اثاثے
ہمارے غریب اور پسماندہ ملک میں جہاں کی آبادی کا 50 فیصد سے زیادہ حصہ غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہا ہے
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
DHAKA:
ہمارے غریب اور پسماندہ ملک میں جہاں کی آبادی کا 50 فیصد سے زیادہ حصہ غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہا ہے، اشرافیہ کی اربوں روپوں کی لوٹ مارکی داستانیں ملک کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک بکھری پڑی ہیں۔
ایسے بڑے بڑے مالی اسکینڈل جو اربوں نہیں کھربوں روپوں پر مشتمل ہیں عدلیہ کی میزوں پر پڑے سڑ رہے ہیں یا انھیں گوشہ گمنامی میں دھکیل دیا گیا ہے، ہمارے ملک میں اشرافیہ اور اس کے حلحقوں نے بینکوں سے دو کھرب کے قرضے لیے اور معاف کرالیے یہ کیس عدلیہ تک گیا اور پھر اسے اشرافیہ نے گوشہ گمنامی مین دھکیل دیا۔
دو کھرب یعنی دو سو ارب روپوں کی رقم معمولی رقم نہیں ہوتی، اگر اسے صحیح طریقے سے عوام کی بھلائی کے لیے استعمال کیا جائے تو ملک کے تعلیم سے محروم بچوں کے لیے مفت تعلیمی سہولتیں اور بیماروں کے لیے مفت علاج کی سہولتیں فراہم کی جاسکتی ہیں۔ ہمارے وزیر اعظم کچھ شہروں میں غریب عوام کو صحت کارڈ تقسیم کر رہے ہیں بلکہ اس نیک کام کو انجام دیتے ہوئے، وزیراعظم کی آنکھوں سے آنسو بھی چھلک پڑے۔
مفت طبی سہولتیں فراہم کرنا حکومتوں کی ذمے داری ہوتی ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عوام کو مفت طبی سہولتیں فراہم کرنے کا خیال ہمارے حکمرانوں کو 69 سال بعد کیسے آیا؟ حالانکہ ہمارے یہی وزیراعظم آئین میں ترمیم کرا کر مسلسل وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز رہے ہیں۔ اس حوالے سے ایک اور بڑا اسکینڈل منظر عام پر آیا ہے جس کے مطابق سوئس بینکوں میں ''پاکستانیوں'' کے دو سو ارب جمع ہیں۔
عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ یہ دو سو ارب کی بھاری رقم بیرون ملک کے بینکوں میں مزدوروں نے جمع کرائے ہیں،کسانوں نے یا دوسرے غریب طبقات نے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر یہ دو سو ارب روپوں کی بھاری رقم کس کی ہے؟ ہمیں یقین ہے کہ یہ خبر ہماری عدلیہ کے جج صاحبان کی نظروں سے بھی گزری ہوگی۔ پھر کیا ہوا؟
ہماری امارت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ ایک نجی اسپتال کے مالک پر 462 ارب روپے کی کرپشن کے خلاف مقدمہ چل رہا ہے اور وہ صاحب زیر حراست ہیں، ان کے علاوہ کئی ایم این ایز اور ایم پی ایز پر اربوں کی کرپشن کے الزامات میڈیا کی زینت بنے ہوئے ہیں۔
تازہ انکشاف کے مطابق 400 سے زائد ''معزز پاکستانی'' آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں جن میں وزیراعظم کا خاندان بھی شامل ہے۔ یہ تو وہ کرپشن ہے جو منظر عام پر آئی ہے لیکن اندازہ ہے کہ ہماری ہزاروں افراد پر مشتمل اشرافیہ کسی نہ کسی حوالے سے اربوں کی کرپشن میں ملوث ہے۔اور بہت سارے قومی ادارے بھی اربوں کی کرپشن میں ملوث ہیں، ملک کی دولت کا ایک بہت بڑا حصہ ان عوام دشمن طاقتوں کے ہاتھوں میں ہے۔
یہ بڑی اچھی بات ہے کہ ہمارے دو سابق وزیر اعظموں کے خلاف بھی بھاری کرپشن کے الزامات میں مقدمات زیر سماعت ہیں لیکن ہمارے قانون اور انصاف کا نظام اتنا تیز اور پھرتیلا ہے کہ ان ملزمان کے کیس ان کی کئی نسلوں تک چلتے رہیں گے، کسی بینک سے دو چار لاکھ لوٹنے والے ڈاکو کے جرم کا فیصلہ تو نسبتاً جلدی ہوجاتا ہے لیکن بڑے مگرمچھوں کے خلاف چلنے والے کیس ان کی نسلوں تک چلتے رہتے ہیں۔
عدالت میں حاضری کو بھی اشرافیہ کے شہزادے توہین سمجھتے ہیں اور پیشیوں کی تاریخ پر تاریخ لیتے چلے جاتے ہیں ۔ لوگ اصغر خان کے ایک کیس کا حوالہ دیتے ہیں جو عشروں پر محیط ہے اصغر خان ہمارے ملک کے ایک نامور سیاستدان اور فضائیہ کے سربراہ رہے ہیں، ایسی شخصیت کی شنوائی اگر عشروں پر محیط ہو تو عام آدمی کے کیسوں کا کیا حال ہوگا۔ تازہ خبر کے مطابق دو بھائیوں کو چند دن پہلے بے گناہ قرار دیا گیا ہے جب کہ دو سال پہلے انھیں پھانسی دی جا چکی تھی۔ یہ ہے ہمارے قانون اور انصاف کا حال۔
سرمایہ دارانہ نظام میں قانون اور انصاف ایک ایسی چھلنی کی طرح ہوتے ہیں جس میں سے کرپشن بدعنوانیاں پانی کی طرح باہر نکلتی رہتی ہیں اور اس نظام کے اداکار کرپشن کی ایسی ایسی راہیں نکالتے ہیں کہ انسان محو حیرت رہ جاتا ہے۔ پلی بارگین بھی اسی چھلنی سے نکلنے والی اس قدر دلچسپ برائی ہے جس کے ایجاد کنندہ کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہے۔
پلی بارگین کے مطابق ایک ارب کی کرپشن کا ارتکاب کرنے والا ایک کروڑ کا جرمانہ ادا کرکے گنگا نہا لیتا ہے اگر ملازم ہو تو اس کو دوبارہ اسی پوسٹ پر کام کرنے کی سہولت دی جاتی ہے ۔ اس کے خلاف سپریم کورٹ نے ایکشن لیتے ہوئے اس اصول کو معطل کردیا ہے۔ عدالت نے چیف سیکریرٹری کو ہدایت کی ہے کہ سرکاری محکموں میں جن لوگوں نے پلی بارگین سے فائدہ اٹھایا، ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کرکے آیندہ سماعت سے قبل تحریری رپورٹ جمع کرائی جائے۔
ہم نے یہ ایک دلچسپ ایجادکی مثال پیش کی ہے حالانکہ اس سسٹم میں مجرموں کو بچانے کے لیے سو راستے کھلے ہوئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ پانامہ لیکس سمیت کرپشن کے سیکڑوں راستے ہیں کرپٹ عناصر آسانی سے کوئی راستہ اختیارکرلیتے ہیں سیکڑوں بلکہ ہزاروں کرپشن کے ملزمان کے خلاف کارروائی ایک مشکل کام ہے۔
کرپشن کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کا ایک آسان طریقہ یہ ہے کہ کرپٹ افراد کے اثاثوں کی تحقیق بلا امتیاز غیر جانبدارانہ کی جائے سب سے پہلے حکمران اور اپوزیشن کے اکابرین کے اثاثے سختی سے چیک کیے جائیں۔ اس کے بعد سول اور فوجی بیورو کریسی کے اثاثے دیکھے جائیں پھر بڑے تاجروں صنعتکاروں کے اثاثوں کی چھان بین کی جائے اور جو بندہ بھی اپنی کمائی سے زیادہ اثاثوں کا مالک نکلے اسے عمر قید سے کم سزا نہ دی جائے اور اثاثوں کی چھان بین کرنے والے اگر بددیانتی کا ارتکاب کریں تو ان کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے شاید اس طرح کرپشن کنٹرول ہوسکے۔
ہمارے غریب اور پسماندہ ملک میں جہاں کی آبادی کا 50 فیصد سے زیادہ حصہ غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہا ہے، اشرافیہ کی اربوں روپوں کی لوٹ مارکی داستانیں ملک کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک بکھری پڑی ہیں۔
ایسے بڑے بڑے مالی اسکینڈل جو اربوں نہیں کھربوں روپوں پر مشتمل ہیں عدلیہ کی میزوں پر پڑے سڑ رہے ہیں یا انھیں گوشہ گمنامی میں دھکیل دیا گیا ہے، ہمارے ملک میں اشرافیہ اور اس کے حلحقوں نے بینکوں سے دو کھرب کے قرضے لیے اور معاف کرالیے یہ کیس عدلیہ تک گیا اور پھر اسے اشرافیہ نے گوشہ گمنامی مین دھکیل دیا۔
دو کھرب یعنی دو سو ارب روپوں کی رقم معمولی رقم نہیں ہوتی، اگر اسے صحیح طریقے سے عوام کی بھلائی کے لیے استعمال کیا جائے تو ملک کے تعلیم سے محروم بچوں کے لیے مفت تعلیمی سہولتیں اور بیماروں کے لیے مفت علاج کی سہولتیں فراہم کی جاسکتی ہیں۔ ہمارے وزیر اعظم کچھ شہروں میں غریب عوام کو صحت کارڈ تقسیم کر رہے ہیں بلکہ اس نیک کام کو انجام دیتے ہوئے، وزیراعظم کی آنکھوں سے آنسو بھی چھلک پڑے۔
مفت طبی سہولتیں فراہم کرنا حکومتوں کی ذمے داری ہوتی ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عوام کو مفت طبی سہولتیں فراہم کرنے کا خیال ہمارے حکمرانوں کو 69 سال بعد کیسے آیا؟ حالانکہ ہمارے یہی وزیراعظم آئین میں ترمیم کرا کر مسلسل وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز رہے ہیں۔ اس حوالے سے ایک اور بڑا اسکینڈل منظر عام پر آیا ہے جس کے مطابق سوئس بینکوں میں ''پاکستانیوں'' کے دو سو ارب جمع ہیں۔
عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ یہ دو سو ارب کی بھاری رقم بیرون ملک کے بینکوں میں مزدوروں نے جمع کرائے ہیں،کسانوں نے یا دوسرے غریب طبقات نے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر یہ دو سو ارب روپوں کی بھاری رقم کس کی ہے؟ ہمیں یقین ہے کہ یہ خبر ہماری عدلیہ کے جج صاحبان کی نظروں سے بھی گزری ہوگی۔ پھر کیا ہوا؟
ہماری امارت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ ایک نجی اسپتال کے مالک پر 462 ارب روپے کی کرپشن کے خلاف مقدمہ چل رہا ہے اور وہ صاحب زیر حراست ہیں، ان کے علاوہ کئی ایم این ایز اور ایم پی ایز پر اربوں کی کرپشن کے الزامات میڈیا کی زینت بنے ہوئے ہیں۔
تازہ انکشاف کے مطابق 400 سے زائد ''معزز پاکستانی'' آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں جن میں وزیراعظم کا خاندان بھی شامل ہے۔ یہ تو وہ کرپشن ہے جو منظر عام پر آئی ہے لیکن اندازہ ہے کہ ہماری ہزاروں افراد پر مشتمل اشرافیہ کسی نہ کسی حوالے سے اربوں کی کرپشن میں ملوث ہے۔اور بہت سارے قومی ادارے بھی اربوں کی کرپشن میں ملوث ہیں، ملک کی دولت کا ایک بہت بڑا حصہ ان عوام دشمن طاقتوں کے ہاتھوں میں ہے۔
یہ بڑی اچھی بات ہے کہ ہمارے دو سابق وزیر اعظموں کے خلاف بھی بھاری کرپشن کے الزامات میں مقدمات زیر سماعت ہیں لیکن ہمارے قانون اور انصاف کا نظام اتنا تیز اور پھرتیلا ہے کہ ان ملزمان کے کیس ان کی کئی نسلوں تک چلتے رہیں گے، کسی بینک سے دو چار لاکھ لوٹنے والے ڈاکو کے جرم کا فیصلہ تو نسبتاً جلدی ہوجاتا ہے لیکن بڑے مگرمچھوں کے خلاف چلنے والے کیس ان کی نسلوں تک چلتے رہتے ہیں۔
عدالت میں حاضری کو بھی اشرافیہ کے شہزادے توہین سمجھتے ہیں اور پیشیوں کی تاریخ پر تاریخ لیتے چلے جاتے ہیں ۔ لوگ اصغر خان کے ایک کیس کا حوالہ دیتے ہیں جو عشروں پر محیط ہے اصغر خان ہمارے ملک کے ایک نامور سیاستدان اور فضائیہ کے سربراہ رہے ہیں، ایسی شخصیت کی شنوائی اگر عشروں پر محیط ہو تو عام آدمی کے کیسوں کا کیا حال ہوگا۔ تازہ خبر کے مطابق دو بھائیوں کو چند دن پہلے بے گناہ قرار دیا گیا ہے جب کہ دو سال پہلے انھیں پھانسی دی جا چکی تھی۔ یہ ہے ہمارے قانون اور انصاف کا حال۔
سرمایہ دارانہ نظام میں قانون اور انصاف ایک ایسی چھلنی کی طرح ہوتے ہیں جس میں سے کرپشن بدعنوانیاں پانی کی طرح باہر نکلتی رہتی ہیں اور اس نظام کے اداکار کرپشن کی ایسی ایسی راہیں نکالتے ہیں کہ انسان محو حیرت رہ جاتا ہے۔ پلی بارگین بھی اسی چھلنی سے نکلنے والی اس قدر دلچسپ برائی ہے جس کے ایجاد کنندہ کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہے۔
پلی بارگین کے مطابق ایک ارب کی کرپشن کا ارتکاب کرنے والا ایک کروڑ کا جرمانہ ادا کرکے گنگا نہا لیتا ہے اگر ملازم ہو تو اس کو دوبارہ اسی پوسٹ پر کام کرنے کی سہولت دی جاتی ہے ۔ اس کے خلاف سپریم کورٹ نے ایکشن لیتے ہوئے اس اصول کو معطل کردیا ہے۔ عدالت نے چیف سیکریرٹری کو ہدایت کی ہے کہ سرکاری محکموں میں جن لوگوں نے پلی بارگین سے فائدہ اٹھایا، ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کرکے آیندہ سماعت سے قبل تحریری رپورٹ جمع کرائی جائے۔
ہم نے یہ ایک دلچسپ ایجادکی مثال پیش کی ہے حالانکہ اس سسٹم میں مجرموں کو بچانے کے لیے سو راستے کھلے ہوئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ پانامہ لیکس سمیت کرپشن کے سیکڑوں راستے ہیں کرپٹ عناصر آسانی سے کوئی راستہ اختیارکرلیتے ہیں سیکڑوں بلکہ ہزاروں کرپشن کے ملزمان کے خلاف کارروائی ایک مشکل کام ہے۔
کرپشن کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کا ایک آسان طریقہ یہ ہے کہ کرپٹ افراد کے اثاثوں کی تحقیق بلا امتیاز غیر جانبدارانہ کی جائے سب سے پہلے حکمران اور اپوزیشن کے اکابرین کے اثاثے سختی سے چیک کیے جائیں۔ اس کے بعد سول اور فوجی بیورو کریسی کے اثاثے دیکھے جائیں پھر بڑے تاجروں صنعتکاروں کے اثاثوں کی چھان بین کی جائے اور جو بندہ بھی اپنی کمائی سے زیادہ اثاثوں کا مالک نکلے اسے عمر قید سے کم سزا نہ دی جائے اور اثاثوں کی چھان بین کرنے والے اگر بددیانتی کا ارتکاب کریں تو ان کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے شاید اس طرح کرپشن کنٹرول ہوسکے۔