خطے میں دہشت گردی اور امریکا

آپریشن ضرب عضب کے باعث شمالی وزیرستان میں شکست کھانے کے بعد دہشت گردوں نے بلوچستان کو اپنی محفوظ گاہ بنا لیا ہے

۔ فوٹو:اے ایف پی/فائل

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے واشنگٹن میں پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ میں پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملے میں داعش کے ملوث ہونے کی بات قبل از وقت ہے' ابھی پاکستانی ادارے اس حوالے سے تحقیقات کر رہے ہیں اس لیے اس بارے میں کوئی رائے قائم نہیں کی جا سکتی۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق کوئٹہ میں ہونے والے حملے میں بھارت اور افغانستان کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ بھارت ایک عرصے سے بلوچستان میں دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے' افسوسناک امر یہ ہے کہ افغانستان کی موجودہ حکومت بھی بھارت کی حمایت اور پاکستان کی مخالفت میں دو ہاتھ آگے سرگرم ہے۔

پاک افغان سرحد پر ہونے والے متعدد دہشت گردی کے واقعات کے بارے میں پاکستان نے بارہا افغانستان سے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے علاقے میں موجود دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کا خاتمہ کرے کیونکہ جب تک افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے موجود ہیں تب تک علاقے میں امن قائم کرنا مشکل امر ہے۔ لیکن افغان حکومت نے ابھی تک دہشت گردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کوئی کارروائی شروع نہیں کی حتیٰ کہ پاکستان کو مطلوب دہشت گرد مولوی فضل اللہ سے بھی صرف نظر کر رکھا جو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی وارداتوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔


افغانستان میں امریکا اور نیٹو فورسز بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں ایسے میں داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کی اطلاعات آنا حیرت انگیز امر ہے۔پاکستان نے کئی بار امریکا کو بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے بارے میں متعدد بار آگاہ کیا بالخصوص کلبھوشن یادیو کے پکڑے جانے کے بعد بھارتی سازشیں منظر عام پر آ گئیں مگر امریکا نے بھارت کو کبھی پاکستان میں دہشت گردوں کی حمایت کرنے سے نہیں روکا بلکہ وہ بھارت کے ساتھ بڑے پیمانے پر دفاعی معاہدے کر اور اسے نیوکلیئر ٹیکنالوجی فراہم کر رہا ہے۔

آپریشن ضرب عضب کے باعث شمالی وزیرستان میں شکست کھانے کے بعد دہشت گردوں نے بلوچستان کو اپنی محفوظ گاہ بنا لیا ہے اس سلسلے میں بھارت اور افغانستان ان کی بھرپور معاونت کر رہے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ امریکا بھارت اور افغانستان کی پاکستان کے خلاف ان سازشوں کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کرے۔
Load Next Story