تحریک انصاف کی مہم جوئیاں
پاکستان دنیا کا غالباً پہلا ملک ہے جس کے حکمران خاندان پر پانامہ لیکس میں ملوث ہونے کے الزامات لگائے گئے ہیں
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
لاہور:
اس میں کوئی شک نہیں کہ سیاست حاضرہ میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان وہ واحد سیاسی لیڈر ہے جو پاکستان کے جس شہر میں جاتا ہے' وہاں لاکھوں عوام اس کے گرد جمع ہوجاتے ہیں۔عمران خان کے ملک بھر میں ہونے والے جلسے اس کا ثبوت ہیں۔
2013کے عام انتخابات سے لے کر اب تک اس کے جلسوں کی رونق کم نہیں ہوئی۔ حالانکہ بعض لوگوں کا خیال تھا کہ 2014میں اسلام آباد میں ہونے والے احتجاجی دھرنوں کی ناکامی کے بعد عمران خان کی مقبولیت کم ہو گئی ہے لیکن اس کے باوجود عمران خان نے جب بھی کسی جلسے یا ریلی کی کال دی عوام جوق در جوق اس میں شرکت کے لیے چلے آئے۔لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ پاکستان کے عوام میں اس قدر مقبول لیڈر اپنی سیاسی مہموں میں ناکام کیوں ہورہا ہے؟وہ کیا وجوہات ہیں جن کی بنا پر وہ اپنے احتجاج کو ناکامی سے نہیں بچا سکے۔
یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا معروضی جواب تلاش کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ایسا کرنا مستقبل کی تحریکوں کو ناکامی سے بچانے کے لیے ضروری ہے۔ آج کل عمران خان کی سیاست کا مرکزی مسئلہ پانامہ لیکس دنیائے سیاست کی کرپشن کی ایک بڑی داستان ہے۔ماضی میں اتنا بڑا سکینڈل کبھی سامنے نہیں آیا۔ دنیا کے کئی ملک اور وہاں کی نامور شخصیات پانامہ لیکس کے کرداروں میں شامل ہیں۔
دنیا کے جن حکمرانوں پر کرپشن کے الزامات لگے ہیں ان حکمرانوں نے اپنی پارلیمنٹ کے سامنے اپنی صفائیاں پیش کیں اور کئی ملکوں کے حکمرانوں نے ان الزامات کے نتیجے میں اپنے عہدوں سے استعفیٰ بھی دے دیا۔ ان حکمرانوں میں برطانیہ جیسے بڑے ملک کے وزیراعظم بھی شامل ہیں۔گو ڈیوڈ کیمرون نے پانامہ سکینڈل میں ملوث ہونے پر اسعفیٰ نہیں دیا' ان کا استعفیٰ برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے فیصلے پر ہوا ہے۔
ڈیوڈ کیمرون کا موقف یہ تھا کہ وہ یورپی یونین میں رہنے کے حامی تھے لیکن عوام نے ریفرنڈم میں ان کے نظریے کے خلاف ووٹ دے کر دراصل ان پر عدم اعتماد کیا ہے۔ اس لیے انھوں نے اپنا عہدہ چھوڑ دیا لیکن یہ حقیقت ہے کہ پانامہ لیکس کے بعد ان پر بہت زیادہ تنقید ہوئی تھی حالانکہ وہ براہ راست پانامہ لیکس میں موجود نہیں تھے لیکن اس کے باوجود ان پر اس سکینڈل کا دباؤ موجود تھا۔ ابھی ابھی سری لنکا کے وزیراعظم نے بھی کرپشن کے حوالے سے لگائے گئے الزامات کی جوابدہی کے لیے اپنے آپ کو پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان دنیا کا غالباً پہلا ملک ہے جس کے حکمران خاندان پر پانامہ لیکس میں ملوث ہونے کے الزامات لگائے گئے ہیں لیکن پاکستان کا حکمران خاندان بڑی صراحت کے ساتھ ان الزامات کی تردید کررہا ہے، جب کہ ملک کی ساری سیاسی جماعتیں حکمران خاندان سے جوابدہی کا مطالبہ کررہی ہیں۔ اس میں حقیقت بھی موجود ہے کہ پانامہ لیکس میں وزیراعظم کا اپنا نام نہیں ہے لیکن وہ چونکہ وزیراعظم ہیں اور پانامہ لیکس میں ان کی فیملی کے نام آئے ہیں 'اس لیے انھیں بھی ان معاملات کا بہر حال جواب دینا چاہیے۔ اسی وجہ سے انھوں نے قوم سے خطاب کر کے صفائی پیش کی تھی۔ اگر وہ یہ صفائی نہ دیتے تو شاید صورت حال مختلف ہو جاتی۔
عمران خان کی تحریک انصاف کے علاوہ تقریباً ساری سیاسی جماعتیں اس مسئلے کو پارلیمانی سیاست یا عدلیہ کے ذریعے حل کرنے کی بات کررہی ہیں، جب کہ عمران خان اس مسئلے کو عوامی طاقت کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں۔ شاید وہ یہ سمجھتے ہیں کہ باقی سیاسی جماعتیں نواز شریف کے ساتھ سیاسی تعاون کریں گی اور یہ بڑا سکینڈل بھی ماضی کا حصہ بن کر کہیں فائلوں میں گم ہو جائے گا اور پھر کسی کو یاد بھی نہیں رہے گا۔
جو لوگ پاکستانی سیاست اور پارلیمنٹ کے کردار اور عدلیہ کی بے بسی سے واقف ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ یہ مسئلہ حتمی طور پر نہ پارلیمنٹ میں حل ہوسکتا ہے نہ عدلیہ شاید اس حوالے سے فیصلہ کن کردار ادا کرسکتی ہے کہ اس کے سامنے بے شمار قانونی پیچیدگیاں موجود ہیں۔ جو لوگ لاکھوں کی تعداد میں عمران خان کے جلسوں اور ریلیوں میں شریک ہورہے ہیں وہ بھی غالباً اس خیال سے متفق ہیں کہ یہ مسئلہ عوام کی طاقت ہی سے حل ہوسکتا ہے۔
سوال یہ پیدا ہورہا ہے کہ عمران خان عوامی طاقت کے استعمال کے باوجود اس مسئلے کو حل کرانے میں کیوں ناکام ہورہے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ عمران کی سیاست میں منصوبہ بندی اور حکمت عملی کا فقدان ہے، جس کی وجہ سے ان کی ساری سیاست بے نتیجہ مہم جوئی میں بدل جاتی ہے۔ اسلام آباد بند کرنے کا بچگانہ اعلان عمران خان اس زور و شور سے کرتے رہے کہ حکمران طبقہ اس حوالے سے نہ صرف اس کی مزاحمت کی بھرپور تیاری میں کامیاب رہا بلکہ عوام کی بھاری اکثریت بھی اس مبہم اعلان کو سمجھنے میں اسی طرح قاصر رہی جس طرح وہ عمران خان کے ''نئے پاکستان'' کے نعرے کو سمجھنے میں قاصر رہی ہے۔
اسلام آباد بند کرنے کے نام سے سب سے زیادہ کاروباری حلقہ پریشان رہا، اس کے علاوہ ملازم پیشہ افراد خاص طور پر دیہاڑی دار طبقے کے ہزاروں لوگ بھی اس لیے پریشان رہے کہ اسلام آباد بند کرنے سے ان کی دیہاڑی بھی بند ہوجائے گی اور ان کے بچوں کو فاقہ کشی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اس خوفزدہ کرنے والے مسلسل اعلان کا فائدہ سب سے زیادہ حکومت کو ہوا۔ کیوںکہ اسلام آباد بند کرنے کے بچگانہ اعلان سے حکومت کو سیکیورٹی فورسز کو استعمال کرنے کا جواز مہیا ہوگیا اور اس نے آنسو گیس اور ربر کی گولیوں کے استعمال کی بھرپور تیاری کرلی۔ پنجاب سے بڑی تعداد میں خصوصی پولیس کے دستے منگوائے گئے اور اسلام آباد ہی نہیں بلکہ پنجاب کے شہروں میں بھی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ جس کی وجہ سے وہ قافلے جو اسلام آباد آنے کے لیے نکلے تھے وہ کنٹینروں اور آنسو گیس کے گولوں اور ربر کی گولیوں کا مقابلہ نہ کرسکے۔
خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کی قیادت میں ایک بڑا قافلہ صوابی سے بنی گالا کی طرف روانہ ہوا، اس قافلے میں شامل ہزاروں کارکنوں کی جرأت کی داد دینی چاہیے کہ یہ لوگ رات کے اندھیرے میں پہاڑی راستوں پر پیدل مارچ کرتے ہوئے بنی گالا کی طرف بڑھنے لگے۔ کیا عمران خان کو یہ علم نہیں تھا کہ کارکن کس طرح پولیس اور ایف سی کی بے لگام آنسو گگیس شیلنگ سے بچ سکیںگے؟
ہوا یہی کہ جب پولیس نے آنسو گیس کا بے تحاشا استعمال شروع کیا تو جرأت کا مظاہرہ کرنے والے کارکن بھی جان بچانے کے لیے ادھر ادھر منتشر ہوگئے، خود وزیراعلیٰ بھی اس شیلنگ کا شکار ہوئے، یہی حال ان قافلوں کا ہوا جو پنجاب کے مختلف شہروں سے بنی گالا یا اسلام آباد کی طرف آرہے تھے۔ یہ سب ناقص منصوبہ بندی اور احمقانہ حکمت عملی کا نتیجہ تھا کہ تحریک ناکام ہوئی کارکن بد دل ہوئے اور ملا کیا؟ جگ ہنسائی۔
ہم نے یہاں صرف ایک معرکے کا ذکر کیا ہے، جب کہ 2014ء سمیت تحریک انصاف کی غیر منصوبہ بند اور بچگانہ مہم جوئیوں سے تحریک انصاف کو سخت نقصان اور حکومت کو فائدہ ہوا ہے۔
یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ سیکڑوں کارکنوں کو عمران خان کے گھر پر جمع کرلیا گیا اور رات دن وہاں کارکنوں کے لیے دیگیں پکتی رہیں، یہ سلسلہ کئی دن چلتا رہا اور یوں محسوس ہونے لگا کہ یہ کارکن کسی سیاسی تحریک میں شامل نہیں، بلکہ پکنک منانے آئے ہیں، بلاشبہ ان تحریکوں میں بڑی تعداد میں کارکن اور عمران خان کے شیدائی شامل ہوتے رہے لیکن ان تحریکوں میں عوام کی شرکت نہ ہونے کے برابر ہی رہی اس لیے کہ نواز شریف سے نجات ہی عوام کا مسئلہ نہیں بلکہ عوام کا مسئلہ اس پورے نظام سے نجات ہے جو قدم قدم پر نواز شریف پیدا کرتا رہتا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ سیاست حاضرہ میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان وہ واحد سیاسی لیڈر ہے جو پاکستان کے جس شہر میں جاتا ہے' وہاں لاکھوں عوام اس کے گرد جمع ہوجاتے ہیں۔عمران خان کے ملک بھر میں ہونے والے جلسے اس کا ثبوت ہیں۔
2013کے عام انتخابات سے لے کر اب تک اس کے جلسوں کی رونق کم نہیں ہوئی۔ حالانکہ بعض لوگوں کا خیال تھا کہ 2014میں اسلام آباد میں ہونے والے احتجاجی دھرنوں کی ناکامی کے بعد عمران خان کی مقبولیت کم ہو گئی ہے لیکن اس کے باوجود عمران خان نے جب بھی کسی جلسے یا ریلی کی کال دی عوام جوق در جوق اس میں شرکت کے لیے چلے آئے۔لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ پاکستان کے عوام میں اس قدر مقبول لیڈر اپنی سیاسی مہموں میں ناکام کیوں ہورہا ہے؟وہ کیا وجوہات ہیں جن کی بنا پر وہ اپنے احتجاج کو ناکامی سے نہیں بچا سکے۔
یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا معروضی جواب تلاش کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ایسا کرنا مستقبل کی تحریکوں کو ناکامی سے بچانے کے لیے ضروری ہے۔ آج کل عمران خان کی سیاست کا مرکزی مسئلہ پانامہ لیکس دنیائے سیاست کی کرپشن کی ایک بڑی داستان ہے۔ماضی میں اتنا بڑا سکینڈل کبھی سامنے نہیں آیا۔ دنیا کے کئی ملک اور وہاں کی نامور شخصیات پانامہ لیکس کے کرداروں میں شامل ہیں۔
دنیا کے جن حکمرانوں پر کرپشن کے الزامات لگے ہیں ان حکمرانوں نے اپنی پارلیمنٹ کے سامنے اپنی صفائیاں پیش کیں اور کئی ملکوں کے حکمرانوں نے ان الزامات کے نتیجے میں اپنے عہدوں سے استعفیٰ بھی دے دیا۔ ان حکمرانوں میں برطانیہ جیسے بڑے ملک کے وزیراعظم بھی شامل ہیں۔گو ڈیوڈ کیمرون نے پانامہ سکینڈل میں ملوث ہونے پر اسعفیٰ نہیں دیا' ان کا استعفیٰ برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے فیصلے پر ہوا ہے۔
ڈیوڈ کیمرون کا موقف یہ تھا کہ وہ یورپی یونین میں رہنے کے حامی تھے لیکن عوام نے ریفرنڈم میں ان کے نظریے کے خلاف ووٹ دے کر دراصل ان پر عدم اعتماد کیا ہے۔ اس لیے انھوں نے اپنا عہدہ چھوڑ دیا لیکن یہ حقیقت ہے کہ پانامہ لیکس کے بعد ان پر بہت زیادہ تنقید ہوئی تھی حالانکہ وہ براہ راست پانامہ لیکس میں موجود نہیں تھے لیکن اس کے باوجود ان پر اس سکینڈل کا دباؤ موجود تھا۔ ابھی ابھی سری لنکا کے وزیراعظم نے بھی کرپشن کے حوالے سے لگائے گئے الزامات کی جوابدہی کے لیے اپنے آپ کو پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان دنیا کا غالباً پہلا ملک ہے جس کے حکمران خاندان پر پانامہ لیکس میں ملوث ہونے کے الزامات لگائے گئے ہیں لیکن پاکستان کا حکمران خاندان بڑی صراحت کے ساتھ ان الزامات کی تردید کررہا ہے، جب کہ ملک کی ساری سیاسی جماعتیں حکمران خاندان سے جوابدہی کا مطالبہ کررہی ہیں۔ اس میں حقیقت بھی موجود ہے کہ پانامہ لیکس میں وزیراعظم کا اپنا نام نہیں ہے لیکن وہ چونکہ وزیراعظم ہیں اور پانامہ لیکس میں ان کی فیملی کے نام آئے ہیں 'اس لیے انھیں بھی ان معاملات کا بہر حال جواب دینا چاہیے۔ اسی وجہ سے انھوں نے قوم سے خطاب کر کے صفائی پیش کی تھی۔ اگر وہ یہ صفائی نہ دیتے تو شاید صورت حال مختلف ہو جاتی۔
عمران خان کی تحریک انصاف کے علاوہ تقریباً ساری سیاسی جماعتیں اس مسئلے کو پارلیمانی سیاست یا عدلیہ کے ذریعے حل کرنے کی بات کررہی ہیں، جب کہ عمران خان اس مسئلے کو عوامی طاقت کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں۔ شاید وہ یہ سمجھتے ہیں کہ باقی سیاسی جماعتیں نواز شریف کے ساتھ سیاسی تعاون کریں گی اور یہ بڑا سکینڈل بھی ماضی کا حصہ بن کر کہیں فائلوں میں گم ہو جائے گا اور پھر کسی کو یاد بھی نہیں رہے گا۔
جو لوگ پاکستانی سیاست اور پارلیمنٹ کے کردار اور عدلیہ کی بے بسی سے واقف ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ یہ مسئلہ حتمی طور پر نہ پارلیمنٹ میں حل ہوسکتا ہے نہ عدلیہ شاید اس حوالے سے فیصلہ کن کردار ادا کرسکتی ہے کہ اس کے سامنے بے شمار قانونی پیچیدگیاں موجود ہیں۔ جو لوگ لاکھوں کی تعداد میں عمران خان کے جلسوں اور ریلیوں میں شریک ہورہے ہیں وہ بھی غالباً اس خیال سے متفق ہیں کہ یہ مسئلہ عوام کی طاقت ہی سے حل ہوسکتا ہے۔
سوال یہ پیدا ہورہا ہے کہ عمران خان عوامی طاقت کے استعمال کے باوجود اس مسئلے کو حل کرانے میں کیوں ناکام ہورہے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ عمران کی سیاست میں منصوبہ بندی اور حکمت عملی کا فقدان ہے، جس کی وجہ سے ان کی ساری سیاست بے نتیجہ مہم جوئی میں بدل جاتی ہے۔ اسلام آباد بند کرنے کا بچگانہ اعلان عمران خان اس زور و شور سے کرتے رہے کہ حکمران طبقہ اس حوالے سے نہ صرف اس کی مزاحمت کی بھرپور تیاری میں کامیاب رہا بلکہ عوام کی بھاری اکثریت بھی اس مبہم اعلان کو سمجھنے میں اسی طرح قاصر رہی جس طرح وہ عمران خان کے ''نئے پاکستان'' کے نعرے کو سمجھنے میں قاصر رہی ہے۔
اسلام آباد بند کرنے کے نام سے سب سے زیادہ کاروباری حلقہ پریشان رہا، اس کے علاوہ ملازم پیشہ افراد خاص طور پر دیہاڑی دار طبقے کے ہزاروں لوگ بھی اس لیے پریشان رہے کہ اسلام آباد بند کرنے سے ان کی دیہاڑی بھی بند ہوجائے گی اور ان کے بچوں کو فاقہ کشی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اس خوفزدہ کرنے والے مسلسل اعلان کا فائدہ سب سے زیادہ حکومت کو ہوا۔ کیوںکہ اسلام آباد بند کرنے کے بچگانہ اعلان سے حکومت کو سیکیورٹی فورسز کو استعمال کرنے کا جواز مہیا ہوگیا اور اس نے آنسو گیس اور ربر کی گولیوں کے استعمال کی بھرپور تیاری کرلی۔ پنجاب سے بڑی تعداد میں خصوصی پولیس کے دستے منگوائے گئے اور اسلام آباد ہی نہیں بلکہ پنجاب کے شہروں میں بھی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ جس کی وجہ سے وہ قافلے جو اسلام آباد آنے کے لیے نکلے تھے وہ کنٹینروں اور آنسو گیس کے گولوں اور ربر کی گولیوں کا مقابلہ نہ کرسکے۔
خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کی قیادت میں ایک بڑا قافلہ صوابی سے بنی گالا کی طرف روانہ ہوا، اس قافلے میں شامل ہزاروں کارکنوں کی جرأت کی داد دینی چاہیے کہ یہ لوگ رات کے اندھیرے میں پہاڑی راستوں پر پیدل مارچ کرتے ہوئے بنی گالا کی طرف بڑھنے لگے۔ کیا عمران خان کو یہ علم نہیں تھا کہ کارکن کس طرح پولیس اور ایف سی کی بے لگام آنسو گگیس شیلنگ سے بچ سکیںگے؟
ہوا یہی کہ جب پولیس نے آنسو گیس کا بے تحاشا استعمال شروع کیا تو جرأت کا مظاہرہ کرنے والے کارکن بھی جان بچانے کے لیے ادھر ادھر منتشر ہوگئے، خود وزیراعلیٰ بھی اس شیلنگ کا شکار ہوئے، یہی حال ان قافلوں کا ہوا جو پنجاب کے مختلف شہروں سے بنی گالا یا اسلام آباد کی طرف آرہے تھے۔ یہ سب ناقص منصوبہ بندی اور احمقانہ حکمت عملی کا نتیجہ تھا کہ تحریک ناکام ہوئی کارکن بد دل ہوئے اور ملا کیا؟ جگ ہنسائی۔
ہم نے یہاں صرف ایک معرکے کا ذکر کیا ہے، جب کہ 2014ء سمیت تحریک انصاف کی غیر منصوبہ بند اور بچگانہ مہم جوئیوں سے تحریک انصاف کو سخت نقصان اور حکومت کو فائدہ ہوا ہے۔
یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ سیکڑوں کارکنوں کو عمران خان کے گھر پر جمع کرلیا گیا اور رات دن وہاں کارکنوں کے لیے دیگیں پکتی رہیں، یہ سلسلہ کئی دن چلتا رہا اور یوں محسوس ہونے لگا کہ یہ کارکن کسی سیاسی تحریک میں شامل نہیں، بلکہ پکنک منانے آئے ہیں، بلاشبہ ان تحریکوں میں بڑی تعداد میں کارکن اور عمران خان کے شیدائی شامل ہوتے رہے لیکن ان تحریکوں میں عوام کی شرکت نہ ہونے کے برابر ہی رہی اس لیے کہ نواز شریف سے نجات ہی عوام کا مسئلہ نہیں بلکہ عوام کا مسئلہ اس پورے نظام سے نجات ہے جو قدم قدم پر نواز شریف پیدا کرتا رہتا ہے۔