چیف جسٹس نے ورلڈ بینک میں تعیناتی کا نوٹس لے لیا

3رکنی بینچ کی تشکیل،راجاعظیم کو21ویں گریڈمیں ترقی دیکربطورایگزیکٹیوممبرتعینات کیاگیاتھا

3رکنی بینچ کی تشکیل،راجاعظیم کو21ویں گریڈمیں ترقی دیکربطورایگزیکٹیوممبرتعینات کیاگیاتھا فوٹو: فائل

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے وزیراعظم راجا پرویزاشرف کے داماد کی ورلڈ بینک میں بطور ایگزیکٹیو ممبر تعیناتی کا ازخود نوٹس لے کر جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں بینچ قائم کر دیا، سماعت کل ہوگی۔

پیرکو سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہاگیاہے کہ چیف جسٹس نے وزیراعظم کے دامادکی ورلڈ بینک میں بطور ایگزیکٹیو ممبر تعیناتی کانوٹس لیتے ہوئے اس معاملے کی سماعت کیلیے 3 رکنی بینچ قائم کیاہے۔ بینچ 19دسمبرسے ازخودنوٹس کی باقاعدہ سماعت کرے گا۔ وزیراعظم راجا پرویز اشرف کے داماد راجا عظیم کی ای او بی آئی میں تعیناتی بھی چیلنج کی گئی ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق وزیر خزانہ بھی وزیراعظم کے داماد کی تعیناتی پر نا خوش تھے۔ نمائندہ ایکسپریس کے مطابق عدالت نے ایکسپریس ٹریبیون کی اس خبر پر از خود نوٹس لیا تھا۔

جس کے مطابق راجا عظیم الحق کو 18ویں گریڈ سے ریٹائر کرکے 19 ویں گریڈ میں ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس میں تعینات کیا گیا۔ بعد ازاں انھیں 21 ویں گریڈ میں ترقی دیکر ورلڈ بینک میں بطور ایگزیکٹیو ممبر تعینات کر دیا گیا۔ دوسری جانب سپریم کورٹ نے قمر زمان چوہدری کی ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) میں بطور ایگزیکٹیو ڈائریکٹرتقرری معطل کردی۔ پیرکوچیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کی سربراہی میں بینچ نے اس حوالے سے مقدمے کی سماعت کی۔ عدالت نے قراردیا کہ وزیر اعظم کے پاس اختیار نہیں کہ وہ کسی کو سیکریٹری تعلیم و تربیت اور ایچ ای سی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کو تعینات کرے۔




عدالت نے کہا کہ ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کے عہدے کیلیے موصول 57 درخواستوں میں سے ایک ماہ میں شفاف انداز میں تعیناتی کی جائے۔چیئر مین ایچ ای سی جاوید لغاری نے بتایا کہ انھیں اور اہلخانہ کو ادارے کے ملازمین کی جانب سے دھمکیاں مل رہی ہیں ۔عدالت نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آبادکو انھیں مکمل سکیورٹی دینے کی ہدایت کی۔فاضل بنچ نے انٹیلی جنس بیوروکے فنڈز سیاسی مقاصدکیلیے استعمال کرنے کے کیس میں سابق ڈی جی آئی بی مسعود شریف خٹک کا جواب نہ آنے پر سماعت دو جنوری تک ملتوی کر دی۔

عدالت نے آئی بی کے موجودہ سربراہ اختر حسن گورچانی اور سابق سر براہ طارق لودھی کے تحریری جوابات سر بمہرکرنے کی ہدایت کی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ مسعودشریف ملک سے باہر ہیں،عدالت نے انھیں آئندہ سماعت سے پہلے جواب جمع کرنے کا حکم دیا ہے۔ مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق عدالت کو بتایا گیا کہ2008ء میں پنجاب حکومت گرانے کیلئے آئی بی کے خفیہ فنڈ سے27 کروڑ روپے کے علاوہ99۔ 1988ء میں بھی اس اکائونٹ سے10 کروڑ روپے سے زائد رقم نکالی گئی تھی، عدالت نے متعلقہ دستاویزات آئی بی کو بھجوانے کا حکم دیتے ہوئے موجودہ ڈی جی سے جواب طلب کرلیا ہے ۔ عدالت نے کنٹونمنٹ بورڈکے علاقوں میں انتخابات سے متعلق مقدمہ میں وزارت دفاع سے واضح جواب نہ ملنے پر بر ہمی کا اظہارکیا ۔وزارت دفاع کی جانب سے کمانڈرشہباز پیش ہوئے اور بتایا الیکشن کیلیے سمری وزیراعظم کو ارسال کی جا چکی ہے جس کی منظور ی کا انتظار ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے الیکشن کا تعلق آئین سے ہے اورگزشتہ چودہ سال سے آئین کی خلاف ورزی ہورہی ہے، عدالت نے اس حوالے سے وزارت دفاع سے آج واضح جواب طلب کر لیا ہے ۔ عدالت نے ملک بھر میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق وطن پارٹی کی درخواست اس آبزرویشن کے ساتھ درخواست خارج کر دی کہ بلدیاتی انتخابات سے متعلق عدالت پہلے ہی تمام چیف سیکرٹریزکو ہدایات دی چکی ہے ۔فاضل بینچ نے ریکوڈک کیس میں بی ایچ پی آسٹریلیا کے وکیل عبدالحفیظ پیر زادہ کو آج دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے،بی ایچ پی کے وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ نے دلائل میں کہا اگر عدالت نے معاہدہ کالعدم کر دیا تو بیرونی سرمایہ کاروںکا اعتماد اٹھ جائے گا۔انھوں نے کہا ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ گھاس کھا کر ایٹم بم بنائیں گے انھوں نے ٹیکنا لوجی حاصل کرنے کی بات کی تھی یہاں بھی اصل مقصد ٹیکنا لوجی ہے ۔۔چیف جسٹس نے کہا ہم نے آئین کے تحفظ کا حلف اٹھایا ہے، فیصلہ آئین کے مطابق ہوگا۔دریں اثناء مسلم لیگ ن کے ایم این اے خواجہ آصف نے سپریم کورٹ میںایک درخواست دائرکی ہے جس میں استدعاکی گئی ہے کہ جعلی ڈگری اوردہری شہریت کیس میں نااہل اراکین پارلیمنٹ کودوبارہ منتخب ہونے سے روکاجائے اور ان افراد کو الیکشن کے علاوہ کسی بھی عوامی عہدے کیلیے نااہل قراردیا جائے۔
Load Next Story