تنازعات پارلیمنٹ میں حل ہونے چاہئیں
اسلام آباد پر قبضہ نہ ہو سکا، سپریم کورٹ نے کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا
tauceeph@gmail.com
اسلام آباد پر قبضہ نہ ہو سکا، سپریم کورٹ نے کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا، وزیراعظم نواز شریف رخصت نہ ہوئے اور تحریکِ انصاف اور حکومت کے وکلاء نے کمیشن کے فیصلے کو تسلیم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
عمران خان نے یومِ تشکرکے نام پر کارکنوں کو جمع کیا مگر جلسے میں لوگ کم آئے، کئی دنوں کی ہنگامہ آرائی، شہروں کو بند کرنے، آنسوگیس کی گولیوں سے خراب ہونے والی فضاء اور اربوں روپے کے نقصانات کا ذمے دارکون ہو گا؟ جب ذرایع ابلاغ پر پانامہ لیکس کے ناموں کے انکشاف کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے اپنی نشری تقریر میں سپریم کورٹ سے اس معاملے کی تحقیقات کی استدعا کی تھی تو سپریم کورٹ نے کمیشن کے قواعدوضوابط (Terms of References) کی تیاری کے لیے پارلیمنٹ کو ذمے دار قرار دیا تھا۔ پارلیمنٹ کی کمیٹی کے اراکین قواعد وضوابط پر متفق نہیں ہو سکے تھے۔
وفاقی وزراء کا کہنا تھا کہ حزبِ اختلاف ٹی او آرز کو صرف وزیراعظم اور ان کے خاندان تک محدود رکھنا چاہتی ہے۔ بیرسٹر اعتزاز احسن کہتے تھے کہ پانامہ لیکس کی تحقیقات میاں نواز شریف اور ان کے خاندان سے شروع ہونی چاہیے۔ عدم اتفاق رائے کی بناء پر پارلیمانی کمیٹی اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام رہی تھی۔ پارلیمنٹ کی اس معاملے میں ناکامی کے بعد عمران خان نے اسلام آباد پر دھرنے کا اعلان کیا تھا۔
تحریکِ انصاف، جماعت اسلامی اور دیگر افراد نے اس معاملے پر غور کے لیے سپریم کورٹ میں عرضداشت داخل کی تھی مگر عمران خان نے اس درخواست کی سماعت سے پہلے میاں نواز شریف کے استعفیٰ کے مطالبے کے لیے اسلام آباد پر دھرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس دھرنے کو حکومت نے روکنے کا فیصلہ کیا، اب عمران خان خوش ہیں کہ سپریم کورٹ نے کمیشن کے قیام کا فیصلہ کیا ہے اور چند دنوں بعد میاں صاحب کی تلاشی ہو گی اور وہ برطرف ہو کر جیل چلے جائیں گے۔
عمران خان کی تحریک کا ملک میں چلنے والی دیگر تحریکوں سے موازنہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ عمران خان مخصوص چھپے ہوئے مقاصد کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے تھے اور یہ مقاصد کسی اور کے تھے۔ عمران خان اور ان کی جماعت حکومت کی برطرفی کا ہدف حاصل نہیں کر سکی۔
تاریخ کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ 1977ء میں انتخابی دھاندلیوں کے خلاف چلائی جانے والی پاکستان قومی اتحاد (P.N.A) کی تحریک اور عمران خان کے دھرنوں میں خاصی یکسانیت نظر آتی ہے۔ مارچ 1977ء میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے انتخابات کرانے کا اعلان کیا۔ وزیراعظم بھٹو کے اس فیصلے کے بعد حزبِ اختلاف کی تقریباً تمام سیاسی جماعتیں پاکستان قومی اتحاد کے پلیٹ فارم پر متحد ہو گئیں۔
نیشنل عوامی پارٹی کے سربراہ ولی خان کی اہلیہ نسیم ولی خان، سردار شیرباز خان مزاری کی جماعت این ڈی پی، اصغرخان کی تحریکِ استقلال، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام، جمعیت علمائے پاکستان، پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی اور مسلم لیگ وغیرہ ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہو گئیں۔ پی این اے کا سربراہ مفتی محمود کو اور سیکریٹری جنرل جے یو پی کے رفیق باجوہ کو منتخب کیا گیا۔ یہ متضاد نظریات رکھنے والی سیاسی جماعتوں کا عجیب اتحاد تھا۔ اس اتحاد کو ملک کے نجی شعبے کی مکمل حمایت حاصل تھی۔
یہ بھی کہا جاتا تھا کہ امریکا پی این اے کی مدد کر رہا تھا۔ پی این اے کے سیکریٹری جنرل رفیق باجوہ کی وزیراعظم سے ملاقات کی خبروں کی اشاعت کے بعد وہ مستعفیٰ ہوئے اور پروفیسرغفوراحمد سیکریٹری جنرل بنا دیے گئے۔ انتخابی دھاندلیوں کے خلاف تحریک چلی۔ کراچی اور لاہور میں پولیس کے سڑکوں پر جمع ہونے والے ہجوم پر اندھادھند تشدد کے بعد پوری دنیا میں انسانی حقوق کی پامالی پر خوب شور مچا تھا۔
حکومت اور پی این اے کے رہنماؤں میں مذاکرات شروع ہوئے تو ایئر مارشل اصغر خان نے مسلح افواج کے جوانوں اور افسروں کے نام لکھے خط میں انھیں حکومت کے خلاف بغاوت کے لیے کہا مگر جس شام حکومت اور پی این اے کے درمیان نئے انتخابات منعقد کرانے کے بارے میں سمجھوتہ ہوا۔ اسی رات جنرل ضیاء الحق نے بھٹو حکومت کو برطرف کر کے مارشل لاء نافذ کر دیا اور مارشل لاء کے نفاذ کے بعد پی این اے کے رہنما جنرل ضیاء الحق کی حکومت کا حصہ بن گئے۔
یہ ثابت ہو گیا کہ پی این اے کی تحریک کا مقصد فوج کو اقتدار میں لانا تھا۔ جب دو سال قبل عمران خان نے مبینہ انتخابی دھاندلیوں کے خلاف دھرنے کا فیصلہ کیا تھا تو انھوں نے فوراً میاں نواز شریف کی برطرفی اور ٹیکنوکریٹس کی حکومت کے قیام کا مطالبہ کر دیا تھا، پھر وہ دھرنے کے جلسوں میں بار بار یہ کہتے تھے کہ امپائرکی انگلی اٹھنے کا انتظار ہے۔ وہ اپنی تقاریر میں مسلسل الیکشن کمیشن کے اراکین پر تنقید کرتے تھے مگر یہ مطالبہ نہیں کرتے تھے کہ اراکین کے تقررکا طریقہ کار تبدیل کیا جائے۔ وہ محض یہ ثابت کرنے کے لیے کہ یہ اراکین فرائض صحیح طریقے سے انجام نہیں دے سکے انھیں ہٹانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ محض وہ اپنی پسند کے الیکشن کمیشن کے قیام کا پرچار کرتے تھے۔
بین الاقوامی حالات میں تبدیلی اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے منتخب حکومت کے کردار پر دنیا بھر میں اتفاق رائے کی بناء پر طالع آزما قوتیں اپنے مقاصد حاصل نہ کر سکیں، کروڑوں روپے خرچ ہونے کے باوجود اسلام آباد کے دھرنے کے نتائج برآمد نہیں ہو سکے تھے۔ نواز شریف حکومت نے خارجہ اور دفاع کے شعبوں میں اپنی حیثیت کو محدود کر لیا تھا۔ عمران خان کو مطلوبہ مدد نہ ملنے کی بناء پر وہ مایوسی کا شکار ہوئے تھے اور انتخابی دھاندلیوں کی تحقیقات کے لیے کمیشن کے قیام پر متفق ہو گئے۔ آرمی پبلک اسکول پر دہشتگردی کے واقعے کی بناء پر انھیں دھرنے کے خاتمے کا جواز مل گیا ۔
پانامہ لیکس کے افشاء ہونے پر کسی بھی عدالتی فیصلے سے پہلے عمران خان نے میاں نواز شریف کی برطرفی کا نعرہ لگا دیا تھا اور ایک دفعہ پھر امپائر کی انگلی اٹھنے کا پروپیگنڈہ کر رہے تھے۔ کچھ سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ عمران خان کا ایک مقصد اگلے انتخابات کے لیے ابھی سے رائے عامہ ہموار کرنا تھا۔ انھوں نے پورے ملک میں خوب جلسے کیے، صرف کراچی کا جلسہ مایوس کن تھا مگر پنجاب میں ان کے جلسوں میں بے تحاشا لوگوں نے شرکت کی تھی۔ خاص طور پر رائیونڈ میں ہونے والا جلسہ تاریخی تھا۔ انھوں نے پنجاب میں پولیس کے آپریشن، سڑکوں پر رکھے گئے کنٹینر سے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ اور بہت سے کارکنوں کی گرفتاریوں کے ذریعے حکومت کے خلاف فضاء بنانے میں کامیابی حاصل کی تھی۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات میں ان کے حامی وکلاء کی کامیابی بھی اسی فضاء میں ہوئی مگر اب عمران خان نے یومِ تشکر کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ انھوں نے اپنے مقاصد حاصل کر لیے مگر وہ ''یوٹرن خان'' کی حیثیت سے مشہور ہو گئے۔ اس صورتحال میں وفاقی حکومت کا طرزِ عمل بھی خاصا قابلِ بحث ہے۔ جب سپریم کورٹ نے معاملہ پارلیمنٹ کے سپرد کیا تو پھر مسلم لیگ ن کا کردار شروع ہوا تھا۔ پارلیمنٹ کی کمیٹی میں پیپلز پارٹی کے رہنما بیرسٹر اعتزاز احسن نے سخت مؤقف اختیار کیا۔ ان کے مؤقف کے پس پشت سابق صدر آصف علی زرداری کی وفاقی حکومت کے خلاف شکایات تھیں۔ ان شکایات کا تعلق حکومتِ سندھ اور ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری سے تھا۔
وزیرداخلہ نثارعلی خان نے ان معاملات پر منفی رویہ اختیارکیا تھا۔ انھوں نے تو زیرحراست ڈاکٹر عاصم کا انٹرویو میڈیا پر جاری ہونے کے معاملے کی تحقیقات کے بجائے ڈاکٹر عاصم کے مبینہ بیان کے بعض حصوں کو پیپلز پارٹی کے خلاف چارج شیٹ قرار دیا اور اگر وزیراعظم چوہدری نثار کو کنٹرول کرتے تو اعتزاز احسن شاید اتنا سخت رویہ اختیار نہ کرتے۔ یوں پانامہ لیکس کی تحقیقات کے لیے ٹی او آر پر اتفاق ہو پاتا اور عمران خان کو اس معاملے کو استعمال کر کے اور طالع آزما قوتوں کو اپنے ہدف حاصل کرنے کا موقع نہیں ملتا۔
پیپلز پارٹی نے نواز حکومت کے خلاف اس اہم موقعے پر اسی طرح کا رویہ اختیارکیا جس طرح میموگیٹ پر میاں نواز شریف نے مؤقف اختیارکیا تھا۔ پانامہ لیکس کے معاملے پر پارلیمنٹ میں موجود جماعتوں کے انتہاپسند رویے کا مجموعی طور پر نقصان حکومت کو ہوا مگر اب بھی سیاسی جماعتوں کے لیے اس پورے جھگڑے میں ایک بڑا سبق یہ ہے کہ تنازعات پارلیمنٹ میں ہی حل ہو جائیں تو سب کا فائدہ ہے ورنہ تمام سیاسی قوتوں کو اس سے نقصان ہو گا۔
عمران خان نے یومِ تشکرکے نام پر کارکنوں کو جمع کیا مگر جلسے میں لوگ کم آئے، کئی دنوں کی ہنگامہ آرائی، شہروں کو بند کرنے، آنسوگیس کی گولیوں سے خراب ہونے والی فضاء اور اربوں روپے کے نقصانات کا ذمے دارکون ہو گا؟ جب ذرایع ابلاغ پر پانامہ لیکس کے ناموں کے انکشاف کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے اپنی نشری تقریر میں سپریم کورٹ سے اس معاملے کی تحقیقات کی استدعا کی تھی تو سپریم کورٹ نے کمیشن کے قواعدوضوابط (Terms of References) کی تیاری کے لیے پارلیمنٹ کو ذمے دار قرار دیا تھا۔ پارلیمنٹ کی کمیٹی کے اراکین قواعد وضوابط پر متفق نہیں ہو سکے تھے۔
وفاقی وزراء کا کہنا تھا کہ حزبِ اختلاف ٹی او آرز کو صرف وزیراعظم اور ان کے خاندان تک محدود رکھنا چاہتی ہے۔ بیرسٹر اعتزاز احسن کہتے تھے کہ پانامہ لیکس کی تحقیقات میاں نواز شریف اور ان کے خاندان سے شروع ہونی چاہیے۔ عدم اتفاق رائے کی بناء پر پارلیمانی کمیٹی اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام رہی تھی۔ پارلیمنٹ کی اس معاملے میں ناکامی کے بعد عمران خان نے اسلام آباد پر دھرنے کا اعلان کیا تھا۔
تحریکِ انصاف، جماعت اسلامی اور دیگر افراد نے اس معاملے پر غور کے لیے سپریم کورٹ میں عرضداشت داخل کی تھی مگر عمران خان نے اس درخواست کی سماعت سے پہلے میاں نواز شریف کے استعفیٰ کے مطالبے کے لیے اسلام آباد پر دھرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس دھرنے کو حکومت نے روکنے کا فیصلہ کیا، اب عمران خان خوش ہیں کہ سپریم کورٹ نے کمیشن کے قیام کا فیصلہ کیا ہے اور چند دنوں بعد میاں صاحب کی تلاشی ہو گی اور وہ برطرف ہو کر جیل چلے جائیں گے۔
عمران خان کی تحریک کا ملک میں چلنے والی دیگر تحریکوں سے موازنہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ عمران خان مخصوص چھپے ہوئے مقاصد کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے تھے اور یہ مقاصد کسی اور کے تھے۔ عمران خان اور ان کی جماعت حکومت کی برطرفی کا ہدف حاصل نہیں کر سکی۔
تاریخ کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ 1977ء میں انتخابی دھاندلیوں کے خلاف چلائی جانے والی پاکستان قومی اتحاد (P.N.A) کی تحریک اور عمران خان کے دھرنوں میں خاصی یکسانیت نظر آتی ہے۔ مارچ 1977ء میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے انتخابات کرانے کا اعلان کیا۔ وزیراعظم بھٹو کے اس فیصلے کے بعد حزبِ اختلاف کی تقریباً تمام سیاسی جماعتیں پاکستان قومی اتحاد کے پلیٹ فارم پر متحد ہو گئیں۔
نیشنل عوامی پارٹی کے سربراہ ولی خان کی اہلیہ نسیم ولی خان، سردار شیرباز خان مزاری کی جماعت این ڈی پی، اصغرخان کی تحریکِ استقلال، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام، جمعیت علمائے پاکستان، پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی اور مسلم لیگ وغیرہ ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہو گئیں۔ پی این اے کا سربراہ مفتی محمود کو اور سیکریٹری جنرل جے یو پی کے رفیق باجوہ کو منتخب کیا گیا۔ یہ متضاد نظریات رکھنے والی سیاسی جماعتوں کا عجیب اتحاد تھا۔ اس اتحاد کو ملک کے نجی شعبے کی مکمل حمایت حاصل تھی۔
یہ بھی کہا جاتا تھا کہ امریکا پی این اے کی مدد کر رہا تھا۔ پی این اے کے سیکریٹری جنرل رفیق باجوہ کی وزیراعظم سے ملاقات کی خبروں کی اشاعت کے بعد وہ مستعفیٰ ہوئے اور پروفیسرغفوراحمد سیکریٹری جنرل بنا دیے گئے۔ انتخابی دھاندلیوں کے خلاف تحریک چلی۔ کراچی اور لاہور میں پولیس کے سڑکوں پر جمع ہونے والے ہجوم پر اندھادھند تشدد کے بعد پوری دنیا میں انسانی حقوق کی پامالی پر خوب شور مچا تھا۔
حکومت اور پی این اے کے رہنماؤں میں مذاکرات شروع ہوئے تو ایئر مارشل اصغر خان نے مسلح افواج کے جوانوں اور افسروں کے نام لکھے خط میں انھیں حکومت کے خلاف بغاوت کے لیے کہا مگر جس شام حکومت اور پی این اے کے درمیان نئے انتخابات منعقد کرانے کے بارے میں سمجھوتہ ہوا۔ اسی رات جنرل ضیاء الحق نے بھٹو حکومت کو برطرف کر کے مارشل لاء نافذ کر دیا اور مارشل لاء کے نفاذ کے بعد پی این اے کے رہنما جنرل ضیاء الحق کی حکومت کا حصہ بن گئے۔
یہ ثابت ہو گیا کہ پی این اے کی تحریک کا مقصد فوج کو اقتدار میں لانا تھا۔ جب دو سال قبل عمران خان نے مبینہ انتخابی دھاندلیوں کے خلاف دھرنے کا فیصلہ کیا تھا تو انھوں نے فوراً میاں نواز شریف کی برطرفی اور ٹیکنوکریٹس کی حکومت کے قیام کا مطالبہ کر دیا تھا، پھر وہ دھرنے کے جلسوں میں بار بار یہ کہتے تھے کہ امپائرکی انگلی اٹھنے کا انتظار ہے۔ وہ اپنی تقاریر میں مسلسل الیکشن کمیشن کے اراکین پر تنقید کرتے تھے مگر یہ مطالبہ نہیں کرتے تھے کہ اراکین کے تقررکا طریقہ کار تبدیل کیا جائے۔ وہ محض یہ ثابت کرنے کے لیے کہ یہ اراکین فرائض صحیح طریقے سے انجام نہیں دے سکے انھیں ہٹانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ محض وہ اپنی پسند کے الیکشن کمیشن کے قیام کا پرچار کرتے تھے۔
بین الاقوامی حالات میں تبدیلی اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے منتخب حکومت کے کردار پر دنیا بھر میں اتفاق رائے کی بناء پر طالع آزما قوتیں اپنے مقاصد حاصل نہ کر سکیں، کروڑوں روپے خرچ ہونے کے باوجود اسلام آباد کے دھرنے کے نتائج برآمد نہیں ہو سکے تھے۔ نواز شریف حکومت نے خارجہ اور دفاع کے شعبوں میں اپنی حیثیت کو محدود کر لیا تھا۔ عمران خان کو مطلوبہ مدد نہ ملنے کی بناء پر وہ مایوسی کا شکار ہوئے تھے اور انتخابی دھاندلیوں کی تحقیقات کے لیے کمیشن کے قیام پر متفق ہو گئے۔ آرمی پبلک اسکول پر دہشتگردی کے واقعے کی بناء پر انھیں دھرنے کے خاتمے کا جواز مل گیا ۔
پانامہ لیکس کے افشاء ہونے پر کسی بھی عدالتی فیصلے سے پہلے عمران خان نے میاں نواز شریف کی برطرفی کا نعرہ لگا دیا تھا اور ایک دفعہ پھر امپائر کی انگلی اٹھنے کا پروپیگنڈہ کر رہے تھے۔ کچھ سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ عمران خان کا ایک مقصد اگلے انتخابات کے لیے ابھی سے رائے عامہ ہموار کرنا تھا۔ انھوں نے پورے ملک میں خوب جلسے کیے، صرف کراچی کا جلسہ مایوس کن تھا مگر پنجاب میں ان کے جلسوں میں بے تحاشا لوگوں نے شرکت کی تھی۔ خاص طور پر رائیونڈ میں ہونے والا جلسہ تاریخی تھا۔ انھوں نے پنجاب میں پولیس کے آپریشن، سڑکوں پر رکھے گئے کنٹینر سے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ اور بہت سے کارکنوں کی گرفتاریوں کے ذریعے حکومت کے خلاف فضاء بنانے میں کامیابی حاصل کی تھی۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات میں ان کے حامی وکلاء کی کامیابی بھی اسی فضاء میں ہوئی مگر اب عمران خان نے یومِ تشکر کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ انھوں نے اپنے مقاصد حاصل کر لیے مگر وہ ''یوٹرن خان'' کی حیثیت سے مشہور ہو گئے۔ اس صورتحال میں وفاقی حکومت کا طرزِ عمل بھی خاصا قابلِ بحث ہے۔ جب سپریم کورٹ نے معاملہ پارلیمنٹ کے سپرد کیا تو پھر مسلم لیگ ن کا کردار شروع ہوا تھا۔ پارلیمنٹ کی کمیٹی میں پیپلز پارٹی کے رہنما بیرسٹر اعتزاز احسن نے سخت مؤقف اختیار کیا۔ ان کے مؤقف کے پس پشت سابق صدر آصف علی زرداری کی وفاقی حکومت کے خلاف شکایات تھیں۔ ان شکایات کا تعلق حکومتِ سندھ اور ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری سے تھا۔
وزیرداخلہ نثارعلی خان نے ان معاملات پر منفی رویہ اختیارکیا تھا۔ انھوں نے تو زیرحراست ڈاکٹر عاصم کا انٹرویو میڈیا پر جاری ہونے کے معاملے کی تحقیقات کے بجائے ڈاکٹر عاصم کے مبینہ بیان کے بعض حصوں کو پیپلز پارٹی کے خلاف چارج شیٹ قرار دیا اور اگر وزیراعظم چوہدری نثار کو کنٹرول کرتے تو اعتزاز احسن شاید اتنا سخت رویہ اختیار نہ کرتے۔ یوں پانامہ لیکس کی تحقیقات کے لیے ٹی او آر پر اتفاق ہو پاتا اور عمران خان کو اس معاملے کو استعمال کر کے اور طالع آزما قوتوں کو اپنے ہدف حاصل کرنے کا موقع نہیں ملتا۔
پیپلز پارٹی نے نواز حکومت کے خلاف اس اہم موقعے پر اسی طرح کا رویہ اختیارکیا جس طرح میموگیٹ پر میاں نواز شریف نے مؤقف اختیارکیا تھا۔ پانامہ لیکس کے معاملے پر پارلیمنٹ میں موجود جماعتوں کے انتہاپسند رویے کا مجموعی طور پر نقصان حکومت کو ہوا مگر اب بھی سیاسی جماعتوں کے لیے اس پورے جھگڑے میں ایک بڑا سبق یہ ہے کہ تنازعات پارلیمنٹ میں ہی حل ہو جائیں تو سب کا فائدہ ہے ورنہ تمام سیاسی قوتوں کو اس سے نقصان ہو گا۔