بھارتی ڈیموں کے خلاف پاکستان کی اصولی فتح
سندھ طاس معاہدہ کی مسلسل خلاف ورزیوں کے خلاف پاکستان کی شکایت پر عالمی بینک نے ثالثی عدالت کی تجویز مان لی
۔ فوٹو: فائل
عالمی بینک نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے دو متنازعہ ڈیمز کی تعمیر کے خلاف پاکستان کی ثالثی عدالت کے قیام کی درخواست قبول کر لی ہے جس پر بھارتی حکومت سیخ پا ہو گئی ہے جب کہ سندھ طاس معاہدہ کے قریبی ذرایع نے اس بریک تھرو کا خیر مقدم کیا ہے اور اسے پاکستان کی اصولی فتح قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ سندھ طاس معاہدہ کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے کہ سندھ طاس معاہدہ کی مسلسل خلاف ورزیوں کے خلاف پاکستان کی شکایت پر عالمی بینک نے ثالثی عدالت کی تجویز مان لی تاہم بھارت نے اپنی عادت سے مجبور ہوتے ہوئے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے، بھارت کا اصرار ہے کہ عالمی بینک ایسا کرنے کا مجاز نہیں، بھارت کے امور خارجہ کے ترجمان وکاس سواروپ نے بھارتی میڈیا کے حوالہ سے کہا ہے کہ بھارت ایسی کسی عالمی ثالثی میں فریق نہیں بنے گا۔
اب لگتا ہے بھارت وہی کریگا جو اب تک اپنی آبی جارحیت اور ٹال مٹول کی پالیسی کے تحت کرتا آ رہا ہے، بھارتی ترجمان غالباً ہیگ کی مستقل ثالثی عدالت کے 2013ء کے فیصلہ سے واقف نہیں جس میں عالمی بینک کو غیر جانبدار ایکسپرٹ کی تعیناتی کے بجائے براہ راست ثالثی عدالت کے قیام کا مجاز قرار دیا گیا ہے، بھارت نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ نئے آپشن تلاش کر کے اس کی روشنی میں اقدامات کرے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ بھارت ڈیمز کی غیر قانونی تعمیر کے خلاف پاکستان کے اعتراضات سے دانستہ صرف نظر کرتا رہا ہے لیکن گزشتہ ماہ اس کی ایک نہ چلی کیونکہ عالمی بینک نے پاکستان کی درخواست پر رضامندی ظاہر کر دی اور کہا کہ ثالثی عدالت کے ذریعے ان پروجیکٹس پر فیصلہ دیا جائے گا، یہ خوش آئند بات ہے کہ پاکستان کے افسران کا عالمی بینک حکام سے رابطہ نتیجہ خیز ثابت ہوا جس میں ورلڈ بینک کے واشنگٹن میں سہ رکنی امپائر کی تعیناتی اور ایک غیر جانبدار ماہر کی تقرری کی تجویز پر اجلاس میں غور کیا گیا۔
حقائق کے مطابق بھارت اور پاکستان دونوں اپنے آبی امور یا تنازعات کے تناظر میں عالمی فورم پر مفاہمت اور ثالثی کا آپشن استعمال کر سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بھارت ڈیموں کی یک طرفہ تعمیر کو درست سمجھتا ہے تو ثالثی سے گریزاں کیوں ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ ان ڈیمز کی تعمیر کے ڈیزائن اور دیگر معاملات میں معاہدہ کی شقوں کی سنگین خلاف ورزیوں میں مصروف ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ 1960ء میں ہوا تھا، جس کے تحت بھارت پاکستان جانے والے دریاؤں کا صرف 20 فی صد پانی استعمال کرنے کا مجاز ہے۔
تاہم بھارت پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرات کے سامان پیدا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا، آبی دہشتگردی اس کا پرانا خواب ہے۔ ادھر پاکستانی سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے اقوام متحدہ کے مستقل ارکان چین، فرانس، روس، برطانیہ اور امریکا کے سفیروں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی جارحیت سے خطے کے امن کو سنگین خطرہ ہے۔
ادھر بھارت سویلین نیوکلیئر معاہدوں کے جنون میں اندھا ہوا جا رہا ہے، گزشتہ روز جاپان اور بھارت کے مابین سول جوہری معاہدہ ہوا جس کے خلاف چین اور دیگر عدم پھیلاؤ کی حامل تنظیموں نے شدید احتجاج اور تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ خبروں کے مطابق پاکستان گزشتہ ایک سال چناب اور جہلم دریا پر بھارت کی طرف سے850 میگا واٹ کے حامل رٹلے پاور پروجیکٹ اور کشن گنگا ہائیڈرو پروجیکٹ330 میگا واٹ منصوبوں پر اپنے تحفظات سے آگاہ کرنے کے لیے عالمی فورم پر مسئلہ کو اجاگر کرنے کا تہیہ کر چکا تھا، خیال رہے سندھ طاس میں واقع دریائی نظام، دریائے سندھ اور اس کے پانچ ذیلی دریاؤں جہلم، بیاس، چناب، ستلج اور راوی پر مشتمل رہا ہے۔
یہ تمام دریا پاکستان میں مٹھن کوٹ کے مقام پر دریائے سندھ سے مل جاتے ہیں جس کے بعد کراچی کے جنوب میں واقع بحر ہند میں جا گرتے ہیں۔ سندھ طاس کا کل رقبہ لگ بھگ 365,000 مربع میل پر مشتمل ہے جو زیادہ تر پاکستان میں شامل ہے۔ جب کہ اس کا بقیہ معمولی حصہ مقبوضہ کشمیر، بھارت، چین، اور افغانستان تک پھیلا ہوا ہے۔ سندھ طاس معاہدہ اگرچہ ابتدا ہی سے بحث و نزاع کی زد میں رہا ہے تاہم یہ معاہدہ تقریباً نصف صدی سے نافذالعمل ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان ابتدا ہی سے الزامات اور تنازعات و قانونی کارروائی سمیت سندھ طاس معاہدہ کا برقرار رہنا، اور اس پر کسی حد تک عمل درآمد ہونا اس معاہدے کے کارآمد ہونے کا واشگاف اعلان ہے۔ تاہم بھارت برسوں سے پاکستان کو غذائی اور خوراک کی سلامتی اور پیداوار سے محروم کرنے کے لیے آبی جارحیت کی سازشوں میں مصروف ہے۔
گزشتہ دنوں مقبوضہ کشمیر کی شورش زدہ اور دردناک صورتحال میں بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سواروپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر اسلام آباد نے اپنی سرزمین سے دہشتگردی کا خاتمہ نہ کیا تو سندھ طاس معاہدہ ختم کیا جا سکتا ہے۔وزیراعظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے بھارتی آبی جارحیت کی دھمکی کو اقدام جنگ تصور کیا تھا۔ چین نے بھی پاکستان کو بھارتی آبی جارحیت کے خلاف مکمل مدد کی یقین دلایا تھا۔ لازم ہے کہ ارسا کے محب وطن حکام بھارتی آبی دہشتگردی سے ہمہ وقت ہوشیار رہیں۔
واضح رہے کہ سندھ طاس معاہدہ کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے کہ سندھ طاس معاہدہ کی مسلسل خلاف ورزیوں کے خلاف پاکستان کی شکایت پر عالمی بینک نے ثالثی عدالت کی تجویز مان لی تاہم بھارت نے اپنی عادت سے مجبور ہوتے ہوئے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے، بھارت کا اصرار ہے کہ عالمی بینک ایسا کرنے کا مجاز نہیں، بھارت کے امور خارجہ کے ترجمان وکاس سواروپ نے بھارتی میڈیا کے حوالہ سے کہا ہے کہ بھارت ایسی کسی عالمی ثالثی میں فریق نہیں بنے گا۔
اب لگتا ہے بھارت وہی کریگا جو اب تک اپنی آبی جارحیت اور ٹال مٹول کی پالیسی کے تحت کرتا آ رہا ہے، بھارتی ترجمان غالباً ہیگ کی مستقل ثالثی عدالت کے 2013ء کے فیصلہ سے واقف نہیں جس میں عالمی بینک کو غیر جانبدار ایکسپرٹ کی تعیناتی کے بجائے براہ راست ثالثی عدالت کے قیام کا مجاز قرار دیا گیا ہے، بھارت نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ نئے آپشن تلاش کر کے اس کی روشنی میں اقدامات کرے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ بھارت ڈیمز کی غیر قانونی تعمیر کے خلاف پاکستان کے اعتراضات سے دانستہ صرف نظر کرتا رہا ہے لیکن گزشتہ ماہ اس کی ایک نہ چلی کیونکہ عالمی بینک نے پاکستان کی درخواست پر رضامندی ظاہر کر دی اور کہا کہ ثالثی عدالت کے ذریعے ان پروجیکٹس پر فیصلہ دیا جائے گا، یہ خوش آئند بات ہے کہ پاکستان کے افسران کا عالمی بینک حکام سے رابطہ نتیجہ خیز ثابت ہوا جس میں ورلڈ بینک کے واشنگٹن میں سہ رکنی امپائر کی تعیناتی اور ایک غیر جانبدار ماہر کی تقرری کی تجویز پر اجلاس میں غور کیا گیا۔
حقائق کے مطابق بھارت اور پاکستان دونوں اپنے آبی امور یا تنازعات کے تناظر میں عالمی فورم پر مفاہمت اور ثالثی کا آپشن استعمال کر سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بھارت ڈیموں کی یک طرفہ تعمیر کو درست سمجھتا ہے تو ثالثی سے گریزاں کیوں ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ ان ڈیمز کی تعمیر کے ڈیزائن اور دیگر معاملات میں معاہدہ کی شقوں کی سنگین خلاف ورزیوں میں مصروف ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ 1960ء میں ہوا تھا، جس کے تحت بھارت پاکستان جانے والے دریاؤں کا صرف 20 فی صد پانی استعمال کرنے کا مجاز ہے۔
تاہم بھارت پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرات کے سامان پیدا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا، آبی دہشتگردی اس کا پرانا خواب ہے۔ ادھر پاکستانی سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے اقوام متحدہ کے مستقل ارکان چین، فرانس، روس، برطانیہ اور امریکا کے سفیروں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی جارحیت سے خطے کے امن کو سنگین خطرہ ہے۔
ادھر بھارت سویلین نیوکلیئر معاہدوں کے جنون میں اندھا ہوا جا رہا ہے، گزشتہ روز جاپان اور بھارت کے مابین سول جوہری معاہدہ ہوا جس کے خلاف چین اور دیگر عدم پھیلاؤ کی حامل تنظیموں نے شدید احتجاج اور تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ خبروں کے مطابق پاکستان گزشتہ ایک سال چناب اور جہلم دریا پر بھارت کی طرف سے850 میگا واٹ کے حامل رٹلے پاور پروجیکٹ اور کشن گنگا ہائیڈرو پروجیکٹ330 میگا واٹ منصوبوں پر اپنے تحفظات سے آگاہ کرنے کے لیے عالمی فورم پر مسئلہ کو اجاگر کرنے کا تہیہ کر چکا تھا، خیال رہے سندھ طاس میں واقع دریائی نظام، دریائے سندھ اور اس کے پانچ ذیلی دریاؤں جہلم، بیاس، چناب، ستلج اور راوی پر مشتمل رہا ہے۔
یہ تمام دریا پاکستان میں مٹھن کوٹ کے مقام پر دریائے سندھ سے مل جاتے ہیں جس کے بعد کراچی کے جنوب میں واقع بحر ہند میں جا گرتے ہیں۔ سندھ طاس کا کل رقبہ لگ بھگ 365,000 مربع میل پر مشتمل ہے جو زیادہ تر پاکستان میں شامل ہے۔ جب کہ اس کا بقیہ معمولی حصہ مقبوضہ کشمیر، بھارت، چین، اور افغانستان تک پھیلا ہوا ہے۔ سندھ طاس معاہدہ اگرچہ ابتدا ہی سے بحث و نزاع کی زد میں رہا ہے تاہم یہ معاہدہ تقریباً نصف صدی سے نافذالعمل ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان ابتدا ہی سے الزامات اور تنازعات و قانونی کارروائی سمیت سندھ طاس معاہدہ کا برقرار رہنا، اور اس پر کسی حد تک عمل درآمد ہونا اس معاہدے کے کارآمد ہونے کا واشگاف اعلان ہے۔ تاہم بھارت برسوں سے پاکستان کو غذائی اور خوراک کی سلامتی اور پیداوار سے محروم کرنے کے لیے آبی جارحیت کی سازشوں میں مصروف ہے۔
گزشتہ دنوں مقبوضہ کشمیر کی شورش زدہ اور دردناک صورتحال میں بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سواروپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر اسلام آباد نے اپنی سرزمین سے دہشتگردی کا خاتمہ نہ کیا تو سندھ طاس معاہدہ ختم کیا جا سکتا ہے۔وزیراعظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے بھارتی آبی جارحیت کی دھمکی کو اقدام جنگ تصور کیا تھا۔ چین نے بھی پاکستان کو بھارتی آبی جارحیت کے خلاف مکمل مدد کی یقین دلایا تھا۔ لازم ہے کہ ارسا کے محب وطن حکام بھارتی آبی دہشتگردی سے ہمہ وقت ہوشیار رہیں۔