کلورین شامل نہیں کی جارہی شہریوں کو مضر صحت پانی کی فراہمی

واٹر بورڈ انتظامیہ کی غفلت کے باعث شہر کسی بھی وقت وبائی بیماریوں کی لپیٹ میں آسکتا ہے

کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ کی انتظامیہ کراچی کے شہریوں کو شفاف پانی ملانے کے لیے انتہائی حد تک غفلت ، لاپرواہی اور نااہلی کا مظاہرہ کررہی ہے اور شہریوں کو بغیر کلورین ملا پانی فراہم کیا جارہا ہے, فائل فوٹو

کراچی واٹراینڈسیوریج بورڈ کی طرف سے کراچی کے شہریوں کو فراہم کیے جانے والے پانی میں کلورین شامل نہیں کیا جارہا ہے جس کے باعث شہریوں کو مضر صحت پانی مل رہا ہے، اگر یہی صورتحال جاری رہی تو شہر کسی بھی وقت وبائی بیماریوں کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ کی انتظامیہ کراچی کے شہریوں کو شفاف پانی ملانے کے لیے انتہائی حد تک غفلت ، لاپرواہی اور نااہلی کا مظاہرہ کررہی ہے اور شہریوں کو بغیر کلورین ملا پانی فراہم کیا جارہا ہے مگر واٹربورڈ کی انتظامیہ اپنی نااہلی کو تسلیم کرنے کے بجائے یہ ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہے کہ شہریوں کو مکمل شفاف پانی فراہم ہورہا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ اس وقت کراچی کو مجموعی طور پر640ملین گیلن یومیہ پانی فراہم کیاجارہا ہے فراہم کردہ یومیہ پانی کو220کلورین کے سلنڈرز کی ضرورت ہے تاہم اس وقت کراچی میں 70 سے 80 سلنڈر لیے جارہے ہیں جن کا زیادہ تر استعمال حب ڈیم سے فراہم کیے جانے والے پانی میں ہوتا ہے۔


ذرائع کا کہنا ہے یہ حقیقت یہ ہے کہ کراچی کے شہریوں کو حب ڈیم کے مقام سے جو پانی ملتا ہے اس میں تو کافی حد تک کلورین شامل کی جاتی ہے حب ڈیم سے کراچی میں 100ملین گیلن پانی فراہم کیا جاتا ہے اس پانی کو تو کسی طور پر قابل استعمال کہا جاسکتا ہے تاہم اس کے علاوہ شہریوں کو فراہم کیا جانے والا پانی بغیر کلورین ملا ہے۔

کلورین ملانے کا مقصد پانی کی صفائی اور مضرصحت مرکبات سے نجات دلانا ہوتا ہے مگر واٹربورڈ کی انتظامیہ نے کلورین فراہم کرنے والی کمپنیوں سے صرف اس لیے سلنڈر نہیں لے رہی ہے کیونکہ یہ کمپنیاں واٹربورڈ کے فنانس ڈپارٹمنٹ کی ''فرمائشیں '' پوری کرنے کو تیار نہیں جس کے باعث واٹربورڈ کے کرپٹ افسران ان کمپنیوں سے ناراض ہوکر اس کی سزا کراچی کے شہریوں کو دے رہے ہیں، ذرائع نے بتایا کہ واٹربورڈ کو دو کمپنیاں کلورین فراہم کرتی ہیں جن پر واٹربورڈ کے افسران نے بے جا فرمائشوں کا بوجھ ڈال دیا۔

انکار پر نہ صرف ان کمپنیوں سے نہ صرف سلنڈر لینے بند کردیے بلکہ ان کو بل روک لیے اور جو بل دیے گئے وہی بھی بائونس ہوگئے، ان افسران کی کرپشن کو واٹربورڈ کے ایک چیف انجینئر نے ہی بے نقاب کردیا، چند ماہ قبل اس وقت کے چیف انجینئر الیکٹریکل اینڈ میکینکل نے واٹربورڈ کے فنانس ڈپارٹمنٹ کو ایک خط لکھا جس میں کہا گیا ہے کہ فنانس ڈپارٹمنٹ کی طرف سے کلورین فراہم کرنے والی کمپنیوں کو دیے جانے والے چیک بائونس ہوگئے ہیں جس کے باعث ان کمپنیوں نے کلورین کی سپلائی بند کردی ہے اور کراچی کے شہریوں کو کلورین کے بغیر پانی فراہم کیا جارہا ہے جس کے باعث شہر میں وبائی امراض پھوٹنے کا خدشہ ہے۔

اگر یہی صورتحال رہی تو کراچی کسی بڑی وبائی مرض کی لپیٹ میں آجائے گا اور اس کی ذمے دار واٹربورڈ کا فنانس ڈپارٹمنٹ ہی ہوگا، ذرائع نے بتایا کہ واٹربورڈ کے چیف انجینئر کے اس واضح خط کے باوجود واٹربورڈ کے کرپٹ افسران کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔
Load Next Story