کشمیرنوجوان کی ہلاکت پرفورسزکومعاوضے کی ادائیگی کاحکم
فورسزنے بٹہ مالوکے کشمیری نوجوان طارق احمد کو ہلاک کرنے کے بعددہشتگردقراردیاتھا
فورسزنے بٹہ مالوکے کشمیری نوجوان طارق احمد کو ہلاک کرنے کے بعددہشتگردقراردیاتھا. فوٹو: اے ایف پی/ فائل
پرنسپل ڈسٹرکٹ جج سرینگر نے تاریخی فیصلے میں فورسز کواس نوجوان کے لواحقین کو 25 لاکھ روپے بطور معاوضہ اداکرنے کی ہدایت کی ہے جسے 20سال قبل ہلاک کرنے بعدجنگجو قرار دیا گیا تھا۔
پرنسپل ڈسٹرکٹ جج محمدشفیع خان نے اپنے فیصلے میں یہ بات واضح کردی ہے کہ معاوضے کی رقم متعلقہ بی ایس ایف یونٹ کوادا کرنا ہوگی، 27سالہ مقتول نوجوان کے والدعبدالکریم نے اپنے دعوے میں عدالت کوبتایاتھاکہ اس کے بیٹے کوبی ایس ایف کی چوتھی بٹالین نے شیخ دائودکالونی بٹہ مالومیں 16دسمبر 1993کو اس وقت مار دیاتھاجب وہ بینک سے گھر لوٹ رہا تھا۔
یہ کیس ابتدا میں ہائی کورٹ میں چل رہا تھا جس کے بعد اسے پرنسپل ڈسٹرکٹ جج کی عدالت میں منتقل کیاگیاتھا۔شیر گڑھی پولیس اسٹیشن میں نوجوان کی ہلاکت کے بارے میں ایک کیس زیرنمبر 114/93درج کرلیا گیا تھا۔پولیس نے عدالت کو پیش کیے گئے اپنے بیان میں واضح الفاظ میں اس بات کی تصدیق کی تھی کہ مقتول نوجوان ایک عام شہری تھا اور اس کا کسی گروپ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
پرنسپل ڈسٹرکٹ جج محمدشفیع خان نے اپنے فیصلے میں یہ بات واضح کردی ہے کہ معاوضے کی رقم متعلقہ بی ایس ایف یونٹ کوادا کرنا ہوگی، 27سالہ مقتول نوجوان کے والدعبدالکریم نے اپنے دعوے میں عدالت کوبتایاتھاکہ اس کے بیٹے کوبی ایس ایف کی چوتھی بٹالین نے شیخ دائودکالونی بٹہ مالومیں 16دسمبر 1993کو اس وقت مار دیاتھاجب وہ بینک سے گھر لوٹ رہا تھا۔
یہ کیس ابتدا میں ہائی کورٹ میں چل رہا تھا جس کے بعد اسے پرنسپل ڈسٹرکٹ جج کی عدالت میں منتقل کیاگیاتھا۔شیر گڑھی پولیس اسٹیشن میں نوجوان کی ہلاکت کے بارے میں ایک کیس زیرنمبر 114/93درج کرلیا گیا تھا۔پولیس نے عدالت کو پیش کیے گئے اپنے بیان میں واضح الفاظ میں اس بات کی تصدیق کی تھی کہ مقتول نوجوان ایک عام شہری تھا اور اس کا کسی گروپ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔