کراچی میں دہشت گردی کی تازہ لہر

کالعدم سیاسی جماعتوں کے کارندوں کے فعال ہونے کی خبریں اور حالیہ وارداتوں پر غور کرنے کی اشد ضرورت ہے

، فوٹو؛ آن لائن

کراچی آپریشن شروع ہونے کے بعد ایک عرصے سے شہر قائد سکون و عافیت میں تھا کہ جمعہ کو محض ایک گھنٹے میں ہونے والی تین مختلف ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں نے شہریوں کو لرزہ دیا ہے اور گزشتہ دہائی میں ہونے والی روزمرہ ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں کی یاد تازہ ہو گئی ہے جب روزانہ کی بنیاد پر 10-12 لاشوں کا گرنا معمول سمجھا جاتا تھا۔

جمعہ کے روز ایک گھنٹے کے دوران فائرنگ سے مذہبی جماعت کے 2 پیش اماموں سمیت 6 افراد جاںبحق ہو گئے۔ فائرنگ کے واقعات جس تواتر اور انداز سے پیش آئے اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ اہدافی قتل کی وارداتیں تھیں۔ مذکورہ وارداتوں کے بعد شہر میں خوف و ہراس کا ماحول رہا جب کہ رات میں مذہبی جماعت کی جانب سے مختلف علاقوں میں احتجاج کیا گیا، سہراب گوٹھ پر میتیں رکھ کر دھرنا دینے کے باعث شدید ٹریفک جام کی صورتحال کا سامنا رہا۔


لیاری جو ایک عرصے سے گینگ وار کارندوں کے ہاتھوں یرغمال رہنے کے بعد پرامن حالت میں تھا، وہاں بھی جمعہ کو لوڈشیڈنگ کے دوران جب سنگولین کے اہل علاقہ اپنے گھروں سے باہر بیٹھے تھے، لیاری گینگ کے کارندوں نے دستی بم سے حملہ کر دیا جس سے 2 خواتین اور بچوں سمیت 20 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔ وارداتوں کے بعد اچانک ہی جیسے قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی جاگ گئے اور مختلف کارروائیوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس نے 2 ٹارگٹ کلرز سمیت 63 افراد کو حراست میں لے لیا۔

بلاشبہ ملزمان کے خلاف کارروائیاں صائب ہیں لیکن شہریوں کی شکایت بجا ہے کہ وارداتوں سے پہلے محکمہ پولیس اور انٹیلی جنس ادارے کس خواب غفلت میں تھے؟ بعد از حادثہ جاگنے کی روایت کا خاتمہ ہونا ضروری ہے۔ نیز کراچی آپریشن جس مستعدی سے کیا گیا اور اس کے ثمرات بھی لوگوں کو محسوس ہو رہے تھے حالیہ وارداتیں اس آپریشن کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہیں۔ شہریوں کا یہ سوال بھی بجا ہے کہ کسی ایک سیاسی جماعت کی جانب آپریشن کا رخ موڑ دینے سے دوسری جانب غفلت تو نہیں برتی گئی۔

کالعدم سیاسی جماعتوں کے کارندوں کے فعال ہونے کی خبریں اور حالیہ وارداتوں پر غور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے، رینجرز اور پولیس مجرموں کے خلاف مزید فعال ہوں۔ تمام اداروں کو ملک کے معاشی ہب میں امن و امان کے قیام کے لیے مستعد ہو جانا چاہیے۔ مجرم کسی بھی طبقے یا جماعت سے تعلق رکھتے ہوں ان کی خلاف بے رحم کارروائی ہی وقت کی ضرورت ہے۔
Load Next Story