عدلیہ کے فیصلے کا انتظار کریں

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں ایک پانچ رکنی بینچ پانامہ لیکس کیس کی سماعت کررہا ہے

فریقین سے کہا گیا کہ عدالت کو مطمئن کریں اور سکون سے گھر جائیں۔ فوٹو: فائل

اس حقیقت میں اب کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں رہی ہے کہ جمہوری عمل کے تسلسل کے باعث آج ملک میں آزاد عدلیہ اپنے وجود کا احساس دلارہی ہے۔

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں ایک پانچ رکنی بینچ پانامہ لیکس کیس کی سماعت کررہا ہے، وزیراعظم میاں محمد نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز، بیٹوں حسین نواز اور حسن نواز کی طرف سے جوابات جمع کرا دیے گئے ہیں یوں حکمرانوں کی مبینہ کرپشن کے حوالے سے جوابدہی اور عدالتی احتساب کا جو مطالبہ اپوزیشن جماعتوں نے کیا تھا اس کی پذیرائی ہوئی ہے، معاملہ چونکہ عدالت میں ہے اس لیے صائب رائے یہی ہے کہ فریقین عدالت کے فیصلے کا انتظار کریں، کمرہ عدالت سے باہر یا پریس کانفرنسوں اور ٹی وی ٹاک شوز میں ایسے بیانات اور الزامات سے کسی کو یہ موقع نہ دیں کہ اسے عدالت پر اثر انداز ہونے پر محمول کیا جائے۔

درخواست دہندگان اور مدعیان کو ادراک کرنا چاہیے کہ ان کی خیال آرائی، بلیم گیم ، تبصروں اور شعلہ نوائی کی حد جہاں ختم ہوتی ہے وہاں سے عدلیہ کے دائرہ اختیار یا اس کی جورسڈکشن Jurisdictionکا مرحلہ آتا ہے ۔ ملک کے دو ماہرین قانون نے پانامہ لیکس کیس کے ضمن میں موقف اختیار کیا ہے کہ سپریم کورٹ کو کمیشن بنانے کا اختیار نہیں ہے، سینیٹ میں حزب اختلاف کے قائد چوہدری اعتزاز احسن اسی رائے کے حامی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ اپوزیشن جماعتوں کے بل کی روشنی مین فیصلہ کرے، جب کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ عدالت عظمیٰ نئی مثالیں قائم نہ کرے، احتساب کے عمل کو کسی ایک شخص سے نہ جوڑا جائے، البتہ دونوں نے تجویز دی ہے کہ سپریم کورٹ اپنی نگرانی میں اس کیس کی تحقیقات کرے۔ تاہم اب جب کہ پانامہ لیکس کیس سنا جارہا ہے، وزیراعظم نے خود کو احتساب کے لیے پیش کیا ہے، سب نے عدلیہ پر اعتماد کیا ہے۔

وزیراعظم نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ پانامہ پیپر لیکس میں ان کا نام نہیں، اور ان کی کوئی آف شور کمپنی یا لندن میں جائیداد نہیں ہے، اس لیے انصاف ، احتساب اورشفاف عدل کے منتظر فریقین اب صبر و تحمل سے کام لیں، قانون کو اپنا رستہ بنانے دیں۔ جورسڈکشن کی بحث میں نہ پڑیں، ججز سیاسی دباؤ یا انسانی جذبات کے پیش نظر فیصلے نہیں دیتے ۔ یہ انصاف کا سب سے اعلیٰ اور باوقار فورم ہے جہاں ججز شواہد و شہادتوں کی بنیاد پر قانونی وآئین کو رو سے فیصلہ کریں گے۔


چیف جسٹس نے قرار دیا ہے کہ کوئی نہیں بچے گا، مگر یہ بھی کہا ہے کہ ہم بادشاہ نہیں ہیں،آئین و قانون کی روشنی میں فیصلے کرتے ہیں، ان کے چشم کشا ریمارکس تھے کہ جمہوری پراسیس کو ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے، یہ یقین دہانی کسی سیاسی رہنما یا حکمرانوں کا وعدہ نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے منصف اعلیٰ کا مضطرب اور منتظر انصاف قوم سے وعدہ ہے۔ لہٰذا درخواست دہندگان ، سیاست دان اور مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین میڈیا ٹرائیل سے دور رہیں، قانونی موشگافیوں سے گریز کریں، جن سے خدا نخواستہ پیچیدگیاں اور الجنھیں بڑھیں تو کہیں انصاف و احتساب کا خواب ہی شرمندہ تعبیر نہ ہو جائے، جب کہ پوری قوم اس بات کی منتظر ہے کہ کرپشن کا مسئلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے اور عدلیہ ایسا فیصلہ دے کہ ملک بد انتظامی، مالیاتی بدعنوانی، اقربا پروری، جعل سازی، ٹیکس چھپانے ، کمیشن کھانے یا ملکی خزانہ کو لوٹنے اور پیسہ باہر لے جانے والوں سے حساب لیا جائے اور جن با اثر، ان ٹچ ایبلز اور طاقتور افراد کے خلاف عدالت فیصلہ دے وہ بلا چون و چرا عدالتی فیصلوں کو قبول کریں۔

عدلیہ نے یاد دلایا کہ حضرت عمرؓ کو ایک شخص نے کٹہرے میں کھڑا کیا۔ یہ تاریخی حوالہ اس امر کی یاد دلاتا ہے اب ملکی سیاست اور آزاد عدلیہ کے مابین شفاف حکمرانی کے سوال پر دھند چھٹے گی۔ فریقین سے کہا گیا کہ عدالت کو مطمئن کریں اور سکون سے گھر جائیں۔ چنانچہ الزامات کے شور میں کسی عجلتی فیصلہ کا تاثر بھی باقی نہیں رہنے دیا اور واضح طور پر فریقین سے کہا گیا ہے کہ کمیشن کا فیصلہ شواہد کو دیکھ کر کریں گے۔اب ٹھوس شواہد کا بار گراں درخواست دہندگان پر ہے ۔ قوم کو انصاف کی جس دہلیز تک سیاست لے آئی ہے اسے اب عدالتی فیصلوں کی تعمیل بھی کرنے کا حوصلہ اپنے اندر پیدا کرنا ہوگا۔ کسی قسم کے تحفظات کا کوئی منطقی جواز نہیں ہے۔

سپریم کورٹ نے پانامہ لیکس کے مقدمے میں فریقین کو تمام متعلقہ دستاویزات اور شواہد 15 نومبر تک جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے آبزرویشن دی کہ متعلقہ مواد کا جائزہ لینے کے بعد کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا جائے گا، چیف جسٹس نے کہا ہم درخواست گزاروں کی استدعا کی حد تک معاملہ دیکھیں گے، اس لیے جو بھی ثبوت ہیں جمع کرائیں اور اپنے دیگر ذرایع سے بھی مدد لیں، اس کے بعد پھر یہ نہ کہیں کہ کمیشن نے موقع نہیں دیا۔

امریکا کے سابق صدر اینڈریو جیکسن نے کہا تھا کہ ''شہریوں کو آئین کے تحت دیے گئے مسلمہ حقوق کی بازگشت بیکار ہے بہ جز اس کے کہ ان کی ضمانت ایک آزاد اور سچی عدلیہ کے ججز مہیا کریں۔''

 
Load Next Story