ترکی میں فتح اللہ گولن سے تعلق کے شبہ میں مزید 10ہزار سرکاری ملازمین برطرف
فارغ کیے گئے سرکاری ملازمین میں اساتذہ، ڈاکٹرز، نرسیں، ہیلتھ ورکرز بھی شامل ہیں، سرکاری اعلامیہ
فارغ کیے گئے سرکاری ملازمین میں اساتذہ، ڈاکٹرز، نرسیں، ہیلتھ ورکرز بھی شامل ہیں، سرکاری اعلامیہ۔ فوٹو: فائل
ترکی میں 15 جولائی کی ناکام فوجی بغاوت کے بعد گزشتہ روز ترک حکام نے بغاوت کے محرک امریکا جلاوطن خود ساختہ مذہبی رہنما فتح اللہ گولن سے منسلک ہونے کے شبہ میں مزید 10 ہزار سے زائد سرکاری ملازمین کونوکریوں سے فارغ کردیا۔
ترکی میں ناکام بغاوت میں ملوث افراد کیخلاف کریک ڈاؤن جاری ہے،اب تک 37 ہزار سے زائد افراد کوگرفتار کیا جاچکا ہے جبکہ ایک لاکھ سرکاری اہلکاروں کو ان کے عہدوں سے برطرف کیا جاچکا ہے۔ اس کے علاوہ ذرائع ابلاغ کے 15 دفاتر بھی بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق جنوب مشرقی کرد علاقے سے ہے۔ جاری کردہ سرکاری اعلامیے کے مطابق فارغ کیے گئے سرکاری ملازمین میں اساتذہ، ڈاکٹرز، نرسیں، ہیلتھ ورکرز بھی شامل ہیں۔
دریں اثنا انقرہ میں خطاب کرتے ہوئے ترک صدر طیب اردوان کا کہنا ہے کہ بغاوت میں ملوث افراد کو سزائے موت کے لئے پارلیمنٹ سے منظوری کی سفارش کرینگے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت یہ تجویز پارلیمنٹ میں لے کر جائے گی۔ یقین ہے کہ پارلیمنٹ سے اس کی منظوری مل جائیگی، جب پارلیمان کا فیصلہ مجھ تک آئے گا تومیں اس کی توثیق کر دوں گا۔
دوسری جانب مشرقی ترکی میں مارٹر گولہ باری کی زد میں آکر 3 ترک فوجی ہلاک اور5 زخمی ہو گئے، اطلاعات کے مطابق کردستان ورکر پارٹی کے جنگجوؤں نے شام سے 3 مارٹر گولے فائر کیے جو ترکی صوبے حکاری میں گرے۔ زخمی ہونیوالوں میں سے ایک فوجی کی حالت تشویشناک ہے۔
ترکی میں ناکام بغاوت میں ملوث افراد کیخلاف کریک ڈاؤن جاری ہے،اب تک 37 ہزار سے زائد افراد کوگرفتار کیا جاچکا ہے جبکہ ایک لاکھ سرکاری اہلکاروں کو ان کے عہدوں سے برطرف کیا جاچکا ہے۔ اس کے علاوہ ذرائع ابلاغ کے 15 دفاتر بھی بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق جنوب مشرقی کرد علاقے سے ہے۔ جاری کردہ سرکاری اعلامیے کے مطابق فارغ کیے گئے سرکاری ملازمین میں اساتذہ، ڈاکٹرز، نرسیں، ہیلتھ ورکرز بھی شامل ہیں۔
دریں اثنا انقرہ میں خطاب کرتے ہوئے ترک صدر طیب اردوان کا کہنا ہے کہ بغاوت میں ملوث افراد کو سزائے موت کے لئے پارلیمنٹ سے منظوری کی سفارش کرینگے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت یہ تجویز پارلیمنٹ میں لے کر جائے گی۔ یقین ہے کہ پارلیمنٹ سے اس کی منظوری مل جائیگی، جب پارلیمان کا فیصلہ مجھ تک آئے گا تومیں اس کی توثیق کر دوں گا۔
دوسری جانب مشرقی ترکی میں مارٹر گولہ باری کی زد میں آکر 3 ترک فوجی ہلاک اور5 زخمی ہو گئے، اطلاعات کے مطابق کردستان ورکر پارٹی کے جنگجوؤں نے شام سے 3 مارٹر گولے فائر کیے جو ترکی صوبے حکاری میں گرے۔ زخمی ہونیوالوں میں سے ایک فوجی کی حالت تشویشناک ہے۔