طوفان ٹل گیا فتح قوم کی ہوئی
عدالت نے پی ایم ایل(ن) اور پی ٹی آئی سے پانامہ لیکس کی تحقیقات کے لیے کمیشن کے قیام سے متعلق جمعرات تک جواب طلب کرلیا
اب ضرورت اس بات کی ہے سیاسی درجہ حرارت میں کمی لائی جائے، عمران اپنے کارکنوں کو مبارکباد دیں۔ فوٹو: فائل
خدا کا شکر ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے نے ملک اور قومی سلامتی کو درپیش ایک ہولناک سیاسی طوفان سے بچا لیا۔ عدالت عظمیٰ کا پانچ رکنی بنچ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی، جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس امیر مسلم ہانی، جسٹس شیخ عظمت اور جسٹس اعجاز الحق حسن پر مشتمل تھا جس نے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کے وکلا کی جانب سے دائر کردہ درخواستوں کی منگل کو سماعت کی۔
عدالت عظمیٰ نے پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف سے پانامہ لیکس کی تحقیقات کے لیے کمیشن کے قیام سے متعلق جمعرات تک جواب طلب کرلیا، سپریم کورٹ نے فریقین کو ہدایت کی کہ وہ اپنے ٹرمز آف ریفرنسز(ٹی او آرز) عدالت میں جمع کرائیں، عدالت عظمیٰ کا کہنا تھا کہ اگر فریقین متفق نہ ہوسکے توٹی او آرز بھی خود طے کریں گے۔ سپریم کورٹ نے پانامہ پیپرز کیس کے سلسلہ میں وزیراعظم نواز شریف اور عمران خان سے تحریری یقین دہانی مانگ لی۔
سپریم کورٹ کے کیس کی سماعت در حقیقت سیاسی قائدین کی سیاسی بصیرت، ذہنی بلوغت ، قومی کسک ، وسیع النظری اور مفاہمانہ طرز عمل کا شاندار مظاہرہ تھا، کیونکہ کسی کو یقین نہیں تھا کہ کوئی معجزہ رونما ہوگا، پھر اچانک ہواؤں کے رخ بدل گئے، لوگ کہنے لگے کہ اگر سپریم کورٹ کی طرف سے بروقت پیش رفت نہ ہوتی تو ملک کو ایک ناقابل تلافی بحران کا سامنا کرنا پڑتا، اس لیے یہ بات پورے یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کی قیادت نے درو رس اور ملک کے عظیم تر مفاد میں سپریم کورٹ کے آگے سر تسلیم خم کردیا۔
یہ قانون پر ملک کی دو متحارب سیاسی جماعتوں کا آخری اعصاب شکن لمحوں میں ایک تاریخی فیصلہ ہے اور 2 نومبر سانحہ کے بجائے عمران خان کے اعلان کے مطابق یوم تشکر اور پریڈ گراؤنڈ میں شاندار جشن کے انعقاد کا وسیلہ بن گیا، قوم اس تحمل، بردباری، رواداری، معاملہ فہمی اور افہام و تفہیم پر مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی اور ان دونوں سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں کو مبارک باد دینے میں حق بجانب ہے، قوموں کی تاریخ میں ایسے مشکل مقام آتے ہیں جس میں سیاسی لیڈرشپ کی آزمائش ہوتی ہے۔
بلاشبہ یکم نومبر کسی کی جیت اور نہ ہار کا دن ہے، احتجاج اور اختلاف رائے کا آئینی حق کسی بھی سیاسی جماعت سے نہیں چھینا جاسکتا ، پی ٹی آئی کی تحریک اور اس کے ایجی ٹیشن پر تحفظات کا ایک سمندر امنڈ پڑا تھا مگر عمران خان نے ایک طرف اپنے سیاسی عزم کا مظاہرہ کیا اور تو دوسری جانب ریاستی رٹ قائم رکھنے کی جتنی ضرورت پیش آئی اس میں حکومت کی طرف سے کارروائی دیکھنے میں آئی، البتہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے گرد صاف کی کہ دھرنے کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ نہیں تھی، پھر بھی کئی الزامات لگے، دو طرفہ تصادم ہولناکی کی حدوں کو چھونے لگا تھا لیکن سیاستدانوں نے لمحہ آخر میں قانون کی حکمرانی کے دھندلے منظر کو عدلیہ کے احکامات کے سامنے روشن کردیا۔ ورنہ ایک روز قبل صورتحال تشویش ناک تھی۔
پی ٹی آئی کے کارکن پر جوش تھے، مار کھاتے رہے، ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کی قیادت میں صوابی سے اسلام آباد جانے والے پی ٹی آئی کے قافلے کو روکے جانے پر صوابی اور برہان انٹرچینج میدان جنگ بن گئے تھے، اٹک کے علاقے حضرو میں آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی جس کے بعد کارکنوں نے کئی گاڑیاں جلادیں، پی ٹی آئی کے قافلے نے حضرو پہنچ کر کرینوں کے ذریعے کنٹینر اور رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش کی جس پر ان کی پولیس سے جھڑپیں ہوگئیں، پولیس نے شیلنگ کی جب کہ پی ٹی آئی کارکنوں نے متعدد گاڑیوں کو آگ لگا دی اور پتھراؤ کیا، سڑک کنارے جھاڑیوں کو بھی آگ لگا دی۔
پشاور سے اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور اور پنجاب کے دیگر اضلاع اور ہزارہ ڈویژن کے شہروں ہری پور، ایبٹ آباد اور مانسہرہ کو مسافر گاڑیاں روانہ نہ ہوسکیں۔ اٹک اور حسن ابدال میں خیبر پختونخوا اور پنجاب کو ملانے والے راستے مکمل طور پر سیل رہے جس سے دونوں صوبوں کے مابین رابطہ منقطع رہا، کشمکش منگل کو بھی جاری رہی ، سیاسی جماعتیں تماشا دیکھتی رہیں ۔مگر قوم کے دل و دماغ عدالت عظمیٰ کے فیصلہ پر مرکوز تھے۔
سیاسی دباؤ اور صورتحال میں تناؤ کا عالم عجیب تھا، ایک طرف وزیراعظم نوازشریف نے تحریک انصاف کی جانب سے استعفیٰ ا تلاشی کے مطالبے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی صورت مستعفی نہیں ہوں گے، وزیراعظم نے اس حوالے سے اپنے قریبی رفقا سے صلاح مشورے کیے اور انھیں بتایا کہ وہ کسی صورت مستعفی نہیں ہوں گے اور2018ء تک اقتدار میں رہیں گے جب کہ عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ دو نومبر کو اسلام آباد لاک ڈاؤن کر دیں گے، ان کا دعویٰ تھا کہ دس لاکھ انسانوں کا سمندر حکمرانوں کو بہالے جائے گا جب کہ دیوالی کی ایک تقریب میں شرکت کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ نوازشریف پانامہ شریف ہیں، ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں جو کچھ ہو رہا ہے ملک کے خلاف سازش ہے، حکومت کی ذمے داری ہے کہ وہ قانون کی بالادستی قائم کرے۔
ان کا شکوہ تھا کہ طالبان و کالعدم تنظیمیں جلسہ کریں تو اجازت بلاول اور عمران کریں تو ان کو روکو، مسلم لیگ(ن)کے رہنما اورگورنر خیبر پختونخوا اقبال ظفر جھگڑا نے خبردار کیا کہ ملک کے وسیع تر مفاد میںاگر ضرورت پڑی تو خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کی ایڈوائس دے دین گے۔ ذرایع نے یہ اطلاع دی تھی کہ حکومت نے سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس کے حوالے سے اپنا جواب تیار کر لیا ہے، اور طے کیا ہے کہ حکومتی قانونی ٹیم سپریم کورٹ کو آگاہ کرے گی کہ پانامہ لیکس کی تحقیقات اور عدالتی کمیشن کی تشکیل کے لیے حکومت پارلیمنٹ سے قانون سازی کے لیے تیار ہے سپریم کورٹ اس معاملے پر جو احکام دے گی، ان پر مکمل عمل درآمد کیا جائے گا۔
ادھر وزیر داخلہ چوہدری نثار نے ریاستی رٹ کو قائم رکھنے کے عزم کا اظہار کیا تاہم بیک ڈور چینل بھی استعمال میں لائے گئے، مگر بات چیت کا کوئی امکان نظر نہیں آیا، تشدد آمیز وارداتوں کا سلسلہ بڑھتا چلا گیا اور اسی دوران سیاسی حرکیات کے انتہائی ناک موڑ پر عدالت عظمیٰ نے سارا سیاسی منظر بدل دیا۔
اب ضرورت اس بات کی ہے سیاسی درجہ حرارت میں کمی لائی جائے، عمران اپنے کارکنوں کو مبارکباد دیں، ان کی جدوجہد جشن کی مستحق ہے،جب کہ حکومت اپنا احتساب کرے،نئی صورتحال کو کسی کی فتح یا شکست سے تعبیر نہ کرے۔ جیت پاکستان اس کے عوام، سیاسی درواندیشی اور عدلیہ کی آزادی کی ہوئی ہے۔
عدالت عظمیٰ نے پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف سے پانامہ لیکس کی تحقیقات کے لیے کمیشن کے قیام سے متعلق جمعرات تک جواب طلب کرلیا، سپریم کورٹ نے فریقین کو ہدایت کی کہ وہ اپنے ٹرمز آف ریفرنسز(ٹی او آرز) عدالت میں جمع کرائیں، عدالت عظمیٰ کا کہنا تھا کہ اگر فریقین متفق نہ ہوسکے توٹی او آرز بھی خود طے کریں گے۔ سپریم کورٹ نے پانامہ پیپرز کیس کے سلسلہ میں وزیراعظم نواز شریف اور عمران خان سے تحریری یقین دہانی مانگ لی۔
سپریم کورٹ کے کیس کی سماعت در حقیقت سیاسی قائدین کی سیاسی بصیرت، ذہنی بلوغت ، قومی کسک ، وسیع النظری اور مفاہمانہ طرز عمل کا شاندار مظاہرہ تھا، کیونکہ کسی کو یقین نہیں تھا کہ کوئی معجزہ رونما ہوگا، پھر اچانک ہواؤں کے رخ بدل گئے، لوگ کہنے لگے کہ اگر سپریم کورٹ کی طرف سے بروقت پیش رفت نہ ہوتی تو ملک کو ایک ناقابل تلافی بحران کا سامنا کرنا پڑتا، اس لیے یہ بات پورے یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کی قیادت نے درو رس اور ملک کے عظیم تر مفاد میں سپریم کورٹ کے آگے سر تسلیم خم کردیا۔
یہ قانون پر ملک کی دو متحارب سیاسی جماعتوں کا آخری اعصاب شکن لمحوں میں ایک تاریخی فیصلہ ہے اور 2 نومبر سانحہ کے بجائے عمران خان کے اعلان کے مطابق یوم تشکر اور پریڈ گراؤنڈ میں شاندار جشن کے انعقاد کا وسیلہ بن گیا، قوم اس تحمل، بردباری، رواداری، معاملہ فہمی اور افہام و تفہیم پر مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی اور ان دونوں سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں کو مبارک باد دینے میں حق بجانب ہے، قوموں کی تاریخ میں ایسے مشکل مقام آتے ہیں جس میں سیاسی لیڈرشپ کی آزمائش ہوتی ہے۔
بلاشبہ یکم نومبر کسی کی جیت اور نہ ہار کا دن ہے، احتجاج اور اختلاف رائے کا آئینی حق کسی بھی سیاسی جماعت سے نہیں چھینا جاسکتا ، پی ٹی آئی کی تحریک اور اس کے ایجی ٹیشن پر تحفظات کا ایک سمندر امنڈ پڑا تھا مگر عمران خان نے ایک طرف اپنے سیاسی عزم کا مظاہرہ کیا اور تو دوسری جانب ریاستی رٹ قائم رکھنے کی جتنی ضرورت پیش آئی اس میں حکومت کی طرف سے کارروائی دیکھنے میں آئی، البتہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے گرد صاف کی کہ دھرنے کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ نہیں تھی، پھر بھی کئی الزامات لگے، دو طرفہ تصادم ہولناکی کی حدوں کو چھونے لگا تھا لیکن سیاستدانوں نے لمحہ آخر میں قانون کی حکمرانی کے دھندلے منظر کو عدلیہ کے احکامات کے سامنے روشن کردیا۔ ورنہ ایک روز قبل صورتحال تشویش ناک تھی۔
پی ٹی آئی کے کارکن پر جوش تھے، مار کھاتے رہے، ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کی قیادت میں صوابی سے اسلام آباد جانے والے پی ٹی آئی کے قافلے کو روکے جانے پر صوابی اور برہان انٹرچینج میدان جنگ بن گئے تھے، اٹک کے علاقے حضرو میں آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی جس کے بعد کارکنوں نے کئی گاڑیاں جلادیں، پی ٹی آئی کے قافلے نے حضرو پہنچ کر کرینوں کے ذریعے کنٹینر اور رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش کی جس پر ان کی پولیس سے جھڑپیں ہوگئیں، پولیس نے شیلنگ کی جب کہ پی ٹی آئی کارکنوں نے متعدد گاڑیوں کو آگ لگا دی اور پتھراؤ کیا، سڑک کنارے جھاڑیوں کو بھی آگ لگا دی۔
پشاور سے اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور اور پنجاب کے دیگر اضلاع اور ہزارہ ڈویژن کے شہروں ہری پور، ایبٹ آباد اور مانسہرہ کو مسافر گاڑیاں روانہ نہ ہوسکیں۔ اٹک اور حسن ابدال میں خیبر پختونخوا اور پنجاب کو ملانے والے راستے مکمل طور پر سیل رہے جس سے دونوں صوبوں کے مابین رابطہ منقطع رہا، کشمکش منگل کو بھی جاری رہی ، سیاسی جماعتیں تماشا دیکھتی رہیں ۔مگر قوم کے دل و دماغ عدالت عظمیٰ کے فیصلہ پر مرکوز تھے۔
سیاسی دباؤ اور صورتحال میں تناؤ کا عالم عجیب تھا، ایک طرف وزیراعظم نوازشریف نے تحریک انصاف کی جانب سے استعفیٰ ا تلاشی کے مطالبے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی صورت مستعفی نہیں ہوں گے، وزیراعظم نے اس حوالے سے اپنے قریبی رفقا سے صلاح مشورے کیے اور انھیں بتایا کہ وہ کسی صورت مستعفی نہیں ہوں گے اور2018ء تک اقتدار میں رہیں گے جب کہ عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ دو نومبر کو اسلام آباد لاک ڈاؤن کر دیں گے، ان کا دعویٰ تھا کہ دس لاکھ انسانوں کا سمندر حکمرانوں کو بہالے جائے گا جب کہ دیوالی کی ایک تقریب میں شرکت کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ نوازشریف پانامہ شریف ہیں، ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں جو کچھ ہو رہا ہے ملک کے خلاف سازش ہے، حکومت کی ذمے داری ہے کہ وہ قانون کی بالادستی قائم کرے۔
ان کا شکوہ تھا کہ طالبان و کالعدم تنظیمیں جلسہ کریں تو اجازت بلاول اور عمران کریں تو ان کو روکو، مسلم لیگ(ن)کے رہنما اورگورنر خیبر پختونخوا اقبال ظفر جھگڑا نے خبردار کیا کہ ملک کے وسیع تر مفاد میںاگر ضرورت پڑی تو خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کی ایڈوائس دے دین گے۔ ذرایع نے یہ اطلاع دی تھی کہ حکومت نے سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس کے حوالے سے اپنا جواب تیار کر لیا ہے، اور طے کیا ہے کہ حکومتی قانونی ٹیم سپریم کورٹ کو آگاہ کرے گی کہ پانامہ لیکس کی تحقیقات اور عدالتی کمیشن کی تشکیل کے لیے حکومت پارلیمنٹ سے قانون سازی کے لیے تیار ہے سپریم کورٹ اس معاملے پر جو احکام دے گی، ان پر مکمل عمل درآمد کیا جائے گا۔
ادھر وزیر داخلہ چوہدری نثار نے ریاستی رٹ کو قائم رکھنے کے عزم کا اظہار کیا تاہم بیک ڈور چینل بھی استعمال میں لائے گئے، مگر بات چیت کا کوئی امکان نظر نہیں آیا، تشدد آمیز وارداتوں کا سلسلہ بڑھتا چلا گیا اور اسی دوران سیاسی حرکیات کے انتہائی ناک موڑ پر عدالت عظمیٰ نے سارا سیاسی منظر بدل دیا۔
اب ضرورت اس بات کی ہے سیاسی درجہ حرارت میں کمی لائی جائے، عمران اپنے کارکنوں کو مبارکباد دیں، ان کی جدوجہد جشن کی مستحق ہے،جب کہ حکومت اپنا احتساب کرے،نئی صورتحال کو کسی کی فتح یا شکست سے تعبیر نہ کرے۔ جیت پاکستان اس کے عوام، سیاسی درواندیشی اور عدلیہ کی آزادی کی ہوئی ہے۔