گڈانی ساحل پر الم ناک سانحہ

یہ سانحہ لنگر انداز بحری جہازکے آئل ٹینکر کی صفائی کے دوران دھماکے کی صورت میں رونما ہوا

لاہور، کراچی سمیت پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں، قصبوں میں قائم صنعتوں میں مزدوروں کی جانوں کو جو خطرات لاحق ہیں۔ فوٹو: فائل

بلوچستان کی طویل ساحلی پٹی میں گڈانی انتہائی اہمیت کا حامل ہے، یہاں پر شپ بریکنگ کی بڑی صنعت قائم ہے، جس سے ہزاروں افراد کا روزگار وابستہ ہے۔ انتہائی افسوس ناک خبر منظر عام پر آئی ہے کہ ایک بحری جہاز میں دھماکے سے 14 افراد جاں بحق اور 40 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

یہ سانحہ لنگر انداز بحری جہازکے آئل ٹینکر کی صفائی کے دوران دھماکے کی صورت میں رونما ہوا، جس کے بعد آگ بھڑک اٹھی، زخمیوں میں بعض کی حالت تشویش ناک ہے، آگ پر قابو پانے کے لیے کوششیں جاری تھیں۔ پاک بحریہ کا ریسکیو آپریشن جاری رہا، جھلسے ہوئے زخمیوں کو کراچی منتقل کیا گیا ہے، تاہم آگ کی شدت زیادہ ہونے کے باعث فائر بریگیڈ کو آگ بجھانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔


یہ سانحہ کیونکر رونما ہوا، اس کے پیچھے کس کی غفلت تھی، یہ سب کچھ تو تحقیقات کے بعد ہی سامنے آ سکے گا۔ یہ دل گرفتہ کر دینے والا واقعہ بلوچستان کے جسم پر لگے زخموں میں مزید اضافہ کر گیا ہے۔ پہلا سوال جو اس واقعے کے تناظر میں ابھرتا ہے وہ یہ ہے کہ شپ بریکنگ سے وابستہ مزدوروں کے تحفظ کے لیے جو حفاظتی اقدامات اختیار کرنے چاہئیں کیا ان پر عمل درآمد ہو رہا تھا۔

جواب نفی کی صورت میں آئے گا، اگر اس بات کو مدنظر رکھا جا رہا ہوتا، تو یہ افسوس ناک سانحہ ہی رونما نہ ہوتا، ہماری ریاست کا یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ یہاں پر مزدوروں کے تحفظ کے لیے قوانین تو موجود ہیں لیکن ان کا اطلاق قطعاً نہیں ہے۔ کام کرنے والی جگہوں پر حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔

لاہور، کراچی سمیت پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں، قصبوں میں قائم صنعتوں میں مزدوروں کی جانوں کو جو خطرات لاحق ہیں، ان کا کبھی تدارک نہیں کیا گیا۔ مزدوروں کو محفوظ ترین ماحول مہیا کرنا، زخمیوں کا سرکاری خرچ پر علاج کروانا اور اس سانحے کے ذمے داروں کو قرار واقعی سزا دینا حکومت کی اولین ذمے داری بنتی ہے۔
Load Next Story