پھر ٹارگٹ کلنگ
کراچی پھر فرقہ وارانہ کشیدگی کا شکار ہے
tauceeph@gmail.com
KARACHI:
کراچی پھر فرقہ وارانہ کشیدگی کا شکار ہے۔ 10 دنوں کے دوران 11 کے قریب افراد نامعلوم افراد کی گولیوں کا نشانہ بنے۔ ان میں وہ بدنصیب دو بھائی بھی تھے جو امریکا سے اپنی بوڑھی والدہ سے ملنے کے لیے کراچی آئے اور ناظم آباد میں گھر میں ہونے والی مجلس کے شامیانے کے سامنے نامعلوم موٹرسائیکل سواروں کی فائرنگ کا شکار ہوئے اور وہ بھی تھے جو ایک مذہبی ریلی میں شرکت کے بعد اپنے گھروں کو جارہے تھے۔
پھر پولیس نے کومبنگ آپریشن کیا، سابق سینیٹر فیصل رضا عابدی سمیت دو فرقوں کے رہنما گرفتار ہوئے۔ پھر ایک فرقہ کی نمایندگی کرنے والی تنظیم کے کارکنوں نے شہر کے مختلف علاقوں میں دھرنے دیے۔ ملیر میں مظاہرین نے مرکزی شاہراہِ فیصل پر ٹریفک کو معطل کیا، ہزاروں لوگ ٹریفک میں پھنس گئے۔ پولیس کو آنسو گیس کے گولے پھینکنے پڑے، ہوائی فائرنگ ہوئی اور پھر سارا دن گزرنے کے بعد زندگی معمول پر آئی۔
فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ گزشتہ 30 برسوں سے جاری ہے۔ برسراقتدار حکومتیں ملزمان کی گرفتاری اور اسلحہ برآمد کرنے کے دعوے کرتی ہیں۔ فرقہ وارانہ تنازعات پر تحقیق کرنے والے ماہرین اس معاملے کو جنرل ضیاء الحق کے دور سے منسلک کرتے ہیں۔ جب جنرل ضیاء الحق نے امریکا کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے افغانستان پروجیکٹ میں شمولیت اختیار کی اور افغانستان کی کمیونسٹ حکومت کے خاتمے کے لیے انتہاپسندوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا فیصلہ ہوا۔ پھر یہ پروجیکٹ سوویت یونین کے خاتمے تک پھیل گیا اور ان مدرسوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی عسکری تربیت کا سلسلہ شروع ہوا۔
ایران میں آیت اﷲ خمینی نے شاہ ایران کا تختہ الٹ کر اسلامی انقلاب برپا کیا اور اس انقلاب کو مسلمان ممالک میں برآمد کرنے کی پالیسی اختیار کی۔ اس کے ساتھ ہی عراق و ایران کی جنگ شروع ہوگئی۔ کراچی کی سڑکوں پر پراکسی وازر ہوئیں۔ یہ جنگ پنجاب اور پاراچنار تک پھیل گئی۔ پھر افغان جہاد اختتام کو پہنچا۔ افغانستان میں وار لارڈز میں لڑائی شروع ہوئی اور کشمیر میں جہاد شروع ہوگیا۔ بہت سے نوجوان جہاد کے لیے گئے اور واپسی پر انھوں نے مخالف فرقے کے معروف افراد کو نشانہ بنایا۔ اس طرح بہت سے ڈاکٹر، انجینئر، اساتذہ، پولیس افسران اور شاعر وغیرہ نامعلوم افراد کی گولیوں کا نشانہ بنے۔ بے نظیربھٹو اور میاں نواز شریف کی 1988ء سے 1999ء تک قائم ہونے والی حکومتیں اس صورتحال کے خاتمے کے لیے بے بس نظر آئیں۔
طالبان کی حکومت میں افغانستان انتہاپسندوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن گیا۔ نائن الیون کی دہشت گردی کے بعد پاکستان اتحادی فوجوں کا حصہ بنا، کابل پر حامد کرزئی کی حکومت قائم ہوئی تو انتہاپسند تورا بورا کے پہاڑوں سے وزیرستان اور دیگر قبائلی علاقوں میں منتقل ہوئے۔ اب امام بارگاہوں اور زائرین کی بسوں پر خودکش حملوں کا دور آیا۔ امریکا کے عراق پر حملے اور صدام حکومت کے خاتمے کے بعد عرب دنیا میں چھپے ہوئے فرقہ وارانہ تضادات کھل گئے۔ عرب ممالک میں اسپرنگ لہر نے ایک نئی تبدیلی برپا کردی۔
امریکا نے قذافی اور بشار الاسد کی حکومتوں کے خاتمے کے لیے القاعدہ اور دیگر انتہاپسند قوتوں کو استعمال کیا۔ عراق میں البغدادی نے داعش قائم کی اور پھر اپنی خلافت کا اعلان کردیا۔ داعش کے اثرات پاکستان تک پہنچ گئے۔ شام میں ہونے والی خانہ جنگی کے لیے پاکستان سے انتہاپسند جانے لگے۔ داعش نے کوئٹہ، کراچی اور پشاور میں ہونے والی دہشتگردی کی وارداتوں کی ذمے داری قبول کرلی۔ بلوچستان میں آزاد بلوچستان کے حامیوں اور قوم پرستوں کے خاتمے کے لیے قبائلی لشکر تیار ہوئے۔ یہ لشکر فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہو گئے۔
شکارپور اور کراچی میں دہشتگردی کی وارداتوں میں بلوچستان کے دوسرے بڑے شہر خضدار سے تربیت پانے والے جوانوں کے ملوث ہونے کے ثبوت ملے۔ اب یہ واضح ہوگیا کہ کراچی میں ہونے والی فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ میں باہر کے عناصر بھی ملوث ہیں۔جب پشاور پبلک اسکول کے بچوں کو دہشتگردوں نے نشانہ بنایا تو آپریشن ضرب عضب شروع ہوا۔ پولیس اور رینجرز کے دستوں نے کراچی کے مضافاتی علاقے سے انتہاپسندوں کی کمین گاہوں کے خاتمے کے لیے موثر آپریشن کیا۔ اس آپریشن میں سیکڑوں انتہاپسند مارے گئے اور کچھ پکڑے گئے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں صورت حال بہتر ہوئی مگر شہر میں فرقہ وارانہ دہشتگردی نہیں رک سکی۔
ایک لسانی تنظیم کے جنگجوؤں کے خلاف خاصا موثر آپریشن ہوا، مگر فرقہ وارانہ بنیاد پر ٹارگٹ کلنگ تھم نہ سکی۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ہر فرقہ میں جنونی عناصر تقویت حاصل کررہے ہیں۔ بعض عناصر سمجھتے ہیں کہ تشدد کا جواب تشدد سے دے کر ٹارگٹ کلنگ پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ یہ عناصر دھرنوں کا ہتھیار استعمال کرکے مخصوص مقاصد حاصل کرتے ہیں مگر مجموعی طور پر زندگی کو معطل کرنے کے اقدامات عوام کے ذہنوں میں ناپسندیدگی پیدا کرتے ہیں، اسی طرح کے اقدامات سے نفرت پیدا ہوتی ہے۔
خوش قسمتی کی بات یہ ہے کہ عوام کے ذہنوں میں کسی قسم کی فرقہ وارانہ کشیدگی کا تصور نہیں ہے، ورنہ دھرنے جیسی صورتحال سے فرقہ وارانہ فساد پیدا ہوتا مگر عوام کی زندگی میں خلل ڈالنے والے اقدامات سے نفرت کی فضا ضرور مستحکم ہوتی ہے۔ اس صورتحال کا حل کئی سطحوں میں مضمر ہے۔ سب سے پہلے اسلحہ کی تقسیم روکنے کے لیے اقدامات ہونے چاہئیں۔ سندھ کے وزیراعلیٰ کو کراچی سے اسلحہ کے خاتمے کے اقدامات کے لیے جامع لائحہ عمل بنانا چاہیے۔ پورے شہر سے غیر قانونی اسلحہ کے خاتمے کے لیے لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے۔
اگر شہر میں غیر قانونی اسلحہ دستیاب نہیں ہوگا تو جرائم کی شرح کم ہوجائے گی مگر یہ ایک ایسا پیچیدہ معاملہ ہے کہ جب تک وفاق اور صوبائی حکومتیں ایک لائحہ عمل تیار نہیں کریں گی اور سول اور عسکری خفیہ ایجنسیاں اس لائحہ عمل کی حمایت نہیں کریں گی، اس کے خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔ پھر عدالتی نظام کو بہتر بنانا ایک اہم معاملہ ہے۔ ناقص عدالتی نظام کی بنا پر کئی ملزموں کو سزا نہیں ملتی، اب تک صوبوں میں گواہوں کے تحفظ کا قانون نافذ نہیں ہوسکا۔
پولیس حکام خود کہہ رہے ہیں کہ مشہور قوال امجد صابری کے قتل میں ملوث ملزم کو کئی معروف افراد کے قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا مگر وہ عدم ثبوت اور طویل عرصے تک گواہی نہ پیش کرنے کی بنا پر ضمانت پر رہا ہوا اور پھر معروف افراد کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہوگیا تھا۔ اس ملزم کو بھی نہیں علم کہ اس کی ضمانت کس نے کرائی تھی۔
حکومت سندھ نے مدارس میں اصلاحات کا فیصلہ کیا تھا مگر علمائے کرام اور مذہبی جماعتوں کے دباؤ کی بنا پر یہ معاملہ التوا کا شکار ہے۔ مدارس کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے فوری اقدامات ہونے چاہئیں اور جو افراد فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینے میں ملوث ہوں ان کے خلاف سخت کارروائی کا قانون بننا چاہیے۔ اب امریکا میں ٹرمپ برسراقتدار آنے کے بعد کالعدم تنظیموں کا خاتمہ ضروری ہے۔
اسی طرح اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نصاب سے نفرت آمیز مواد کا اخراج بھی فوری طور پر ہونا چاہیے۔ ریاستی اداروں کا تنقیدی جائزہ لینا بھی ضروری امر ہے۔ محمد علی جناح کی 11 اگست 1948ء کی تقریر کو ہر سطح کے نصاب کا حصہ بنانا چاہیے اور ریاست کی بنیادی ترجیح نوجوانوں کے ذہنوں کی تبدیلی ہونی چاہیے۔ جب تک ذہن تبدیل نہیں ہوں گے، یہ معاملہ معصوموں کے قتل کی وجہ بنتا رہے گا۔
کراچی پھر فرقہ وارانہ کشیدگی کا شکار ہے۔ 10 دنوں کے دوران 11 کے قریب افراد نامعلوم افراد کی گولیوں کا نشانہ بنے۔ ان میں وہ بدنصیب دو بھائی بھی تھے جو امریکا سے اپنی بوڑھی والدہ سے ملنے کے لیے کراچی آئے اور ناظم آباد میں گھر میں ہونے والی مجلس کے شامیانے کے سامنے نامعلوم موٹرسائیکل سواروں کی فائرنگ کا شکار ہوئے اور وہ بھی تھے جو ایک مذہبی ریلی میں شرکت کے بعد اپنے گھروں کو جارہے تھے۔
پھر پولیس نے کومبنگ آپریشن کیا، سابق سینیٹر فیصل رضا عابدی سمیت دو فرقوں کے رہنما گرفتار ہوئے۔ پھر ایک فرقہ کی نمایندگی کرنے والی تنظیم کے کارکنوں نے شہر کے مختلف علاقوں میں دھرنے دیے۔ ملیر میں مظاہرین نے مرکزی شاہراہِ فیصل پر ٹریفک کو معطل کیا، ہزاروں لوگ ٹریفک میں پھنس گئے۔ پولیس کو آنسو گیس کے گولے پھینکنے پڑے، ہوائی فائرنگ ہوئی اور پھر سارا دن گزرنے کے بعد زندگی معمول پر آئی۔
فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ گزشتہ 30 برسوں سے جاری ہے۔ برسراقتدار حکومتیں ملزمان کی گرفتاری اور اسلحہ برآمد کرنے کے دعوے کرتی ہیں۔ فرقہ وارانہ تنازعات پر تحقیق کرنے والے ماہرین اس معاملے کو جنرل ضیاء الحق کے دور سے منسلک کرتے ہیں۔ جب جنرل ضیاء الحق نے امریکا کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے افغانستان پروجیکٹ میں شمولیت اختیار کی اور افغانستان کی کمیونسٹ حکومت کے خاتمے کے لیے انتہاپسندوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا فیصلہ ہوا۔ پھر یہ پروجیکٹ سوویت یونین کے خاتمے تک پھیل گیا اور ان مدرسوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی عسکری تربیت کا سلسلہ شروع ہوا۔
ایران میں آیت اﷲ خمینی نے شاہ ایران کا تختہ الٹ کر اسلامی انقلاب برپا کیا اور اس انقلاب کو مسلمان ممالک میں برآمد کرنے کی پالیسی اختیار کی۔ اس کے ساتھ ہی عراق و ایران کی جنگ شروع ہوگئی۔ کراچی کی سڑکوں پر پراکسی وازر ہوئیں۔ یہ جنگ پنجاب اور پاراچنار تک پھیل گئی۔ پھر افغان جہاد اختتام کو پہنچا۔ افغانستان میں وار لارڈز میں لڑائی شروع ہوئی اور کشمیر میں جہاد شروع ہوگیا۔ بہت سے نوجوان جہاد کے لیے گئے اور واپسی پر انھوں نے مخالف فرقے کے معروف افراد کو نشانہ بنایا۔ اس طرح بہت سے ڈاکٹر، انجینئر، اساتذہ، پولیس افسران اور شاعر وغیرہ نامعلوم افراد کی گولیوں کا نشانہ بنے۔ بے نظیربھٹو اور میاں نواز شریف کی 1988ء سے 1999ء تک قائم ہونے والی حکومتیں اس صورتحال کے خاتمے کے لیے بے بس نظر آئیں۔
طالبان کی حکومت میں افغانستان انتہاپسندوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن گیا۔ نائن الیون کی دہشت گردی کے بعد پاکستان اتحادی فوجوں کا حصہ بنا، کابل پر حامد کرزئی کی حکومت قائم ہوئی تو انتہاپسند تورا بورا کے پہاڑوں سے وزیرستان اور دیگر قبائلی علاقوں میں منتقل ہوئے۔ اب امام بارگاہوں اور زائرین کی بسوں پر خودکش حملوں کا دور آیا۔ امریکا کے عراق پر حملے اور صدام حکومت کے خاتمے کے بعد عرب دنیا میں چھپے ہوئے فرقہ وارانہ تضادات کھل گئے۔ عرب ممالک میں اسپرنگ لہر نے ایک نئی تبدیلی برپا کردی۔
امریکا نے قذافی اور بشار الاسد کی حکومتوں کے خاتمے کے لیے القاعدہ اور دیگر انتہاپسند قوتوں کو استعمال کیا۔ عراق میں البغدادی نے داعش قائم کی اور پھر اپنی خلافت کا اعلان کردیا۔ داعش کے اثرات پاکستان تک پہنچ گئے۔ شام میں ہونے والی خانہ جنگی کے لیے پاکستان سے انتہاپسند جانے لگے۔ داعش نے کوئٹہ، کراچی اور پشاور میں ہونے والی دہشتگردی کی وارداتوں کی ذمے داری قبول کرلی۔ بلوچستان میں آزاد بلوچستان کے حامیوں اور قوم پرستوں کے خاتمے کے لیے قبائلی لشکر تیار ہوئے۔ یہ لشکر فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہو گئے۔
شکارپور اور کراچی میں دہشتگردی کی وارداتوں میں بلوچستان کے دوسرے بڑے شہر خضدار سے تربیت پانے والے جوانوں کے ملوث ہونے کے ثبوت ملے۔ اب یہ واضح ہوگیا کہ کراچی میں ہونے والی فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ میں باہر کے عناصر بھی ملوث ہیں۔جب پشاور پبلک اسکول کے بچوں کو دہشتگردوں نے نشانہ بنایا تو آپریشن ضرب عضب شروع ہوا۔ پولیس اور رینجرز کے دستوں نے کراچی کے مضافاتی علاقے سے انتہاپسندوں کی کمین گاہوں کے خاتمے کے لیے موثر آپریشن کیا۔ اس آپریشن میں سیکڑوں انتہاپسند مارے گئے اور کچھ پکڑے گئے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں صورت حال بہتر ہوئی مگر شہر میں فرقہ وارانہ دہشتگردی نہیں رک سکی۔
ایک لسانی تنظیم کے جنگجوؤں کے خلاف خاصا موثر آپریشن ہوا، مگر فرقہ وارانہ بنیاد پر ٹارگٹ کلنگ تھم نہ سکی۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ہر فرقہ میں جنونی عناصر تقویت حاصل کررہے ہیں۔ بعض عناصر سمجھتے ہیں کہ تشدد کا جواب تشدد سے دے کر ٹارگٹ کلنگ پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ یہ عناصر دھرنوں کا ہتھیار استعمال کرکے مخصوص مقاصد حاصل کرتے ہیں مگر مجموعی طور پر زندگی کو معطل کرنے کے اقدامات عوام کے ذہنوں میں ناپسندیدگی پیدا کرتے ہیں، اسی طرح کے اقدامات سے نفرت پیدا ہوتی ہے۔
خوش قسمتی کی بات یہ ہے کہ عوام کے ذہنوں میں کسی قسم کی فرقہ وارانہ کشیدگی کا تصور نہیں ہے، ورنہ دھرنے جیسی صورتحال سے فرقہ وارانہ فساد پیدا ہوتا مگر عوام کی زندگی میں خلل ڈالنے والے اقدامات سے نفرت کی فضا ضرور مستحکم ہوتی ہے۔ اس صورتحال کا حل کئی سطحوں میں مضمر ہے۔ سب سے پہلے اسلحہ کی تقسیم روکنے کے لیے اقدامات ہونے چاہئیں۔ سندھ کے وزیراعلیٰ کو کراچی سے اسلحہ کے خاتمے کے اقدامات کے لیے جامع لائحہ عمل بنانا چاہیے۔ پورے شہر سے غیر قانونی اسلحہ کے خاتمے کے لیے لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے۔
اگر شہر میں غیر قانونی اسلحہ دستیاب نہیں ہوگا تو جرائم کی شرح کم ہوجائے گی مگر یہ ایک ایسا پیچیدہ معاملہ ہے کہ جب تک وفاق اور صوبائی حکومتیں ایک لائحہ عمل تیار نہیں کریں گی اور سول اور عسکری خفیہ ایجنسیاں اس لائحہ عمل کی حمایت نہیں کریں گی، اس کے خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔ پھر عدالتی نظام کو بہتر بنانا ایک اہم معاملہ ہے۔ ناقص عدالتی نظام کی بنا پر کئی ملزموں کو سزا نہیں ملتی، اب تک صوبوں میں گواہوں کے تحفظ کا قانون نافذ نہیں ہوسکا۔
پولیس حکام خود کہہ رہے ہیں کہ مشہور قوال امجد صابری کے قتل میں ملوث ملزم کو کئی معروف افراد کے قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا مگر وہ عدم ثبوت اور طویل عرصے تک گواہی نہ پیش کرنے کی بنا پر ضمانت پر رہا ہوا اور پھر معروف افراد کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہوگیا تھا۔ اس ملزم کو بھی نہیں علم کہ اس کی ضمانت کس نے کرائی تھی۔
حکومت سندھ نے مدارس میں اصلاحات کا فیصلہ کیا تھا مگر علمائے کرام اور مذہبی جماعتوں کے دباؤ کی بنا پر یہ معاملہ التوا کا شکار ہے۔ مدارس کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے فوری اقدامات ہونے چاہئیں اور جو افراد فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینے میں ملوث ہوں ان کے خلاف سخت کارروائی کا قانون بننا چاہیے۔ اب امریکا میں ٹرمپ برسراقتدار آنے کے بعد کالعدم تنظیموں کا خاتمہ ضروری ہے۔
اسی طرح اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نصاب سے نفرت آمیز مواد کا اخراج بھی فوری طور پر ہونا چاہیے۔ ریاستی اداروں کا تنقیدی جائزہ لینا بھی ضروری امر ہے۔ محمد علی جناح کی 11 اگست 1948ء کی تقریر کو ہر سطح کے نصاب کا حصہ بنانا چاہیے اور ریاست کی بنیادی ترجیح نوجوانوں کے ذہنوں کی تبدیلی ہونی چاہیے۔ جب تک ذہن تبدیل نہیں ہوں گے، یہ معاملہ معصوموں کے قتل کی وجہ بنتا رہے گا۔