روزہ داروں کو تنگ کرنے والے

حکومت , ہمارے حکمران اور ہمارے افسران روزہ داروں کو آزمائش میں ڈال کر اپنے لیے پتہ نہیں کیا کما رہے ہیں

Abdulqhasan@hotmail.com

جن لوگوں نے کبھی روزہ رکھا ہے ان کو معلوم ہے کہ روزہ سب سے مشکل عبادت ہے۔ طویل وقت کے لیے کھانے پینے سے مکمل اجتناب اس حال میں کہ سال کے باقی کے گیارہ مہینے دن رات کھانے پینے کی کھلی چھٹی ہو یکایک پورے ایک مہینے کے لیے کھانے پینے پر پابندی اس کے علاوہ عبادات میں اضافہ اور عام معاملات میں اسلامی اخلاقیات کی پابندی اس طرح روزہ ایک مشکل عبادت ہی نہیں اللہ کی طرف سے ایک آزمائش بھی ہے اور امتحان بھی شاید اسی لیے فرمایا کہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا۔ اسلامی تاریخ اور مسلم معاشروں میں ہمیں ایک روایت ملتی ہے کہ رمضان میں ہر ممکن نیکی کی جاتی ہے اور خلق خدا کی خدمت اس مہینے کا خاص انعام ہے۔ زکوٰۃ اور خیرات و صدقات کے لیے اگرچہ کوئی دن اور مہینہ مخصوص نہیں مثلاً سال جب بھی مکمل ہو اسی وقت اسی مہینے زکوٰۃ لازم ہو گئی

لیکن یہ رمضان کا مہینہ بہر حال پورے سال میں ایک برتر اور مبارک مہینہ ہے۔ اسلام اللہ کی ذات سے تعلق کا نام ہے اور رمضان کا مہینہ اس تعلق کو تازہ کرتا ہے اسے مضبوط بناتا ہے اور انسان کو خدا تعالیٰ کے قریب کر دیتا ہے۔ اس مہینے کی فضیلت اور برکات بے حساب ہیں اور اگر کوئی اس مہینے میں نیکی کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے اور روزہ دار مسلمانوں کے لیے آسانیوں کے بجائے مشکلات پیدا کرتا ہے تو اس کی بدقسمتی پر کیا کہا جا سکتا ہے ان دنوں ہماری حکومت ہمارے حکمران اور ہمارے افسران روزہ داروں کو آزمائش میں ڈال کر اپنے لیے پتہ نہیں کیا کما رہے ہیں۔

بہر حال یہ نیکی نہیں ہے بدی ہے اور بدی کا لفظ بھی اس کے لیے بہت معمولی ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کیا پیپلز پارٹی کے حکمرانوں کو خوف خدا قطعاً نہیں ہے۔ ان کی حکومت میں آمد پر ہماری ریلوے ختم ہو گئی 'بجلی ختم ہو گئی اسٹیل ملز ختم ہو گئی پی آئی اے کا دم لبوں پر ہے سوائے حکمرانوں کے باقی کیا بچا ہے معلوم نہیں۔ آپ اپنے گردوپیش میں دیکھ لیں اگر کچھ دکھائی دے تو ہمیں بھی بتائیے گا۔ اس وقت تو حکمرانوں کی سنگدلی یہ ہے کہ پوری قوم کو آزمائش اور امتحان میں ڈال دیا ہے۔ یہ واقعہ ہے کہ پانی تک پوری طرح دستیاب نہیں ہے روشنی کے لیے بجلی نہیں ہے حبس اور گرمی نے نڈھال کر دیا ہے۔ معاشی بدحالی اور مفلسی کی شکار یہ قوم کب تک یہ سختی برداشت کرے گی یہ ہم سب اپنا حال دیکھ کر جان سکتے ہیں۔ کیا ہماری حکومت کسی ایسے وقت کا انتظار کر رہی ہے جب خلق خدا بے چین اور بے صبر ہو کر باہر نکل آئے اور پھر چل سو چل۔

بجلی کی قلت بلکہ بڑی حد تک نایابی کی حد تک ایک نہایت ہی دلچسپ خبر چھپی ہے جس نے ایک بار تو بجلی کی قلت کے عذاب کو بھلا دیا ہے۔ خبر کی سرخی یہ ہے کہ وزیراعظم جناب پرویز اشرف کا طویل لوڈشیڈنگ پر اظہار ناراضگی کہ کم از کم لوڈشیڈنگ کے پروگرام کو یقینی بنایا جائے۔ راجہ صاحب کی خصوصی ہدایت۔ اس دلچسپ خبر کی تفصیلات میں بھی یہی بات ہے اصل تعجب اور حیرت اس بات پر ہے کہ کل تک کے ہمارے وزیر بجلی اور آج کے وزیراعظم لوڈشیڈنگ پر ناراض ہو رہے ہیں اور تعجب کر رہے ہیں کہ 14 ہزار میگاواٹ تک بجلی کی پیداوار ہونے کے باوجود طویل دورانیہ کی لوڈشیڈنگ کیوں ہے اس پر وہ شدید ناراض ہیں۔ ان کی معلومات چونکہ سب سے زیادہ ہیں اس لیے ان کی برہمی بجا ہے۔


جب سے میڈیا نے اپنے ان پڑھ عوام کو پڑھا لکھا بنا دیا ہے تب سے ان میں اتنی عقل ضرور آ گئی ہے کہ وہ ایسی خبروں پر اگر اعتبار کریں بھی تو تفریح طبع کے ساتھ۔ آج بجلی کی جو حالت ہے اس میں ہمارے وزیراعظم کا بنیادی کردار ہے اور لوگ کہتے ہیں کہ بڑے حکمرانوں کو یہ کردار اتنا عزیز تھا کہ اس کے انعام میں انھیں وزیراعظم بنا دیا گیا ہے۔ اندیشہ ہے کہ وہ اس انعام و اکرام کے بعد بجلی کی طرح کا کوئی اور کارنامہ نہ سر انجام دے دیں جس سے عوام کی ہمت اور حوصلے کی رہی سہی کسر بھی نہ نکل جائے۔ وزیراعظم کا حوصلہ بلند ہو چکا ہے اور وہ کوئی بڑا کارنامہ سر انجام دے سکتے ہیں کیونکہ اب وہ کسی ایک شعبے کے نہیں پورے ملک کے تمام شعبوں کے وزیر ہیں جس شعبے پر چاہیں ہاتھ ڈال سکتے ہیں۔ 'بنا ہے عیش تجمل حسین خاں کے لیے'۔

میں یہ سب عرض کر کے آپ کو ڈرا نہیں رہا بلکہ اپنے آپ کو تسلی دے رہا ہوں کہ اگر کوئی آفت نازل ہو تو آپ گھبرائیں نہیں اللہ مالک ہے صبر کریں اب جب ایسے حکمران آ ہی گئے ہیں تو ان کو برداشت کرنے کا حوصلہ بھی کریں۔ ہمارے خاموش گائوں میں رات کے وقت سفر بہت ڈرائونا ہوتا ہے اگر کسی قبرستان کے قریب سے گزرنا ہو تو اس کے ڈر کا ایک آزمودہ علاج اونچی آواز میں بولنا ہوتا ہے۔ اس طرح آدمی اپنے آپ کو اکیلا نہیں سمجھتا آپ پر اگر حکمرانوں کی طرف سے کوئی ڈرائونا وقت آ جائے تو آپ اونچا بولنا شروع کر دیں اس طرح آپ اپنے آپ کو تنہا نہیں سمجھیں گے اور سرکاری ڈر کچھ کم ہو جائے گا ورنہ تو ڈر اور خوف کے مارے آپ جیتے جی مر جائیں گے۔ اب جب ہم اپنی مرضی سے یہ حکمران لائے ہیں تو صبر بھی کریں ع

جب عشق کیا ہے تو صبر بھی کر
اس میں تو یہی کچھ ہوتا ہے

لوگوں نے بہت تنگ کیا تو میں نے شاہ صاحب سے پوچھ لیا ان کا جواب تھا کہ وہ جو فارسی کا محاورہ ہے اسے یاد کریں کہ ایں ہمہ آوردہ تست۔ یہ سب آپ کا اپنا لایا ہوا ہے کیا ہوا ہے اسے بھگتیں اور بہادر قومیں ایسی آفات کا ہمت کے ساتھ سامنا کرتی ہیں۔ ان کے سامنے ڈٹ جاتی ہیں اگر الیکشن ہو گئے تو صورت حال بدل سکتی ہے اگر نہ ہوئے تو جو نئی صورت حال اس کی جگہ پیدا ہو گی تب دیکھیں گے کہ کیا کرنا ہے۔ بات ختم کرنے سے پہلے میں اپنے ایک خوف کا اظہار کرنا چاہتا ہوں اور اپنے قارئین میں سے دانشمند لوگوں سے حوصلہ مانگتا ہوں کہ اس وقت ہماری سیاسی زندگی میں جو کردار سرگرم ہیں وہ بظاہر سب آپس میں ملے ہوئے ہیں۔

وہ بالآخر سمجھوتہ کر لیں گے اور ہم سب ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہ جائیں گے کیونکہ ان سب کا بڑا اور زور آور دوست مشترک ہے اور اس نے اعلان کیا ہے کہ یہ سب ہمارے دوست ہیں اور امریکہ پسند لوگ ہیں۔ مجھے ان میں سے کوئی بھی نافرمان اور گستاخ دکھائی نہیں دیتا اور جو کوئی ایسا ہے اسے ہم پاکستانی پوچھتے نہیں ہیں کیونکہ وہ سیاسی حربے استعمال نہیں کرتا مولوی ہے اور ہم اسلامیہ جمہوریہ پاکستان والوں کو مولوی پسند نہیں۔ وہ منصورہ میں ہی بند رہیں تو بہتر ہے۔ باہر نکلیں گے تو خطرہ بنیں گے۔
Load Next Story