پاکستان کے جیم اینڈ جیولری سیکٹر میں بھارتی سرمایہ کاری کا منصوبہ

انڈین گروپ گیتانجالی کی پاکستانی جیولر سے فرنچائز کھولنے کیلیے ابتدائی بات چیت مکمل

پاکستانی جیم اینڈ جیولری کے وفد کے حالیہ دوہ بھارت میں بہت سی بھارتی کمپنیوں نے پاکستان میں اپنا سیٹ اپ لگانے اور فرنچائز قائم کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے. فوٹو: فائل

ISLAMABAD:
بھارت میں زیورات سازی اور قیمتی پتھروں کی تراش خراش کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور ہیرے سے مزین زیورات کو مڈل کلاس کی پہنچ تک لانے والے بھارتی گروپ گیتانجالی (Gitanjali) نے پاکستان میں جیم اینڈجیولری کے شعبے میں سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی کرلی ہے جس کے تحت گیتانجالی گروپ کراچی میں فرنچائز کے قیام سے اپنے کاروبار کا آغاز کرے گا۔

یاد رہے کہ گیتانجالی کا شمار بھارتی جیم اینڈ جیولری کی سرفہرست کمپنیوں میں کیا جاتا ہے جس کا کاروبار امریکا، برطانیہ، بیلجیم، اٹلی، مڈل ایسٹ، تھائی لینڈ، سائوتھ ایسٹ ایشیا، چین اور جاپان تک پھیلا ہوا ہے، پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت نارمل بنانے کیلیے جاری کوششوں سے سب سے زیادہ جیولری سیکٹر کے سرمایہ کاروں کوامیدیں وابستہ ہیں جن میں بھارت کے ساتھ پاکستانی سرمایہ کار بھی پیش پیش ہیں، پاکستان کی جانب سے بھارت کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دینے کے لیے رواں سال کے آخر تک منفی فہرست کے خاتمے کے ساتھ ہی جیم اینڈ جیولری سیکٹر کو درپیش مسائل بھی کم ہوجائیں گے اور دونوں ملکوں کیلیے اس شعبے میں ایک دوسرے کے وسائل، تجربے و مہارت سے دوطرفہ استفادے اور سب سے بڑھ کر براہ راست تجارت کے مواقع پیدا ہوں گے۔

دونوں ملکوں کے جیم اینڈ جیولری سیکٹر نے مستقبل کی پیش بندی کرتے ہوئے پہلے سے موجود رابطوں کو مزید مضبوط بنانا شروع کردیا ہے اور تیزی کے ساتھ تجارتی وفود کے تبادلے ہورہے ہیں، پاکستانی جیم اینڈ جیولری کے وفد کے حالیہ دوہ بھارت میں بہت سی بھارتی کمپنیوں نے پاکستان میں اپنا سیٹ اپ لگانے اور فرنچائز قائم کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے جس میں سے ایک سرفہرست کمپنی گیتانجالی نے پاکستانی جیولر کے ساتھ مل کر برانڈڈ جیولری کی فروخت کیلیے فرنچائز کھولنے کی ابتدائی بات چیت مکمل کرلی ہے۔ آل پاکستان جیم مرچنٹ اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین سعید مظہر علی نے بتایا کہ گیتانجالی کے ساتھ بات چیت حتمی مراحل میں داخل ہوچکی ہے، بھارت کو پاکستان کی جانب سے باضابطہ ایم ایف این کا درجہ دینے اور پاکستان میں بھارتی سرمایہ کاری کی اجازت کا انتظار کیا جارہا ہے۔




بھارتی کمپنی کراچی میں پاکستانی کمپنی کے ساتھ مل کر فرنچائز قائم کریگی، بعد ازاں دائرہ کار دیگر بڑے شہروں تک پھیلایا جائے گا، بھارت پاکستان کو جیم اینڈ جیولری کے شعبے میں ٹیکنالوجی اور مہارت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے جس سے پاکستانی جیم اینڈ جیولری کی صنعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے برانڈنگ مارکیٹنگ، ہنرمند افرادی قوت کے حصول میں بے پناہ آسانیاں ہوں گی، پاکستانی جیولری دبئی کے ذریعے بھارت ایکسپورٹ کی جاتی ہے جبکہ امریکا، برطانیہ، یورپ اور مڈل ایسٹ میں برصغیر کے ہی لوگ پاکستانی جیولری کے خریدار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں زیورات کی تیاری کے بہت سے فن معدوم ہورہے ہیں جن میں پولکی، کندن، کلکتے، جے پور اور راجستھانی ڈیزائن کے گنے چنے کاریگر باقی ہیں، پاکستانی جیولری سیکٹر بھارت سے پاکستان کیلیے ماسٹر ٹرینر تیار کرے گا۔

پاکستانی ہنرمندوں کو بھارت بھیج کر تربیت حاصل کی جائیگی جس سے معدوم ہوتے فن اور ہنر کو زندہ رکھا جاسکے گا، ساتھ ہی اس ہنر سے ملک کیلیے زرمبادلہ بھی کمایا جائے گا۔انھوں نے کہاکہ بھارت پاکستانی زیورات کی بڑی منڈی بن سکتا ہے، چند سال میں بھارت کو پاکستان سے زیورات کی برآمد 3سے 4ارب ڈالر تک بڑھائی جاسکتی ہے، ساتھ ہی پاکستان میں پائے جانے والے جیم اسٹون کے وسیع ذخائر بھی بھارت کی مدد سے کٹنگ پالش کرکے زیورات میں ویلیو ایڈیشن کیلیے استعمال ہوسکتے ہیں۔ سعید مظہر علی کا کہنا ہے کہ بھارت کو تجارت کیلیے پسندیدہ ترین ملک کا درجہ ملنے کے ساتھ ہی پاکستانی جیولری اور جیم اسٹون کے شعبے کو ملکی مارکیٹ سے 5گنا بڑی وسیع منڈی مل جائیگی تاہم دونوں ملکوں میں ویزے کی نرمی بینکاری اور مواصلات کے روابط بھی بہت ضروری ہے۔

انھوں نے بتایا کہ دونوں ملکوں کے درمیان جیم اینڈ جیولری کے شعبے کیلیے جنرل ٹریڈ سے ہٹ کر خصوصی ٹیرف لائن کی تجویز دی گئی ہے جس کے تحت جیم اینڈ جیولری کی تیار مصنوعات، خام مال اور مشینری پر کم سے کم یا صفر ڈیوٹی کی تجاویز شامل ہیں، دونوں ممالک ایک دوسرے سے فائدہ اٹھا کر اپنی اپنی صنعتوں میں موجود ہنرمندی کا خلا بھی پورا کرسکیں گے، بھارت سے تجارت میں سب سے بڑا فائدہ فریٹ کا ہوگا، جیم اینڈ جیولری کی پاکستانی منڈیوں تک فی کنٹینر 3ہزار ڈالر کا فریٹ دینا پڑتا ہے اور کنسائمنٹ 20روز بعد اپنی منزل تک پہنچتا ہے، کراچی سے کنٹینر دو روز میں بھارت پہنچ سکتا ہے جس پر کرایہ بھی 5گنا کم ہوگا، پاکستان میں زیورات سازی کی صنعت ابھی تک ہاتھ کے کام پر چل رہی ہے اور مشینوں کا استعمال بہت کم ہے، بھارت سے کم قیمت مشینیں درآمد کرکے پاکستان میں ویلیو ایڈیشن کو تیزی سے فروغ دیا جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہاکہ آل پاکستان جیمز مرچنٹس اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے تحت بھارت میں پاکستانی زیورات کی سنگل کنٹری نمائش منعقد کی جائیگی جس کیلیے تجاویز وزارت تجارت اور ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو ارسال کی جاچکی ہیں۔ انھوں نے کہاکہ بھارت اور پاکستان کی جیم اینڈ جیولری انڈسٹری کے درمیان روابط تیزی سے فروغ پارہے ہیں، اس ضمن میں تجارتی وفود کے دو طرفہ تبادلے اہم کردار ادا کررہے ہیں، اس سلسلے میں پاکستان سے جیم اینڈ جیولری انڈسٹری کا ایک وفد 22دسمبر کو جے پور میں ہونے والی نمائش میں شرکت کیلیے بھارت روانہ ہوگا جس کے بعد بھارت سے جیم اینڈ جیولری کا ایک وفد اس ماہ کے آخر میں کراچی کا دورہ کرے گا، پاکستانی کسٹم حکام کا ایک وفد بھی ماہ رواں بھارت کا دورہ کرے گا۔
Load Next Story