یہودی جاسوس پاکستانی ایٹمی پروگرام کی معلومات لیتا رہا سی آئی اے

1985 میں جوناتھن امریکا میں اسرائیلی سفارتخانے میں پناہ لینے کی کوشش کے وقت گرفتار ہوا۔

1987 میں اسرائیل کو دفاعی رازوں سے متعلق دستاویزات دینے کی پاداش میں عمر قید سنائی گئی. فوٹو: وکی پیڈیا

امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی حال ہی میں جاری کردہ دستاویزات کے مطابق اسرائیل کیلیے جاسوسی کی پاداش میں عمر قید کی سزا کاٹنے والا امریکی یہودی جوناتھن پولاڈ جاسوس عرب ملکوں اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے متعلق معلومات جمع کرتا رہا۔

اتوارکوعرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ دنوں سی آئی اے کی جانب سے مشتہر کی جانے والی خفیہ دستاویزات سے امریکی بحریہ کے سابقہ تجزیہ کار کے مالی مسائل اور عجیب و غریب عادات و اطوار سے متعلق ناقابل یقین گوشے سامنے آئے ہیں۔ جوناتھن نے کہا کہ ایک دن آئرش ریپبلک آرمی نے انہیں بیگم سمیت اغوا کر لیا تھا۔ 1985 میں جوناتھن امریکا میں اسرائیلی سفارتخانے میں پناہ لینے کی کوشش کے وقت گرفتار ہوا۔ اسے 1987 میں اسرائیل کو دفاعی رازوں سے متعلق خفیہ دستاویزات دینے کی پاداش میں عمر قید سنائی گئی۔




سی آئی اے کی جانب سے کلاسیفائیڈ دستاویزات کو مشتہر کیے جانے کے بعد جوناتھن کے تفتیش کاروںکے دیے گئے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے پاکستان اور عرب ملکوں کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں معلومات اکھٹی کرنے کا فریضہ سونپا گیا تھا۔گمان کیا جاتا ہے کہ جوناتھن نے تیونس میں تنظیم آزادی فلسطین کے دفتر کی نشاندہی کی، اس نے 1985میں اسرائیلی فضائی حملے کی منصوبہ بندی میں مدد کی، اس نے امریکا کے سامنے یہ گمراہ کن تجزیہ بھی پیش کیا تھا کہ شام، گولان کی پہاڑیوں کو اسرائیل تسلط سے آزاد کرانے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ جوناتھن نے 1995 میں اسرائیلی شہریت حاصل کی جس کے بعد تل ابیب نے انھیں اپنا جاسوس ماننے کا پہلی مرتبہ اعتراف کیا۔ اس وقت سے تل ابیب جوناتھن کی امریکا سے رہائی کے لیے مختلف فورم پر کوشاں ہے۔
Load Next Story