پورٹ قاسم پر کول جیٹی اورکنویئر بیلٹ کی تعمیرپرتحفظات برقرار

پی کیواے میں اجلاس، اسٹیک ہولڈرزکی آمادگی کے بغیرپروجیکٹ کی منظوری نہ دینے پراتفاق

نمائندوں نے مطالبہ کیا کہ ماحولیات کے تحفظ کیلیے سندھ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کی رہنما ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ فوٹو : فائل

پورٹ قاسم پر کوئلے کی جیٹی اور ریلوے ٹریک تک کوئلے کی ترسیل کے لیے خصوصی کنویئر بیلٹ کی تعمیر کے بارے میں پورٹ قاسم کے علاقے میں قائم صنعت کاروں اور سول سوسائٹی کے تحفظات دور نہ ہوسکے، پورٹ قاسم کی برتھ نمبر1 تا 4 کے ذریعے گزشتہ پندرہ بیس سال سے کوئلے کی ترسیل ماحولیاتی اثرات کے جائزے (ای آئی اے) کے بغیر کی جارہی ہے۔

کوئلے کی جیٹی کی تعمیر کے سلسلے میں جمعہ کو پورٹ قاسم اتھارٹی میں ہونے والے اجلاس میں اتفاق کیا گیاکہ بن قاسم ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (بقاٹی)، سول سوسائٹی اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی رضامندی کے بغیر پروجیکٹ کی حتمی منظوری نہیں دی جائیگی۔

پورٹ قاسم میں پاکستان انٹرنیشنل بلک ٹرمینل (پی آئی بی ٹی) بلک ٹرمینل سے ریلوے نیٹ ورک تک خصوصی کنویئر بیلٹ کی تنصیب کے سلسلے میں جمعہ کو پورٹ قاسم اتھارٹی کے چیئرمین کے زیرصدارت مشاورتی اجلاس میں مارجنل وہارف پر ساہیوال کے پاور پلانٹ کو کوئلے کی ترسیل کے لیے تعمیر ہونے والے ٹرمینل کی طرح کنویئر بیلٹ کی تنصیب پر بھی اختلافات برقرار رہے۔

اجلاس میں بقاٹی کے نمائندوں کے علاوہ پاکستان ریلویز، نیشنل انجینئرنگ سروسز پاکستان (نیسپاک)، این جی اوز کے نمائندوں اور پورٹ قاسم اتھارٹی کے ماحولیاتی کنسلنٹ جیمز کے نمائندوں نے شرکت کی تاہم حیرت انگیز طور پر پروجیکٹس سے سب سے زیادہ متاثر ہونیوالے اردگرد علاقوں کے رہائشی مکینوں کو بدستور نظر انداز کیا گیا اور مقامی رہائشیوں کا کوئی نمائندہ اس اجلاس میں بھی مدعو نہیں کیا گیا۔


اجلاس میں ''شہری'' کے نمائندوں نے پروجیکٹ کی وجہ سے ماحولیاتی بگاڑ پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جیٹیوں پر کوئلے کی راکھ کو ہوا میں شامل ہونے سے روکنے کے لیے یومیہ 30ہزار گیلن پانی درکار ہوگا تاحال پروجیکٹ کیلیے اتنی بڑی مقدار میں پانی کی فراہمی کا کوئی بندوبست نہیں کیا گیا، پانی کی اتنی بڑی مقدار کو ٹریٹ کیے بغیر سمندر میں بہائے جانے سے سمندری حیات کو شدید نقصان پہنچے گا۔

سول سوسائٹی کے نمائندوں نے پروجیکٹ کی تعمیر کی وجہ سے تیمر کے جنگلات کو پہنچنے والے نقصان پر بھی شدید تحفظات کا اظہارکیا اور کہاکہ منصوبے کی وجہ سے کٹنے والے 1تیمر کے پودے کی جگہ 6 نئے پودے لگانے کی شرط عائد کی گئی تھی تاہم اس شرط پر بھی عمل درآمد نہیں کیا جارہا جس سے سمندری ماحولیات کو خطرہ لاحق ہے۔

نمائندوں نے مطالبہ کیا کہ ماحولیات کے تحفظ کیلیے سندھ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کی رہنما ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور ان رہنما ہدایات کو ٹرمینل کی تعمیر کیلیے اتھارٹی کے ساتھ معاہدے کا حصہ بنایا جائے۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ برتھ نمبر 3 اور 4 سے متعلق تحفظات کے حوالے سے بھی کوئی پیشرفت نہیں ہوئی اس لیے سیپا کا تکنیکی اجلاس بلایاجائے۔

صنعتی نمائندوں نے مطالبہ کیا کہ پروجیکٹ کی حتمی منظوری سے قبل اسٹیک ہولڈرز سے مکمل مشاورت کو لازمی قراردیا جائے اور پورٹ ماسٹر پلان کی خلاف ورزی نہ ہونے دی جائے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ اجلاس 15نومبر کو ہوگااورسے قبل اسٹیک ہولڈرز اپنے ٹرم آف ریفرنس اور مشاہدات کا آپس میں تبادلہ کریں گے۔
Load Next Story