ٹرمپ کی جیت ۔ اپنی اپنی فکر کرںیکا نظریہ

امریکا کے وہ عوام جو تحریک انصاف اور عمران خان سے مرعوب ہیں

msuherwardy@gmail.com

FAISALABAD:
امریکا کے صدارتی انتخابات کے نتائج وہاں کی اسٹیبلشمنٹ نے تو تسلیم کر لیے ہیں۔ بارک اوباما نے ڈونلڈ ٹرمپ کو نہ صرف وائٹ ہاؤس بلا لیا بلکہ ان سے ایک طویل ملاقات بھی کی ہے۔ لیکن امریکا کے وہ عوام جو تحریک انصاف اور عمران خان سے مرعوب ہیں نہ تو صدارتی انتخاب کے نتائج کو تسلیم کر رہے ہیں اور نہ ہی ڈونلڈ ٹرمپ کو صدر ماننے کے لیے تیار ہیں۔ ان کے دلائل اتنے ہی با وزن ہیں جتنے عمران خان کے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ جب ووٹ ہیلری کلنٹن کے زیادہ ہیں تو ڈونلڈ ٹرمپ کیسے جیت سکتے ہیں۔ بات سادہ اور آسانی سے سمجھ میں آنے والی ہے۔ یہ دھاندلی نہیں تو اور کیا ہے۔

حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ ہیلری جن کے ووٹ ٹرمپ سے زیادہ ہیں وہ ان انتخابی نتائج کو تسلیم کر چکی ہیں۔ اور دھاندلی کا واویلہ نہیں کر رہی ہیں۔ اور ٹرمپ بھی بار بار عوام کو ان انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔اور مظاہرین کو پیشہ ور مظاہرین کہا ہے۔ اب امریکا میں یہ پیشہ ور مظاہرین کتنے میں اور کیسے میسر ہیں یہ ایک تحقیق طلب معاملہ ہے۔ قدرت کی ستم ظریفی دیکھیں یہ وہی ٹرمپ ہیں جو انتخابی مہم کے دوران برملا کہہ رہے تھے کہ اگر نتائج ان کے حق میں نہ ہوئے تو وہ تسلیم نہیں کریں گے۔

امریکی صدارتی انتخابات کے بعد سے سوشل میڈیا پر عمران خان اور ہیلری کلنٹن کی جوڑی بنائی جا رہی ہے جس میں عمران خان ہیلری کلنٹن کو دھاندلی کے خلاف دھرنا اور تحریک چلانے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ بلکہ یہ کہنا بہتر ہو گا کہ سوشل میڈیا کی مزاحیہ پوسٹ میں ہیلری کلنٹن عمران خان سے دھاندلی کے خلاف ایک عوامی تحریک اور دھرنادینے کے مشورے مانگ رہی ہیں۔

حالانکہ یہی سوشل میڈیا پوری انتخابی مہم کے دوران یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا رہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کا عمران خان ہے۔ اس کی زبان عمران خان جیسی ہے۔ اس کے نفرت انگیز خیالات عمران خان جیسے ہیں۔ اور اس کی بہت سی حرکتیں بھی عمران خان جیسی ہیں۔ تاہم امریکی عوام کے احتجاج پر یہ کہا جا رہا ہے کہ امریکی عوام نے یہ روش پاکستان سے سیکھی ہے۔ اور ایک طرح پاکستان دھاندلی کے خلاف احتجاج کا کلچر کامیابی سے ایکسپورٹ کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ایکسپورٹ سے پاکستان کو نہ تو کوئی نیک نامی ملے گی اور نہ ہی کوئی زرمبادلہ ۔یہ لکھنا بھی مناسب نہیں کہ خربوزہ کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑ رہا ہے۔ کیونکہ یہ خربوزہ اتنا زبردست نہیں تھا کہ اسے دیکھ کر کوئی رنگ پکڑتا۔

بہر حال امریکا میں جاری دھاندلی کے خلاف تحریک اسی طرح ناکام ہو گی جیسے پاکستان میں ناکام ہوئی ہے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے امریکا میں بھی دھاندلی کے خلاف احتجاج کرنے والوں کی تعداد اسی طرح کم ہے جیسے پاکستان میں بھی کم رہی۔ عمران خان بھی اپنی دھاندلی کے خلاف تحریک میں عوام کی مطلوبہ تعداد نہ جمع کر سکے اسی لیے ان کو مطلوبہ نتائج نہ ملے ہیں۔ اور امریکا میں بھی اس احتجاج میں بھی عوام کی اتنی بڑی تعداد نہیں ہیں کہ وہ اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کر سکیں۔

اس لیے امریکا میں بھی دھاندلی کے خلاف تحریک اور مظاہروں کا بھی وہی حال ہو گا جو پاکستان میں ہوا ہے۔ پاکستان میں سپریم کورٹ دھاندلی کے خلاف مقدمہ کو نبٹایا جا چکا ہے۔ اس ضمن میں خواجہ آصف کے حق میں تازہ فیصلہ سپریم کورٹ کے پرانے فیصلوں کی از سر نو تصدیق ہے۔


ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت دراصل امریکی میڈیا کی ہار ہے۔ اور امریکا میں انتخابی سروے کرنے والی کمپنیوں کی ہار ہے۔ اور خود کو امریکی انتخابات کے ماہر سمجھنے والوں کی ہار ہے۔ لیکن میں یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت امریکی اسٹیبلشمنٹ کی ہار ہے۔ یہ درست ہے کہ بظاہر یہ تاثر موجود ہے کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف تھی۔ لیکن اب تو ایسا لگ رہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ہی امریکی اسٹیبلشمنٹ کے حقیقی امیدوار تھے۔

کیا یہ حقیقت نہیں کہ دنیا میں امریکی اسٹیبلشمنٹ کی ساکھ کمزور ہو رہی ہے۔ امریکی ڈپلومیسی مطلوبہ نتائج حا صل کرنے میں ناکام ہو رہی ہے۔ ایسے میں ڈونلڈ ٹرمپ ہی امریکی اسٹیبلشمنٹ کے ڈارک ہارس تھے۔ اسی لیے وہ ہیلری کلنٹن سے دو لاکھ کم ووٹ لے کر بھی جیت گئے۔ کیا یہ امریکی اسٹیبلشمنٹ کا کمال نہیں کہ وہ دو لاکھ کم ووٹ لینے والے کو بھی جتوا سکتی ہے۔ تمام تجزیوں اور سرویز کو غلط ثابت کر سکتی ہے۔ اس لیے شاید جیسے جیسے فلم آگے بڑھے گی تو یہ حقیقت زیادہ عیاں ہوتی جائے گی کہ ڈوونلڈ ٹرمپ ہی اصل ڈارک ہارس تھے۔

ٹرمپ کی جیت دراصل برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کے ریفرنڈم کا تسلسل ہے۔ جس طرح برطانیہ کی عوام نے اس ریفرنڈم میں دنیااور تجزیہ نگاروں کو حیران کر دیا تھا۔ اسی طرح اب امریکا میں بھی عوام نے دنیا اور تجزیہ نگاروں کو حیران کر دیا ہے۔ لیکن اگر صورتحال کو ملا کر دیکھیں تو دونوں ووٹ ایک ہی سوچ کا مظہر ہیں۔ ان دونوں نتائج کے بعد یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ گلوبل ویلج کا تصور دم توڑ رہا ہے اور اپنے اپنے گھر کو سنبھالو کا تصور زور پکڑ رہا ہے۔

سرحدیں نرم کرنے کا تصور دم توڑ رہا ہے اور سرحدوں پر دیواریں کھڑ ی کرنے کا تصور زور پکڑ رہا ہے۔ مشترکہ مفادات کا تصو ر کمزور پکڑ رہا ہے اور انفرادی مفادات کے تحفظ کا تصور زور پکڑ رہا ہے۔ ایسے میں پرانے حلیف حریف اور پرانے حریف حلیف بنیں گے۔ دوستیوں اور دشمنیوں کے پیمانے بدل جائیں گے۔ اس لیے دنیا بدل رہی ہے لیکن شاید تجزیہ نگار اس کو ہضم نہیں کر رہے ۔ کیونکہ وہ نصف صدی سے گلوبل ویلج کا راگ الاپ رہے ہیں۔

جہاں تک پاکستان اور ٹرمپ کا تعلق ہے۔ تو ہم امریکا کے کیمپ سے نکل چکے ہیں۔ ایف سولہ سے انکار ہو چکا ہے۔ کولیشن سپورٹ فنڈ کے پیسے رکے ہوئے ہیں۔ ایسے میں ٹرمپ مزید کیا کر سکتے ہیں۔ ہم چین کے ساتھ مکمل جا چکے ہیں۔ اگر ٹرمپ ایٹمی پروگرام کے لیے مزید پابندیاں بھی لگائے گا تو پاکستان ان کو برداشت کرنے کی پوزیشن میں ہو گا۔

ویسے تو ٹرمپ نے مسلمانوں کے خلاف اپنے ریمارکس اپنی ویب سائٹ سے ہٹا لیے ہیں۔ لیکن یہ شاید ٹرمپ کی جانب سے اپنے خلاف جاری مظاہروں کو روکنے یا ان کی شدت کو کنٹرول کرنے کی ایک کوشش ہے۔ بہر حال اب وہ ایک منتخب صدر ہیں۔ اور پر امن انتقال اقتدار ان کی اولین ترجیح ہے۔

مجھے پاکستانی خبارات اور الیکٹرانک میڈیا میں امریکا میں مظاہروں کی خبروں کی نمایاں کوریج دیکھ کر دکھ ہوا۔ ہم اپنے مسائل پر کم اور بیرونی دنیا پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانے کی مصداق ہماری ٹرمپ پر زیادہ توجہ ہے اور اپنے گھر کی فکر نہیں۔ لیکن ٹرمپ کا انتخاب یہ بتا رہا ہے کہ اب صرف اپنے گھر کی فکر کرنے کا زمانہ ہے۔ کاش ہم یہ سبق سیکھ لیں۔
Load Next Story