7 ماہ گزر گئے مولانا اسلم شیخوپری کے قاتل گرفتار نہ ہو سکے

بہادر آباد میں13مئی کومولانا اسلم کی گاڑی پرفائرنگ کی گئی تھی،واقعے میں مولانا سفرین اور2محافظ بھی زخمی ہوئے.

ملزمان کے بارے میںٹھوس اور مفید معلومات نہیں ملی،تحقیقات جاری ہیں،پولیس،مولانا اسلم شیخوپوری معذور اورکئی کتابوں کے مصنف تھے. فوٹو: فائل

عالم دین مولانا اسلم شیخو پوری اور ان کے ساتھی کے قتل میں ملوث ملزمان کا 7 ماہ بعد بھی کوئی سراغ نہ مل سکا ،کیس کی تحقیقات میں کوئی اہم پیش رفت نہیں ہوسکی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش جاری ہے لیکن ملزمان کے بارے میں تاحال کوئی ٹھوس اورمفید معلومات حاصل نہیں ہوسکی ہیں، واردات میں استعمال کیا جانے والا ہتھیار بھی کسی دوسری واردات میں استعمال کیے گئے اسلحے سے مشابہت نہیں رکھتا،تفصیلات کے مطابق 13 مئی کوبہادر آباد میں رنگون والا ہال کے قریب موٹرسائیکل سوارملزمان کی کار رجسٹریشن نمبر AFU-655 پر فائرنگ سے کار میں سوار عالم دین و محدث 55 سالہ مولانا اسلم شیخو پوری اور ان کے ساتھی مولانا سفرین شہید ہوگئے تھے جبکہ فائرنگ سے ان کے محافظ نجم الدین اور وزیرعلی شدید زخمی ہوئے۔


واقعے کو7ماہ گزرگئے ہیں لیکن تفتیش میں کوئی اہم پیش رفت نہیں ہوسکی، پولیس ملزمان کا 7 ماہ بعد بھی سراغ لگانے میں تاحال ناکام ہے،اس ضمن میں ڈی آئی جی ایسٹ شاہد حیات نے ایکسپریس کو بتایا کہ واقعے کی تفتیش جاری ہے لیکن کسی قسم کی کوئی ٹھوس اور مفید معلومات حال نہیں ہوسکی ہیں ، ایک سوال کے جواب میں شا ہد حیات کا کہنا تھا کہ کیس کی فائل بند نہیں کی گئی اور پولیس مذکورہ کیس پر مکمل لگن کے ساتھ کام کررہی ہے۔



1تفتیشی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پولیس نے جائے وقوعہ سے ملنے والے گولیوں کے خول کا بھی لیبارٹری معائنہ کرایا لیکن واردات میں استعمال کیا جانے والا ہتھیارکسی دوسری واردات میں استعمال کیے گئے اسلحے سے مشابہت نہیں رکھتا ،واضح رہے کہ مولانا اسلم شیخو پوری گلشن معمار میں مسجد توابین کے مہتمم اورمسجد کے احاطے میں ہی رہائش پذیر تھے، مولانا اسلم شیخوپوری ہر ماہ کی دوسری اتوار کو بہادرآباد میں واقع القرآن کورسز نیٹ ورک میں درس دینے جاتے تھے، وقوعہ کے روز بھی وہ قرآن کا درس دے کر واپس جارہے تھے، مولانا نے سوگواران میں 2 بیوائیں ، 5 بیٹے اور ایک بیٹی کو چھوڑا تھا ، مولانا اسلم شیخوپوری دونوں ٹانگوں سے معذور اورکئی دینی کتابوں کے مصنف تھے ، انھوں نے جامعہ علوم الاسلامیہ بنوری ٹائون سے دینی تعلیم حاصل کی جبکہ 25 برس جامعہ بنوریہ سائٹ میں استاد کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے تھے۔
Load Next Story