ورلڈ سیریز ہاکی سے 3 سال کا معاہدہ ہے شکیل عباسی
امید ہے کہ جب بھارتی لیگ میں کھیلنے کا وقت آئے گا تو کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا اور کوئی نہ کوئی راستہ نکل آئے گا۔
انٹرنیشنل مصروفیات کی صورت میں ہی بھارتی ایونٹ میں شرکت نہیں کروں گا، شکیل عباسی، پلیئر۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل
اولمپئن شکیل عباسی نے واضح کیا ہے کہ بھارتی ورلڈ سیریز ہاکی سے ان کا 3 سالہ معاہدہ برقرار ہے اور وہ صرف اسی صورت میں لیگ نہیں کھیلیں گے جب قومی ٹیم انٹرنیشنل میچز میں مصروف ہوگی۔
یاد رہے کہ ایف آئی ایچ اور پاکستان ہاکی فیڈریشن بھارتی لیگ کو تسلیم نہیں کرتی، ان مقابلوں میں حصہ لینے کی پاداش میں شکیل عباسی پر 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں فیڈریشن نے اسے کم کرتے ہوئے تجربہ کار کھلاڑی کو ٹیم میں بھی شامل کرلیا تھا، شکیل عباسی کو حال ہی میں کھیلے گئے چیمپئنز ٹرافی ہاکی ٹورنامنٹ میں بہترین کھلاڑی کے اعزاز سے نوازاگیا ہے۔ ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ لیگ کے قانونی یا غیرقانونی ہونے کی بحث میں نہیں پڑنا چاہتے کیونکہ جب معاہدہ کیا گیا، اس وقت تک لیگ کو ایف آئی ایچ نے غیرقانونی نہیں کہا تھا۔
انھوں نے کہا کہ میرا لیگ سے 3 سال کا معاہدہ ہے، پیشگی رقم بھی لے چکا ہوں۔ شکیل عباسی نے کہا کہ ایف آئی ایچ پاکستانی ہاکی کیلیے کچھ نہیں کررہی، امید ہے کہ جب بھارتی لیگ میں کھیلنے کا وقت آئے گا تو کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا اور کوئی نہ کوئی راستہ نکل آئے گا۔انھوں نے کہا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ارباب اختیار کو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ کھلاڑی جب تک بیرون ملک لیگ نہیں کھیلیں گے ان کی مالی حالت بہتر نہیں ہوسکتی۔
شکیل عباسی نے کہا کہ اگر پاکستانی ٹیم کو ان کی ضرورت ہوئی اور قومی ٹیم اس وقت کوئی ٹورنامنٹ کھیل رہی ہوگی تو لیگ نہیں کھیلیں گے۔شکیل عباسی نے کہا کہ ورلڈ کپ اور اولمپک گولڈ میڈلز خوش آئند ہونگے لیکن اگر ہاکی کو دوبارہ عروج پر لانا ہے تو اس کیلیے ڈیپارٹمنٹس کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، کھلاڑیوں کو ملازمتیں دینا ہونگی، ڈپارٹمنٹس اپنی ٹیمیں ختم کررہے ہیں۔
ان حالات میں پاکستان کبھی بھی ہاکی میں کھویا مقام دوبارہ حاصل نہیں کرسکتا۔شکیل عباسی نے کہا کہ کوئی بھی کھلاڑی اس وقت تک اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکتا جب تک اسے اعتماد نہ دیا جائے۔ کھلاڑی فوراً نہیں بن جاتا ہے اسے تجربہ حاصل کرنے اور کھیل میں نکھار لانے میں کئی سال لگ جاتے ہیں۔
یاد رہے کہ ایف آئی ایچ اور پاکستان ہاکی فیڈریشن بھارتی لیگ کو تسلیم نہیں کرتی، ان مقابلوں میں حصہ لینے کی پاداش میں شکیل عباسی پر 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں فیڈریشن نے اسے کم کرتے ہوئے تجربہ کار کھلاڑی کو ٹیم میں بھی شامل کرلیا تھا، شکیل عباسی کو حال ہی میں کھیلے گئے چیمپئنز ٹرافی ہاکی ٹورنامنٹ میں بہترین کھلاڑی کے اعزاز سے نوازاگیا ہے۔ ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ لیگ کے قانونی یا غیرقانونی ہونے کی بحث میں نہیں پڑنا چاہتے کیونکہ جب معاہدہ کیا گیا، اس وقت تک لیگ کو ایف آئی ایچ نے غیرقانونی نہیں کہا تھا۔
انھوں نے کہا کہ میرا لیگ سے 3 سال کا معاہدہ ہے، پیشگی رقم بھی لے چکا ہوں۔ شکیل عباسی نے کہا کہ ایف آئی ایچ پاکستانی ہاکی کیلیے کچھ نہیں کررہی، امید ہے کہ جب بھارتی لیگ میں کھیلنے کا وقت آئے گا تو کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا اور کوئی نہ کوئی راستہ نکل آئے گا۔انھوں نے کہا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ارباب اختیار کو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ کھلاڑی جب تک بیرون ملک لیگ نہیں کھیلیں گے ان کی مالی حالت بہتر نہیں ہوسکتی۔
شکیل عباسی نے کہا کہ اگر پاکستانی ٹیم کو ان کی ضرورت ہوئی اور قومی ٹیم اس وقت کوئی ٹورنامنٹ کھیل رہی ہوگی تو لیگ نہیں کھیلیں گے۔شکیل عباسی نے کہا کہ ورلڈ کپ اور اولمپک گولڈ میڈلز خوش آئند ہونگے لیکن اگر ہاکی کو دوبارہ عروج پر لانا ہے تو اس کیلیے ڈیپارٹمنٹس کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، کھلاڑیوں کو ملازمتیں دینا ہونگی، ڈپارٹمنٹس اپنی ٹیمیں ختم کررہے ہیں۔
ان حالات میں پاکستان کبھی بھی ہاکی میں کھویا مقام دوبارہ حاصل نہیں کرسکتا۔شکیل عباسی نے کہا کہ کوئی بھی کھلاڑی اس وقت تک اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکتا جب تک اسے اعتماد نہ دیا جائے۔ کھلاڑی فوراً نہیں بن جاتا ہے اسے تجربہ حاصل کرنے اور کھیل میں نکھار لانے میں کئی سال لگ جاتے ہیں۔