعلق قائم کرے۔ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد انتہائی ضروری ہے' اس پر عملدرآمد کے لیے اپنے اپنے مفادات سے پیچھے ہٹنے کی ضرورت ہے۔ ادھر حکومت اور تحریک انصاف کو بھی حالات کی سنگینی کا احساس کرنا چاہیے۔
احتجاج کا مطلب جنگ نہیں ہوتا' اس نکتے کو وفاقی حکومت اور تحریک انصاف دونوں کو سوچنا چاہیے' ملک کی سالمیت اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کو اولیت حاصل ہونا چاہیے' احتجاج آئین و قانون کے تناظر میں جمہوری دائرے میں رہنا چاہیے اور حکومت کو بھی بے جا سختی سے گریز کرنا چاہیے' اس مقصد کے لیے دونوں فریقوں کو معاملات طے کر لینے چاہئیں تاکہ 2نومبر کا دن خوش اسلوبی سے گزر جائے' تحریک انصاف کا دھرنا ہو اور کوئی تصادم بھی نہ ہو' افہام و تفہیم جلد ہونی چاہیے۔ ایسا نہ ہو کہ دیر ہو جائے لہٰذا سب کو ہوش مندی کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔