گداگری کے بعد ایک اور باعزت روزگار

کھیت اور فصلوں کا کام تو وقت اور موسم یا وتر سے تعلق رکھتا ہے

barq@email.com

ہمیں بڑی تشویش ہو رہی تھی کہ پاکستان میں جس رفتار سے حکومت اور اس کے محکمے خاص طور پر محکمہ تعلیم اور اس کے پرائیویٹ مددگار جو تھوک کی رفتار سے ''بے روزگار'' پیدا کر رہے ہیں ان کو کہاں کھپایا جائے گا۔

اگرچہ حکومت نے اس سلسلے میں بھی انکم سپورٹ اور طرح طرح کے کارڈز ایشو کر کے ایک اچھی خاصی تعداد کو ''بھیک'' مانگنے کے باعزت روزگار میں کھپایا ہوا ہے اور قرض لے لے کر جس تندہی اور مستعدی سے اس ''پیشے'' کو پھیلا رہی ہے وہ قابل تحسین ہے لیکن پچھلے دنوں ہمیں ایک بہت بڑا شاک لگا جس سے معلوم ہوا کہ صرف بھیک مانگنے کے باعزت روزگار سے کام چلنے والا نہیں ہے کچھ اور چاہیے وسعت بیروزگاراں کے لیے، یعنی ''مال'' بہت پیدا ہو رہا ہے اور کھپت صرف ایک پیسے میں ہو رہی ہے اس لیے کوئی دوسری سبیل بھی ہونی چاہیے۔

خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ پچھلے دنوں پتہ چلا کہ بھیک مانگنے کے باعزت پیشے کے ساتھ ساتھ بیروزگاری ختم کرنے کے ایک منصوبے کو بھی چالو کر دیا گیا ہے، مبارک ہو، شاید اس کا پتہ ہمیں جلدی نہ چلتا لیکن ایک اتفاقی واقعہ نے ہمیں جانکاری دی، ہوا یوں کہ ہمارے کھیت میں کچھ مزدوروں کی ضرورت پڑ گئی ایسے مواقع پر ہم مزدوروں کے ایک ٹھیکیدار سے رابطہ کر لیتے ہیں بلکہ کر لیتے تھے اور وہ مطلوبہ تعداد میں مزدور فراہم کر دیتا تھا لیکن اب جو ہم نے آرڈر دیا تو اس نے ہاتھ کھڑے کیے اور بولا مشکل ہے آدمی دوا کے لیے بھی نہیں مل رہے ہیں۔

کھیت اور فصلوں کا کام تو وقت اور موسم یا وتر سے تعلق رکھتا ہے اگر صحیح وقت پر کام نہ کیا جائے تو فصل کا بیڑا غرق ہو جاتا ہے، پوچھا معاملہ کیا ہے، دیہاڑی زیادہ مانگ رہے ہیں یا اور کوئی وجہ ہے بولا نہیں معاملہ اس سے بھی زیادہ خراب ہے وہ کہتے ہیں کہ کھیت میں ''کام'' کر کے ہمیں جو دیہاڑی ملتی ہے اس سے دگنی دیہاڑی ہمیں کام نہ کر کے مل رہی ہے وہ بھی کھانے پینے، سیر کرنے، ناچ دیکھنے اور گانا سننے کے ساتھ۔ تو کیا ہم پاگل ہیں جو سوکھی آدھی دیہاڑی پر کھیت میں گھسیٹتے پھریں، بات حیرت کی تھی آخر ایسا کون سا کام ان کو مل گیا۔

علاقے میں کوئی کارخانہ بھی تو نہیں بنا تھا کوئی اور روزگار بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا اس نے ایک شخص کا نام لیا جو ایک سیاسی پارٹی کا مقامی لیڈر تھا کہ اس نے سارے مزدوروں کو ڈبل دیہاڑی پر دھرنے کے لیے بک کیا ہوا ہے، تفصیل چاہی تو وہ کھلا کہ اوپر سے ہر لیڈر کو ٹارگٹ ملا ہے کہ اتنے آدمی لانے ہیں۔ وہ بھی نقصان میں نہیں رہے، ایک دو سڑکیں دو چار گلیاں یا ایک دو پل کھا لیں گے، ہم نے کہا لیکن یہ تو وقتی کام ہے اس کے بعد کیا کریں گے۔

بولا، ساری پارٹیوں کو آرڈر آ رہے ہیں کیونکہ ملک میں بڑے بڑے جلسے کرانے کا رجحان بڑھ رہا ہے اور امید ہے کہ انتخابات تک یہ روزگار جاری رہے گا، ہماری کاشت کاری کا بھٹہ بیٹھ جائے گا لیکن ہم پہلے ہی اس میں کہاں کے تھے حکومت نے ویسے بھی زراعت کو بلیک لسٹ میں ڈالا ہوا ہے، چھوڑ چھاڑ کر ہم بھی اس نئے باعزت بامنافع اور باتفریح روزگار سے منسلک ہو جائیں گے پھر جب آنکھوں کے سامنے وہ اخباری چینلاتی تصاویر پھر گئیں جو ایسے جلسے جلوسوں اور دھرنوں میں رقص پر مشتمل تھیں تو دل باغ باغ، گملہ گملہ، پھول پھول ہو گیا۔

چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی، بھاڑ میں جائے کھیت کھلیان اور یہ بوائی کٹائی، اللہ سلامت رکھے ہماری جدی پشتی بابرکت کشکول کو۔ کہیں بھی پھرا کر کچھ کھانے والے کی سبیل کر لیں گے ویسے بھی پچھلے دنوں مہا لکشمی آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کہہ چکی ہیں کہ قرضہ بہت بڑھ گیا ہے اور بزرگوں نے کہا ہے کہ قرضہ جب سو روپے سے بڑھ جائے تو فکر ناٹ عیش ہی عیش، وجہ بزرگوں نے یہ بتائی ہے کہ قرضہ اس وقت تک قرضہ اور تشویش ناک رہتا ہے جب تک مقروض کو اپنی عزت کا پاس ہو، رسوائی سے ڈرتا ہو کہ کہیں کسی کو میرے مقروض ہونے کا پتہ نہ چل جائے اور جب بات ہی طشت ازبام ہو جاتی ہے تو کب کسی نے مقروض کو مارا ہے۔


وہ ایک عورت دکاندار سے چوڑیاں خرید رہی تھیں دکاندار نے کہا کہ تمہارا شوہر تو پہلے ہی سے اچھا خاصا مقروض ہے، بولی، سو کا تو ویسے بھی مقروض ہے تو یہ ایک میری چوڑیوں کا بھی سہی۔ اور ہم اس بادشاہ اور اس وزیراعظم سے تو بڑے نہیں ہیں جن کے ملک میں ایسی بارش ہوئی کہ جس پر اس کا چھینٹا پڑا وہ پاگل ہو گیا۔ سارے ملک میں صرف بادشاہ اور وزیراعظم ہی بچے ہوئے تھے۔

اب یہ پرابلم ہو گئی کہ بادشاہ اور وزیراعظم جو بھی بات کرتے لوگ ان کا مذاق اڑاتے کہ پاگل ہے پاگل ہے، بادشاہ نے وزیر سے اس کا اپائے نکالنے کو کہا وزیر نے اٹھ کر ایک مٹکے سے اس بارش کا پانی نکالا پہلے بادشاہ نے سر پر ڈالا اور پھر اپنے سر پر انڈیل لیا، نہ کوئی بندہ رہا اور کوئی بندہ نواز۔ خلاصہ اس ساری بک بک کا یہ ہے کہ اب تشویش کی کوئی بات نہیں صرف گداگری کا واحد پیشہ ہی ''روزگار'' نہیں رہا بلکہ ایک اور پیشہ بھی ساتھ ساتھ چلنے لگا، جہاں تک ان دونوں پیشوں کے مستقبل کا سوال ہے تو خدا اپنے خادموں کو سلامت رکھے جب تک یہ زندہ ہیں چنتا کی کوئی بات نہیں ہے

تم شہر میں ہو تو کیا غم جب اٹھیں گے
لے آئیں گے بازار سے جا کر دل و جاں اور

ویسے بھی یہ دونوں پیشے بڑے پکے پیشے ہیں۔ ایک مرتبہ منہ کو لگ جائیں تو پھر چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی، ایک بادشاہ نے ایک بھکارن کی خوب صورتی پر لٹو ہو کر اسے اپنی ملکہ بنایا لیکن یہ دیکھ کر وہ پریشان ہو گیا کہ ملکہ کھانا یا تو کھاتی نہیں یا اگر کھاتی ہے تو ایک دو نوالے کھا کر بس کر دیتی ہے، ایک دن بادشاہ نے یہ تدبیر کی کہ کھانا کھانے کے بعد باہر نکلا تو فوراً واپس لوٹ آیا دیکھا تو کمرہ بندہ تھا کھڑکی کے سوراخ سے اندر دیکھا تو ملکہ نے جگہ جگہ طاقوں اور طاقچوں میں کھانے پینے کا سامان رکھا ہوا ہے اور خود جھولی پھیلا کر باری باری ان مقامات پر جاتی ہے اور کہتی ہے کہ اللہ کے نام پر کچھ دے دے بابا، اور پھر یہاں وہاں سے سب کچھ اٹھا کر بیٹھ گئی اور بڑی رغبت سے کھانے لگی۔

ایک اور بادشاہ کی بیٹی پرایک نوجوان عاشق ہو کر رشتے کا طالب ہوا تو بادشاہ نے کہا ٹھیک ہے لیکن تم ایک سال تک صرف بھیک مانگ کر گزارہ کرو گے نوجوان شرط پوری کر کے ایک سال بعد آیا تو بادشاہ نے کہا کہ اب ایک سال محنت کر کے گزارہ کرو تو شہزادی تمہاری۔ نوجوان نے سر پٹختے ہوئے کہا بھاڑ میں گئی شہزادی اور محنت۔ اور اپنا کشکول اٹھا کر چل دیا

اے طاہر لاہوتی اس ''عشق'' سے موت اچھی
جس عشق سے آتی ہو ''پرواز'' میں کوتاہی
Load Next Story