پیپلز پارٹی نے کبھی سندھ کے مفادات کا سودا نہیں کیا ارکان سندھ اسمبلی
سندھ کے عوام آمریت کی گود میں پلنے والی پارٹیوں کو اچھی طرح جانتے ہیں، مشترکہ بیان
سندھ کے عوام آمریت کی گود میں پلنے والی پارٹیوں کو اچھی طرح جانتے ہیں، مشترکہ بیان فوٹو: فائل
پیپلز پارٹی کے تمام ارکان سندھ اسمبلی نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے کبھی سندھ کے مفادات کا سودا نہیں کیا۔
سندھ کے عوام آمریت کی گود میں پلنے والی پارٹیوں کو اچھی طرح جانتے ہیں،بے نظیر بھٹو کے دباؤ پرنواز شریف نے کالا باغ ڈیم بنانے کا فیصلہ واپس لیا۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بینظیر بھٹو کے دور حکومت میں کا لا باغ ڈیم کے لیے کبھی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی ، جو لوگ شہداء کے نام پر غلط پروپیگنڈا کر رہے ہیں وہ اپنے گناہوں پر پردہ ڈالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔
ارکان اسمبلی نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اس ملک اور قوم کے لیے جان کے نذرانے دیے ، مزدوروں کو پہچان دی ، ملک کو آئین دیا ، ایٹمی اور میزائیل ٹیکنالوجی دی ، دنیا میں پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کیا اور ہمیشہ آمریت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔ ایسے مثالی قائدین پر الزام تراشی قابل افسوس اور قابل مذمت ہے ۔ پیپلز پارٹی کے ارکان سندھ اسمبلی نے کہا کہ بے نظیر بھٹو نے کموں شہید (گھوٹکی) کے مقام پر کالا باغ ڈیم کے خلاف تاریخی دھرنا دیا جس میں لاکھوں افراد کی شرکت نے میاں نوازشریف کو پسپائی پر مجبور کیا اور کالاباغ ڈیم کے حامی نوازشریف اپنے فیصلے واپس لینے پر مجبور ہوئے اس بارے میں نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے عوام اچھی طرح جانتے ہیں ۔
سندھ کے عوام کے حقوق کی حفاظت صرف پیپلز پارٹی کے دور اقتدار میں کی گئی جبکہ دیگر حکومتوں میں سندھ کے مفادات کا سودا کیا گیا ۔ ارکان اسمبلی نے کہا کہ کالا باغ ڈیم کے حق میں جن پارٹیوں نے سانگھڑ میں ریلیاں نکالیں ضیا اور مشرف کے بدترین آمریتی دور میں جن پارٹیوں نے مزے لوٹے ، مشرف کے غیر آئینی اقدامات اور آئین کو توڑنے میں جن پارٹیوں نے مشرف کا ساتھ دیا آج ایک مرتبہ پھر الیکشن قریب آنے کی وجہ سے پیپلز پارٹی کے خلاف غلط پروپیگنڈا کر رہے ہیں اور پی پی پی کے خلاف نیا الیکشن اتحاد بنانا چاہتے ہیں ۔ سندھ کے عوام آمریت کی گود میں پلنے والی پارٹیوں کو اچھی طرح جانتے ہیں۔
آئندہ الیکشن میں پی ایم ایل (ن) اور پی ایم ایل (ف)کو تاریخی شکست دیں گے ۔ ارکان سندھ اسمبلی نے کہا کہ مشرف کی آمریت میں جب سندھ اسمبلی میں سندھیوں کے یونیورسٹیوں میں داخلوں اور ملازمتوں پر پابندی کی قرارداد منظور کی گئی تھی تو اس وقت فنکشنل مسلم لیگ نے سندھ کے عوام کے مفادات کا تحفظ کرنے کے بجائے قرارداد کی حمایت کی تھی ، پیپلز پارٹی واحد جماعت تھی جس نے قرارداد کی شدید مخالفت کرتے ہوئے سندھ کے عوام کے حقوق کا تحفظ کیا۔
سندھ کے عوام آمریت کی گود میں پلنے والی پارٹیوں کو اچھی طرح جانتے ہیں،بے نظیر بھٹو کے دباؤ پرنواز شریف نے کالا باغ ڈیم بنانے کا فیصلہ واپس لیا۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بینظیر بھٹو کے دور حکومت میں کا لا باغ ڈیم کے لیے کبھی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی ، جو لوگ شہداء کے نام پر غلط پروپیگنڈا کر رہے ہیں وہ اپنے گناہوں پر پردہ ڈالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔
ارکان اسمبلی نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اس ملک اور قوم کے لیے جان کے نذرانے دیے ، مزدوروں کو پہچان دی ، ملک کو آئین دیا ، ایٹمی اور میزائیل ٹیکنالوجی دی ، دنیا میں پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کیا اور ہمیشہ آمریت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔ ایسے مثالی قائدین پر الزام تراشی قابل افسوس اور قابل مذمت ہے ۔ پیپلز پارٹی کے ارکان سندھ اسمبلی نے کہا کہ بے نظیر بھٹو نے کموں شہید (گھوٹکی) کے مقام پر کالا باغ ڈیم کے خلاف تاریخی دھرنا دیا جس میں لاکھوں افراد کی شرکت نے میاں نوازشریف کو پسپائی پر مجبور کیا اور کالاباغ ڈیم کے حامی نوازشریف اپنے فیصلے واپس لینے پر مجبور ہوئے اس بارے میں نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے عوام اچھی طرح جانتے ہیں ۔
سندھ کے عوام کے حقوق کی حفاظت صرف پیپلز پارٹی کے دور اقتدار میں کی گئی جبکہ دیگر حکومتوں میں سندھ کے مفادات کا سودا کیا گیا ۔ ارکان اسمبلی نے کہا کہ کالا باغ ڈیم کے حق میں جن پارٹیوں نے سانگھڑ میں ریلیاں نکالیں ضیا اور مشرف کے بدترین آمریتی دور میں جن پارٹیوں نے مزے لوٹے ، مشرف کے غیر آئینی اقدامات اور آئین کو توڑنے میں جن پارٹیوں نے مشرف کا ساتھ دیا آج ایک مرتبہ پھر الیکشن قریب آنے کی وجہ سے پیپلز پارٹی کے خلاف غلط پروپیگنڈا کر رہے ہیں اور پی پی پی کے خلاف نیا الیکشن اتحاد بنانا چاہتے ہیں ۔ سندھ کے عوام آمریت کی گود میں پلنے والی پارٹیوں کو اچھی طرح جانتے ہیں۔
آئندہ الیکشن میں پی ایم ایل (ن) اور پی ایم ایل (ف)کو تاریخی شکست دیں گے ۔ ارکان سندھ اسمبلی نے کہا کہ مشرف کی آمریت میں جب سندھ اسمبلی میں سندھیوں کے یونیورسٹیوں میں داخلوں اور ملازمتوں پر پابندی کی قرارداد منظور کی گئی تھی تو اس وقت فنکشنل مسلم لیگ نے سندھ کے عوام کے مفادات کا تحفظ کرنے کے بجائے قرارداد کی حمایت کی تھی ، پیپلز پارٹی واحد جماعت تھی جس نے قرارداد کی شدید مخالفت کرتے ہوئے سندھ کے عوام کے حقوق کا تحفظ کیا۔