دہشت گردی کا مثبت علاج

امریکا اور اس کے اتحادیوں نے اربوں نہیں بلکہ کھربوں ڈالر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پھونک دیے

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

دہشت گردی کا پاکستان میں بڑی حد تک خاتمہ ہوگیا ہے لیکن دنیا کے کئی ملکوں میں جن میں عراق، شام، یمن اور افریقی ممالک شامل ہیں ابھی تک دہشت گردی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے اور مغربی ملکوں میں بھی آئے دن دہشت گردی کی کارروائیاں دیکھی جا رہی ہیں۔

امریکا اور اس کے اتحادیوں نے اربوں نہیں بلکہ کھربوں ڈالر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پھونک دیے لیکن دہشت گردی پر قابو نہیں پایا جاسکا۔ امریکا کے سابق صدر جارج بش نے دہشت گردی کے خلاف مہم میں افغانستان پر قبضہ کرلیا اور نیٹو جیسی بڑی فوجی طاقت کو دہشت گردی کے خلاف استعمال کیا لیکن امریکا اور اس کے اتحادیوں کو یہاں سے ناکامی اور رسوائی کے ساتھ واپس ہونا پڑا۔

9/11 کے المیے نے امریکا کی سیکیورٹی اور طاقت کا بھانڈا پھوڑ دیا اور جارج بش دنیا کی واحد سپر پاور کی اس توہین کو برداشت نہ کرسکے اور افغانستان پر چڑھ دوڑے لیکن لگتا یہی ہے کہ بش کو ان کے ایڈوائزروں نے صحیح مشورہ نہیں دیا نہ ان کے ایڈوائزروں کو یہ اندازہ تھا کہ افغانستان جیسے قبائلی اور پہاڑی ملک میں جنگ لڑنا اتنا آسان نہیں جتنا سمجھا گیا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اتحادیوں کے بھاری جانی نقصان کے علاوہ یہاں کھربوں ڈالروں کا مالی نقصان بھی برداشت کرنا پڑا اور سب سے بڑی ٹریجڈی یہ ہے کہ افغانستان سے بڑی ذلت اور رسوائی کے ساتھ واپس آنا پڑا۔

امریکا نے افغانستان میں اپنے قیام کے دوران افغانوں پر مشتمل فوج بھی کھڑی کردی اور اسے ٹرینڈ بھی کیا لیکن عملی صورت حال یہ ہے کہ افغان فوج اور چند ہزار امریکی فوج کا عمل دخل صرف کابل تک محدود ہوکر رہ گیا ہے اور افغانستان کا باقی حصہ اب بھی طالبان کے کنٹرول میں ہے۔

پچھلے دنوں کوئٹہ کے پولیس ٹریننگ سینٹر میں دہشت گردی کی جو خوفناک واردات ہوئی۔اس میں 63 اہلکار شہید اور سیکڑوں زخمی ہوگئے ہماری حکومت اور عسکری قیادت مسلسل یہ اعلان کر رہی ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کا خاتمہ کردیا گیا ہے لیکن ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ دہشت گرد اب بھی فعال ہیں اور جہاں انھیں موقعہ ملتا ہے دہشت گردی کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اس حوالے سے یہ بات بھی کہی جا رہی ہے کہ دہشت گرد آسان اہداف کو اپنی دہشت گردی کا ہدف بناتے ہیں۔


پولیس کا ٹریننگ سینٹر بہرحال آسان ہدف کی تعریف میں نہیں آتا کیونکہ ایسی جگہوں پر فطری طور پر سیکیورٹی سخت ہوتی ہے لیکن دیکھا یہی جا رہا ہے کہ دہشت گرد ایسی سخت سیکیورٹی کی جگہوں کو بھی اپنا ہدف بنالیتے ہیں۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ہماری سیکیورٹی فورسز اپنی جانوں کی قربانیاں دے کر بڑی حد تک دہشت گردی پر قابو پا چکی ہیں ۔خاص طور پر دہشت گردی کے گڑھ شمالی وزیرستان سے دہشت گردوں کا صفایا کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں لیکن ملک کے مختلف علاقوں خصوصاً پسماندہ قبائلی علاقوں میں دہشت گرد اب بھی موجود ہیں اور جہاں انھیں موقعہ ملتا ہے دہشت گردی کی کوئی بڑی واردات کرجاتے ہیں۔

کوئٹہ کے ٹریننگ سینٹر میں لازماً سیکیورٹی کا سخت انتظام ہونا چاہیے تھا لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہاں وہ سیکیورٹی مہیا نہیں تھی جو ہونا چاہیے تھا ورنہ دہشت گرد اتنی بڑی واردات جس میں لگ بھگ 150 اہلکاروں کو یرغمال بنانا بھی شامل ہے اتنی آسانی سے نہیں کرسکتے، کہا جا رہا ہے کہ اس ٹریننگ سینٹر میں 500 ٹرینی موجود تھے جس میں سے 63 کو شہید کردیا گیا اور لگ بھگ ڈیڑھ سو اہلکاروں کو یرغمال بنالیا گیا اگرچہ یرغمالیوں کو چھڑالیا گیا لیکن اتنی بڑی تعداد میں اہلکاروں کو یرغمال بنانے سے یہ اندازہ بہرحال ہوتا ہے کہ دہشت گرد کس قدر منظم اور متحرک ہیں۔

صدر اوباما بارہا کہہ چکے ہیں کہ عراق اور افغانستان پر چڑھائی بش حکومت کی بہت بڑی غلطی تھی ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بش نے اپنی اس احمقانہ مہم جوئی میں ڈنڈے کے زور پر پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن اسٹیٹ بناکر کھڑا کردیا جس کا فائدہ تو کچھ نہ ہوا البتہ 50 ہزار سے زیادہ پاکستانی اپنی جان سے گئے اور ایک غریب اور پسماندہ ملک (پاکستان) کو اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔ اس مہم جوئی میں شمولیت سے پہلے پاکستان دہشت گردی سے پاک تھا لیکن اس مہم جوئی کے نتیجے میں پاکستان دہشت گردوں کی فرنٹ لائن اسٹیٹ بن گیا۔

اس غلطی کا آغاز جنرل ضیا الحق کے دور میں ہوا جب اس آمر نے افغانستان سے روسی فوجوں کو نکالنے کے امریکی شاطرانہ منصوبے میں پاکستان کو شامل کیا اور طالبان کو یہ فرض سونپا گیا کہ وہ افغانستان سے روسی فوجوں کو نکالنے کا کردار ادا کریں۔ افغانستان جیسے گنجلک پہاڑی ملک سے روسی فوجوں کو نکالنے میں مذہبی انتہا پسند کامیاب تو ہوگئے لیکن اس کے بعد پاکستان مذہبی انتہا پسندی طالبان کا سب سے بڑا ہدف بن گیا۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ امریکا کی نئی آنے والی قیادت دنیا بھر میں پھیلنے والی دہشت گردی کے خلاف ہتھیاروں کی جنگ کے ساتھ ساتھ نظریاتی جنگ بھی لڑے۔ مذہبی انتہا پسندی قبائلی معاشروں کی دین ہے ،ان ملکوں میں جہاں قبائلی نظام ہے عوام کی تعلیم کو اولیت دی جائے اور میڈیا کے ذریعے مقامی زبانوں میں دہشت گردی کے نقصانات اور اسلامی تعلیمات کو قبائلی علاقوں تک پہنچائے یہی ایک ایسا مثبت طریقہ ہے جو خودکش بمباروں اور دین کی برتری کے نام پر بلاامتیاز مذہب و ملت قتل و غارت گری کرنے والوں کی ناک میں نکیل ڈال سکتا ہے اور دنیا مذہبی انتہا پسندی کی لعنت سے نجات حاصل کرسکتی ہے۔
Load Next Story