قومی اسمبلی اقلیتی نشستوں میں اضافے کیلئے 23ویں ترمیم پیش
الیکٹرک سٹی ،فوجداری قانون ترمیمی بل بھی پیش،ندیم چن کی ٹیکس چوری رپورٹ پرعدالت جانے کی دھمکی
الیکٹرک سٹی ،فوجداری قانون ترمیمی بل بھی پیش،ندیم چن کی ٹیکس چوری رپورٹ پرعدالت جانے کی دھمکی فوٹو: اے پی پی/ فائل
قومی اسمبلی میں پیر کو اقلیتوں کی نشستوں میں اضافے کیلیے آئین میں 23 ویں ترمیم سمیت4بل پیش کردیے گئے۔
دیگربلوںمیںٹیکس قوانین ترمیمی بل، الیکٹر یسٹی ترمیمی بل اور فوجداری قانون ترمیمی بل شامل ہیں،تمام بل متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کردیے گئے ۔ ن لیگ کے ارکان نے ٹیکس معافیوں سے متعلق ترمیمی بل کی مخالفت کرتے ہوئے شیم شیم کے نعرے لگائے ۔ 23 ویں ترمیم کی منظوری کی صورت میںقومی اسمبلی میں اقلیتوں کی نشستیں 10سے 14، پنجاب میں 8 سے 10، سندھ میں 9 سے 12کردی جائیں گی جبکہ خیبر پختونخوا و بلوچستان میںبھی ایک،ایک نشست کا اضافہ کیاجائے گا،ایوان نے ادارہ تجارتی ترقی پاکستان کے قیام کے لیے احکام وضع کرنے کے بل کی اتفاق رائے سے منظوری دی جس کے تحت ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں ارکان پارلیمنٹ کو بھی نمائندگی حاصل ہو گی۔وزیرقانون فاروق نائیک نے بل منظوری کے لیے پیش کیا،ن لیگ کی شیریں ارشد خان نے بل کی شق 12 میں ترمیم پیش کی۔
جس کی فاروق نائیک نے مخالفت نہیں کی ۔ ایوان نے بل کی اتفاق رائے سے منظوری دیدی،پیپلزپارٹی کے ندیم افضل چن نے نکتہ اعتراض پر ٹیکس چوری سے متعلق رپورٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مجھ پر ٹیکس چوری کا جو الزام لگایا گیا ہے،اگر پارلیمنٹ نے ایکشن نہ لیا تو میں انصاف کے لیے عدالت جاؤں گا۔ ایم کیوایم کے رکن وسیم خان نے الطاف حسین کو توہین عدالت کے نوٹس پر بات کی تو ڈپٹی اسپیکر نے انہیں روکتے ہوئے کہا کہ آئین کی رو سے کسی جج کے کنڈکٹ کے بارے میں ایوان میں بات نہیں کی جاسکتی۔
وزیر قانون نے بھی ایوان کو آئین کی شق 68 کی وضاحت کی۔ وقفہ سوالات کے دوران وفاقی وزیر تعلیم و تربیت شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ گومل یونیورسٹی میں سرائیکی شعبے کے قیام کے لیے جونہی پی سی ون سے موصول ہو گا،فنڈجاری کردیے جائیںگے،ایچ ای سی کے چیئرمین سہیل نقوی ماضی کا حصہ بن چکے،حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کی پاسداری کرتی ہے،مشیر پٹرولیم نے ن لیگ کے ارکان کے توجہ دلائو نوٹس پر بتایاکہ اصل میںگیس دہشت گردی کے واقعات میں پائپ لائنوں کوپہنچنے والے نقصانات سے ضائع ہورہی ہے،قبل ازیںنومنتخب ارکان چوہدری زاہداقبال، محمد حنیف ملک اور بھون داس نے رکن قومی اسمبلی کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا، اجلاس آج منگل کی صبح 11 بجے تک کیلیے ملتوی کر دیا گیا۔
دیگربلوںمیںٹیکس قوانین ترمیمی بل، الیکٹر یسٹی ترمیمی بل اور فوجداری قانون ترمیمی بل شامل ہیں،تمام بل متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کردیے گئے ۔ ن لیگ کے ارکان نے ٹیکس معافیوں سے متعلق ترمیمی بل کی مخالفت کرتے ہوئے شیم شیم کے نعرے لگائے ۔ 23 ویں ترمیم کی منظوری کی صورت میںقومی اسمبلی میں اقلیتوں کی نشستیں 10سے 14، پنجاب میں 8 سے 10، سندھ میں 9 سے 12کردی جائیں گی جبکہ خیبر پختونخوا و بلوچستان میںبھی ایک،ایک نشست کا اضافہ کیاجائے گا،ایوان نے ادارہ تجارتی ترقی پاکستان کے قیام کے لیے احکام وضع کرنے کے بل کی اتفاق رائے سے منظوری دی جس کے تحت ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں ارکان پارلیمنٹ کو بھی نمائندگی حاصل ہو گی۔وزیرقانون فاروق نائیک نے بل منظوری کے لیے پیش کیا،ن لیگ کی شیریں ارشد خان نے بل کی شق 12 میں ترمیم پیش کی۔
جس کی فاروق نائیک نے مخالفت نہیں کی ۔ ایوان نے بل کی اتفاق رائے سے منظوری دیدی،پیپلزپارٹی کے ندیم افضل چن نے نکتہ اعتراض پر ٹیکس چوری سے متعلق رپورٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مجھ پر ٹیکس چوری کا جو الزام لگایا گیا ہے،اگر پارلیمنٹ نے ایکشن نہ لیا تو میں انصاف کے لیے عدالت جاؤں گا۔ ایم کیوایم کے رکن وسیم خان نے الطاف حسین کو توہین عدالت کے نوٹس پر بات کی تو ڈپٹی اسپیکر نے انہیں روکتے ہوئے کہا کہ آئین کی رو سے کسی جج کے کنڈکٹ کے بارے میں ایوان میں بات نہیں کی جاسکتی۔
وزیر قانون نے بھی ایوان کو آئین کی شق 68 کی وضاحت کی۔ وقفہ سوالات کے دوران وفاقی وزیر تعلیم و تربیت شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ گومل یونیورسٹی میں سرائیکی شعبے کے قیام کے لیے جونہی پی سی ون سے موصول ہو گا،فنڈجاری کردیے جائیںگے،ایچ ای سی کے چیئرمین سہیل نقوی ماضی کا حصہ بن چکے،حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کی پاسداری کرتی ہے،مشیر پٹرولیم نے ن لیگ کے ارکان کے توجہ دلائو نوٹس پر بتایاکہ اصل میںگیس دہشت گردی کے واقعات میں پائپ لائنوں کوپہنچنے والے نقصانات سے ضائع ہورہی ہے،قبل ازیںنومنتخب ارکان چوہدری زاہداقبال، محمد حنیف ملک اور بھون داس نے رکن قومی اسمبلی کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا، اجلاس آج منگل کی صبح 11 بجے تک کیلیے ملتوی کر دیا گیا۔