پنجاب زہریلی دھند کی لپیٹ میں
لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں اسموگ (زہریلی دھند) کا راج گزشتہ کئی روز سے برقرار ہے
۔ فوٹو: فائل
لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں اسموگ (زہریلی دھند) کا راج گزشتہ کئی روز سے برقرار ہے، اس خطرناک دھند کے باعث ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد پندرہ سے زاید ہو گئی ہے جب کہ بعض اخبارات کے مطابق بارہ سو کے لگ بھگ لوگ علاج کے لیے اسپتالوں میں داخل کر دیے گئے ہیں۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ پنجاب کے بعد خیبرپختونخوا میں بھی دھند کے لیے الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
کئی مقامات پر اس گہری دھند کی وجہ سے حد نگاہ بہت کم رہ گئی جس کی وجہ سے گاڑیاں چلانے والوں کو آگے پیچھے آنے جانے والی گاڑیاں نظر ہی نہ آئیں اور یوں حادثات پیش آتے رہے۔ ہر طرف چھائے دھوئیں کے بادلوں نے ہر چیز کو چھپائے رکھا۔ موٹر وے ذرایع کے مطابق لاہور سے سیال موڑ تک، ایم تھری، پنڈی بھٹیاں سے فیصل آباد تک اور ایم فور فیصل آباد سے سیالکوٹ، گوجرہ، شورکوٹ سیکشن تک بند کر دی گئی۔ محکمہ موسمیات نے ملک کے بیشتر علاقوں میں خشک موسم کی پیشگوئی کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے میدانی علاقوں میں گرد آلود دھند کا سلسلہ مزید ایک ہفتہ جاری رہنے کا امکان ہے۔
نیز رواں ماہ اور اگلے ماہ معمول سے کم بارش کی توقع ہے جس کے باعث گرد آلود ہواؤں اور دھند کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اس فضائی آلودگی کی مختلف وجوہات میں ایک وجہ یہ بھی بتائی گئی ہے کہ کہ متعدد کاشتکار اپنی فصل کاٹ کر کھیت میں باقی بچے ہوئے ڈنٹھلوں کو آگ لگا دیتے ہیں جس کا دھواں چاروں طرف پھیل جاتا ہے اور جو اسموگ چاروں طرف چھائی ہوئی ہے اس میں کھیتوں کا دھواں بھی شامل ہے۔ ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ کھیتوں میں بچے ہوئے فالتو مواد کو جلانے پر پابندی لگا دینی چاہیے اس سے بھی اسموگ میں کمی ہو سکتی ہے۔
لاہور میں اس سے بھی زیادہ وجہ سڑکوں کی بے تحاشا کھدائی کو قرار دیا گیا ہے جس سے ہمہ وقت شہر میں دھول اڑتی رہتی ہے جو بارش نہ ہونے کی وجہ سے اسموگ میں تبدیل ہو گئی ہے اور آنکھوں اور سانس کی بیماریوں کا موجب بن رہی ہے۔ ماحولیات میں خرابی کی بڑی وجوہات میں شہر کی درختوں سے محرومی کے باعث فضا کے جن زہریلے اثرات کو درخت جذب کر لیا کرتے تھے وہ اب فضا میں ہی پھیلے رہتے ہیں۔
پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں فضائی آلودگی بہت زیادہ ہے' پاکستان میں ماحولیات کسی بھی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل نہیں ہے' یہی وجہ ہے کہ سڑکوں کی تعمیر سے لے کر ریاستی کالونیاں بنانے تک ماحولیات کو سامنے رکھ کر منصوبہ بندی نہیں کی جاتی ہے' اگر حکومت ماحولیات پر توجہ دے' فضا کو آلودہ کرنے والے عوامل کو ختم کرنے پر توجہ دے تو زہریلی اسموگ جیسے عفریت سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے' اب ایک جانب ڈنگی وائرس کی تباہ کاریاں ہیں تو دوسری طرف اسموگ نے عوام کی صحت پر حملہ کر رکھا ہے' حکومت کا فرض محض تعمیراتی منصوبے بنانا نہیں بلکہ ماحول کو صاف ستھرا کرنا بھی ہے۔
کئی مقامات پر اس گہری دھند کی وجہ سے حد نگاہ بہت کم رہ گئی جس کی وجہ سے گاڑیاں چلانے والوں کو آگے پیچھے آنے جانے والی گاڑیاں نظر ہی نہ آئیں اور یوں حادثات پیش آتے رہے۔ ہر طرف چھائے دھوئیں کے بادلوں نے ہر چیز کو چھپائے رکھا۔ موٹر وے ذرایع کے مطابق لاہور سے سیال موڑ تک، ایم تھری، پنڈی بھٹیاں سے فیصل آباد تک اور ایم فور فیصل آباد سے سیالکوٹ، گوجرہ، شورکوٹ سیکشن تک بند کر دی گئی۔ محکمہ موسمیات نے ملک کے بیشتر علاقوں میں خشک موسم کی پیشگوئی کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے میدانی علاقوں میں گرد آلود دھند کا سلسلہ مزید ایک ہفتہ جاری رہنے کا امکان ہے۔
نیز رواں ماہ اور اگلے ماہ معمول سے کم بارش کی توقع ہے جس کے باعث گرد آلود ہواؤں اور دھند کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اس فضائی آلودگی کی مختلف وجوہات میں ایک وجہ یہ بھی بتائی گئی ہے کہ کہ متعدد کاشتکار اپنی فصل کاٹ کر کھیت میں باقی بچے ہوئے ڈنٹھلوں کو آگ لگا دیتے ہیں جس کا دھواں چاروں طرف پھیل جاتا ہے اور جو اسموگ چاروں طرف چھائی ہوئی ہے اس میں کھیتوں کا دھواں بھی شامل ہے۔ ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ کھیتوں میں بچے ہوئے فالتو مواد کو جلانے پر پابندی لگا دینی چاہیے اس سے بھی اسموگ میں کمی ہو سکتی ہے۔
لاہور میں اس سے بھی زیادہ وجہ سڑکوں کی بے تحاشا کھدائی کو قرار دیا گیا ہے جس سے ہمہ وقت شہر میں دھول اڑتی رہتی ہے جو بارش نہ ہونے کی وجہ سے اسموگ میں تبدیل ہو گئی ہے اور آنکھوں اور سانس کی بیماریوں کا موجب بن رہی ہے۔ ماحولیات میں خرابی کی بڑی وجوہات میں شہر کی درختوں سے محرومی کے باعث فضا کے جن زہریلے اثرات کو درخت جذب کر لیا کرتے تھے وہ اب فضا میں ہی پھیلے رہتے ہیں۔
پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں فضائی آلودگی بہت زیادہ ہے' پاکستان میں ماحولیات کسی بھی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل نہیں ہے' یہی وجہ ہے کہ سڑکوں کی تعمیر سے لے کر ریاستی کالونیاں بنانے تک ماحولیات کو سامنے رکھ کر منصوبہ بندی نہیں کی جاتی ہے' اگر حکومت ماحولیات پر توجہ دے' فضا کو آلودہ کرنے والے عوامل کو ختم کرنے پر توجہ دے تو زہریلی اسموگ جیسے عفریت سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے' اب ایک جانب ڈنگی وائرس کی تباہ کاریاں ہیں تو دوسری طرف اسموگ نے عوام کی صحت پر حملہ کر رکھا ہے' حکومت کا فرض محض تعمیراتی منصوبے بنانا نہیں بلکہ ماحول کو صاف ستھرا کرنا بھی ہے۔