بلدیہ کے ریٹائرڈ ملازمین کی مشکلات
حکومت سندھ نے بلدیہ کے اکاؤنٹس منجمد کردیے ہیں، صرف تنخواہوں اور پنشن کے اکاؤنٹس کھلے ہوئے ہیں۔
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
حکومت سندھ نے بلدیہ کے اکاؤنٹس منجمد کردیے ہیں، صرف تنخواہوں اور پنشن کے اکاؤنٹس کھلے ہوئے ہیں۔ متعلقہ بینکوں کو ہدایت کردی گئی ہے کہ وہ ملازمین اور پنشنرز کو ادائیگیاں کرتے رہیں۔ ظاہر ہے حکومت سندھ کے پاس بلدیہ کے اکاؤنٹس منجمد کرنے کی معقول وجوہات ہوں گی۔
اگرچہ ملازمین کو تنخواہیں اور پنشنرز کو پنشن ادا کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے لیکن بلدیہ کی ملازمت سے ریٹائر ہونے والے ملازمین کو یہ شکایت ہے اور انتہائی جائز شکایت ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد مہینوں نہیں بلکہ برسوں تک نہ ان کی پنشن جاری کی جاتی ہے نہ واجبات ادا کیے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے ریٹائرڈ ملازمین کے خاندانوں کو فاقہ کشی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اس حوالے سے یہ دلخراش خبر بھی میڈیا میں آچکی ہے کہ ایک ریٹائرڈ ملازم نے پنشن اور واجبات کی وصولی سے مایوس ہوکر سوک سینٹر کی چھٹی منزل سے کود کو خودکشی کرلی۔ اس کے علاوہ کورنگی کی ایک معلمہ کے حوالے سے یہ اطلاع ملی ہے کہ وہ پنشن اور واجبات کے حصول کے لیے بھاگتے بھاگتے اس قدر ذہنی دباؤ کا شکار ہوگئی کہ اس پر فالج کا اٹیک ہوگیا۔
25،30 سال تک خدمات انجام دینے کے بعد جب کوئی ملازم ریٹائر ہوتا ہے تو ان کی آمدنی بند ہوجاتی ہے اور وہ سخت مشکلات کا شکار ہوکر رہ جاتا ہے، ریٹائر ملازم عمر کے اس حصے میں آجاتا ہے جہاں اسے آرام کی زندگی گزارنے کا حق ہونا چاہیے لیکن ہمارے کرپٹ سسٹم میں ریٹائرڈ ملازمین کا سب سے بڑا مسئلہ پنشن اور واجبات کا حصول بن کر رہ گیا ہے۔
اصولاً تو یہ ہونا چاہیے کہ اگر کوئی ملازم ریٹائرمنٹ کے قریب پہنچ جاتا ہے تو ریٹائرمنٹ کی تاریخ سے پہلے پہلے اس کی پنشن اور واجبات کی ادائیگی کا انتظام کردیا جائے تاکہ ریٹائر ہوتے ہی اس کی پنشن اور واجبات اسے مل جائیں، لیکن بلدیہ عظمیٰ کی دفتری کارروائیوں کا عالم یہ ہے کہ ریٹائرڈ ملازمین کو برسوں تک دھکے کھانا پڑتے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی ملازم کے ریٹائر ہونے تک اس کی اولاد جوان ہوجاتی ہے لیکن ہماری معاشرتی زندگی میں جوائنٹ فیملی سسٹم ختم ہوتا جارہا ہے ، لڑکے شادی کے بعد اپنا الگ گھر بسا لیتے ہیں لیکن زیر تعلیم چھوٹے بچے اور بیٹیاں ماں باپ کی ذمے داری بنی رہتی ہیں۔ جب ریٹائرمنٹ کے بعد آمدنی کا سلسلہ ٹوٹ جاتا ہے تو عمر رسیدہ ریٹائرڈ ملازم کے سامنے اپنے بچوں کی کفالت ایک بہت بڑا مسئلہ بن جاتی ہے، بہت سارے ملازمین ریٹائرمنٹ کے واجبات سے اپنی بیٹیوں کی شادی کے پروگرام بناکر بیٹھتے ہیں، لیکن اپنے محکموں کی نا اہلی کی وجہ سے واجبات کا حصول جوئے شیر لانے جیسا بن جاتا ہے۔
بلدیہ عظمیٰ کی کارکردگی کا عالم یہ ہے کہ اس کے ملازمین برسوں سے مقررہ تاریخ پر تنخواہ کے حصول سے محروم ہیں، کئی کئی مہینے تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے ملازمین سخت معاشی مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔
دنیا کے دوسرے ملکوں خصوصاً ترقی یافتہ ملکوں میں ریٹائرڈ ملازمین کو نہ صرف پنشن اور واجبات بروقت مل جاتے ہیں بلکہ ان ریٹائرڈ ضعیف ملازمین کو ہوم سک کی بیماریوں سے بچانے کے لیے ان کے لیے ایسی مصروفیات پیدا کی جاتی ہیں کہ وہ ہوم سک کی مشکلات سے بچ جاتے ہیں۔ زندگی کا لگ بھگ دو تہائی حصہ ملازمت میں گزارنے کے بعد ریٹائرڈ ملازم کو جو پنشن دی جاتی ہے اس کا حال اونٹ کے منہ میں زیرہ جیسا ہوتا ہے۔
ہمارے پنشن قوانین کے مطابق ریٹائرڈ ملازم کو ریٹائرمنٹ کے بعد پندرہ پندرہ سال پوری پنشن کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اس حوالے سے ایسی بھی مثالیں موجود ہیں کہ ریٹائرڈ ملازمین کو پوری پنشن کے حصول کے لیے 25،30 سال انتظار کرنا پڑتا ہے۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ کے بعض ملازمین نے بتایا ہے کہ پوری پنشن کے حصول کے لیے انھیں 28 سال انتظار کرنا پڑا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد 25،30 سال تک ریٹائر ملازم کی جسمانی صحت کا کیا حال ہوسکتا ہے؟
کہا جاتا ہے کہ چونکہ مختلف محکموں میں ان کے اپنے پنشن رولز ہیں، اس لیے ریٹائرڈ ملازمین کو ان رولز کے مطابق پنشن دی جاتی ہے۔ حکومتوں کی ذمے داری ہے کہ وہ سرکاری اور آٹونامس محکموں، کارپوریشنز میں پنشن قوانین کا از سر نو جائزہ لے اور ان خامیوں کو دور کرے جن کی وجہ سے ریٹائرڈ ملازمین کو مشکلات اور نا انصافیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بلدیہ ایک بہت بڑا محکمہ ہے جس میں 80 ہزار ملازمین کام کررہے ہیں۔
اگر ملازمین کی بروقت تنخواہوں میں ادائیگی کے لیے فنڈ کا مسئلہ درپیش ہے تو حکومت کی ذمے داری ہے کہ وہ ضرورت کے مطابق فنڈز فراہم کرے تاکہ ملازمین کو تنخواہیں اور پنشنرز کو پنشن بروقت مل سکیں۔ اس حوالے سے کئی ریٹائرڈ ملازمین بلدیہ نے ہم سے رجوع کرکے روتے ہوئے اپنی داستانیں سنائیں کہ ریٹائرمنٹ کے بعد انھیں پنشن اور واجبات کے لیے کس قدر پریشان ہونا پڑ رہا ہے۔
سندھ حکومت نے بلدیہ کے جو اکاؤنٹس منجمد کیے ہیں، حکومت سندھ کے پاس اس کے معقول جواز موجود ہوںگے لیکن ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن اور واجبات کی ادائیگی میں کسی قسم کی رکاوٹیں نہیں آنی چاہئیں۔ اس حوالے سے بہتر بات یہ ہے کہ حکومت بلدیہ کے ملازمین کی پنشن اور واجبات کی ادائیگی ایک ماہ میں کرنے کے احکامات جاری کردے تاکہ ریٹائرڈ ملازمین اذیتوں سے بچ سکیں۔ بلدیاتی اداروں میں اب منتخب لوگ آگئے ہیں، ہر گاؤں کے چیئرمین کی یہ ذمے داری ہونی چاہیے کہ وہ کارکردگی کے ساتھ ساتھ ملازمین کی مشکلات کو دور کرنا اپنی پہلی ترجیح بنا لے۔
اگرچہ ملازمین کو تنخواہیں اور پنشنرز کو پنشن ادا کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے لیکن بلدیہ کی ملازمت سے ریٹائر ہونے والے ملازمین کو یہ شکایت ہے اور انتہائی جائز شکایت ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد مہینوں نہیں بلکہ برسوں تک نہ ان کی پنشن جاری کی جاتی ہے نہ واجبات ادا کیے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے ریٹائرڈ ملازمین کے خاندانوں کو فاقہ کشی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اس حوالے سے یہ دلخراش خبر بھی میڈیا میں آچکی ہے کہ ایک ریٹائرڈ ملازم نے پنشن اور واجبات کی وصولی سے مایوس ہوکر سوک سینٹر کی چھٹی منزل سے کود کو خودکشی کرلی۔ اس کے علاوہ کورنگی کی ایک معلمہ کے حوالے سے یہ اطلاع ملی ہے کہ وہ پنشن اور واجبات کے حصول کے لیے بھاگتے بھاگتے اس قدر ذہنی دباؤ کا شکار ہوگئی کہ اس پر فالج کا اٹیک ہوگیا۔
25،30 سال تک خدمات انجام دینے کے بعد جب کوئی ملازم ریٹائر ہوتا ہے تو ان کی آمدنی بند ہوجاتی ہے اور وہ سخت مشکلات کا شکار ہوکر رہ جاتا ہے، ریٹائر ملازم عمر کے اس حصے میں آجاتا ہے جہاں اسے آرام کی زندگی گزارنے کا حق ہونا چاہیے لیکن ہمارے کرپٹ سسٹم میں ریٹائرڈ ملازمین کا سب سے بڑا مسئلہ پنشن اور واجبات کا حصول بن کر رہ گیا ہے۔
اصولاً تو یہ ہونا چاہیے کہ اگر کوئی ملازم ریٹائرمنٹ کے قریب پہنچ جاتا ہے تو ریٹائرمنٹ کی تاریخ سے پہلے پہلے اس کی پنشن اور واجبات کی ادائیگی کا انتظام کردیا جائے تاکہ ریٹائر ہوتے ہی اس کی پنشن اور واجبات اسے مل جائیں، لیکن بلدیہ عظمیٰ کی دفتری کارروائیوں کا عالم یہ ہے کہ ریٹائرڈ ملازمین کو برسوں تک دھکے کھانا پڑتے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی ملازم کے ریٹائر ہونے تک اس کی اولاد جوان ہوجاتی ہے لیکن ہماری معاشرتی زندگی میں جوائنٹ فیملی سسٹم ختم ہوتا جارہا ہے ، لڑکے شادی کے بعد اپنا الگ گھر بسا لیتے ہیں لیکن زیر تعلیم چھوٹے بچے اور بیٹیاں ماں باپ کی ذمے داری بنی رہتی ہیں۔ جب ریٹائرمنٹ کے بعد آمدنی کا سلسلہ ٹوٹ جاتا ہے تو عمر رسیدہ ریٹائرڈ ملازم کے سامنے اپنے بچوں کی کفالت ایک بہت بڑا مسئلہ بن جاتی ہے، بہت سارے ملازمین ریٹائرمنٹ کے واجبات سے اپنی بیٹیوں کی شادی کے پروگرام بناکر بیٹھتے ہیں، لیکن اپنے محکموں کی نا اہلی کی وجہ سے واجبات کا حصول جوئے شیر لانے جیسا بن جاتا ہے۔
بلدیہ عظمیٰ کی کارکردگی کا عالم یہ ہے کہ اس کے ملازمین برسوں سے مقررہ تاریخ پر تنخواہ کے حصول سے محروم ہیں، کئی کئی مہینے تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے ملازمین سخت معاشی مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔
دنیا کے دوسرے ملکوں خصوصاً ترقی یافتہ ملکوں میں ریٹائرڈ ملازمین کو نہ صرف پنشن اور واجبات بروقت مل جاتے ہیں بلکہ ان ریٹائرڈ ضعیف ملازمین کو ہوم سک کی بیماریوں سے بچانے کے لیے ان کے لیے ایسی مصروفیات پیدا کی جاتی ہیں کہ وہ ہوم سک کی مشکلات سے بچ جاتے ہیں۔ زندگی کا لگ بھگ دو تہائی حصہ ملازمت میں گزارنے کے بعد ریٹائرڈ ملازم کو جو پنشن دی جاتی ہے اس کا حال اونٹ کے منہ میں زیرہ جیسا ہوتا ہے۔
ہمارے پنشن قوانین کے مطابق ریٹائرڈ ملازم کو ریٹائرمنٹ کے بعد پندرہ پندرہ سال پوری پنشن کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اس حوالے سے ایسی بھی مثالیں موجود ہیں کہ ریٹائرڈ ملازمین کو پوری پنشن کے حصول کے لیے 25،30 سال انتظار کرنا پڑتا ہے۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ کے بعض ملازمین نے بتایا ہے کہ پوری پنشن کے حصول کے لیے انھیں 28 سال انتظار کرنا پڑا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد 25،30 سال تک ریٹائر ملازم کی جسمانی صحت کا کیا حال ہوسکتا ہے؟
کہا جاتا ہے کہ چونکہ مختلف محکموں میں ان کے اپنے پنشن رولز ہیں، اس لیے ریٹائرڈ ملازمین کو ان رولز کے مطابق پنشن دی جاتی ہے۔ حکومتوں کی ذمے داری ہے کہ وہ سرکاری اور آٹونامس محکموں، کارپوریشنز میں پنشن قوانین کا از سر نو جائزہ لے اور ان خامیوں کو دور کرے جن کی وجہ سے ریٹائرڈ ملازمین کو مشکلات اور نا انصافیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بلدیہ ایک بہت بڑا محکمہ ہے جس میں 80 ہزار ملازمین کام کررہے ہیں۔
اگر ملازمین کی بروقت تنخواہوں میں ادائیگی کے لیے فنڈ کا مسئلہ درپیش ہے تو حکومت کی ذمے داری ہے کہ وہ ضرورت کے مطابق فنڈز فراہم کرے تاکہ ملازمین کو تنخواہیں اور پنشنرز کو پنشن بروقت مل سکیں۔ اس حوالے سے کئی ریٹائرڈ ملازمین بلدیہ نے ہم سے رجوع کرکے روتے ہوئے اپنی داستانیں سنائیں کہ ریٹائرمنٹ کے بعد انھیں پنشن اور واجبات کے لیے کس قدر پریشان ہونا پڑ رہا ہے۔
سندھ حکومت نے بلدیہ کے جو اکاؤنٹس منجمد کیے ہیں، حکومت سندھ کے پاس اس کے معقول جواز موجود ہوںگے لیکن ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن اور واجبات کی ادائیگی میں کسی قسم کی رکاوٹیں نہیں آنی چاہئیں۔ اس حوالے سے بہتر بات یہ ہے کہ حکومت بلدیہ کے ملازمین کی پنشن اور واجبات کی ادائیگی ایک ماہ میں کرنے کے احکامات جاری کردے تاکہ ریٹائرڈ ملازمین اذیتوں سے بچ سکیں۔ بلدیاتی اداروں میں اب منتخب لوگ آگئے ہیں، ہر گاؤں کے چیئرمین کی یہ ذمے داری ہونی چاہیے کہ وہ کارکردگی کے ساتھ ساتھ ملازمین کی مشکلات کو دور کرنا اپنی پہلی ترجیح بنا لے۔