سانحہ گڈانی جاں بحق افراد کی تعداد میں ابہام
اس حادثے میں انسانی غلطیاں اور کوتاہیاں اور انتظامیہ کی لاپرواہی شامل ہے
فوٹو، : اے ایف پی
گڈانی میں شپ بریکنگ یارڈ پر جلنے والے بحری جہاز میں جاں بحق ہونے والے مزدوروں کی تعداد میں اب تک ابہام پایا جاتا ہے اور مختلف حوالوں سے یہ تعداد الگ بتائی جا رہی ہے۔
سرکاری طور پر سانحہ گڈانی میں 26 ہلاکتوں کی اطلاع تھی لیکن خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ ہلاکتیں اس سے کہیں زیادہ ہیں، کیونکہ بے شمار افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ تعداد بڑھنے کے اس خدشے کے پیچھے یہ اطلاع بھی کارفرما ہے کہ اتنے بڑے بحری جہاز کو توڑنے کے لیے 400 سے 600 مزدور درکارہوتے ہیں لیکن ستم ظریفی دیکھئے کہ بڑا ٹھیکیدار جو اصل تعداد بتا سکتا تھا وہ بھی حادثے میں جاں بحق ہو چکا ہے۔
گڈانی کے ہولناک سانحے کے اسرار سے پردہ اٹھانے کی کوششیں جاری ہیں لیکن سرکاری ذرایع سے ہلاک ہونے والوں اور لاپتہ افراد کے مختلف اعداد و شمار دینے سے پتہ چلتا ہے کہ حکام اس سانحے پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، حکام کی یہ کوشش ''حادثے سے بڑا سانحہ'' ہے۔
ناگہانی موت ایک فرد کی ہو یا 250 افراد اس حادثے کا شکار ہوئے ہوں، اس امر پر پردہ نہیں ڈالا جا سکتا کہ بہرحال اس حادثے میں انسانی غلطیاں اور کوتاہیاں اور انتظامیہ کی لاپرواہی شامل ہے۔ پاکستان میں مزدور طبقے کی جان کس قدر ارزاں ہے یہ بلدیہ فیکٹری کے حادثے میں 259 سوختہ لاشیں پہلے ہی عیاں کر چکی ہیں۔ جب تک مزدوروں کو انسان نہیں سمجھاجائے گا اس طرح کے حادثات جنم لیتے رہیں گے۔
سرکاری طور پر سانحہ گڈانی میں 26 ہلاکتوں کی اطلاع تھی لیکن خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ ہلاکتیں اس سے کہیں زیادہ ہیں، کیونکہ بے شمار افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ تعداد بڑھنے کے اس خدشے کے پیچھے یہ اطلاع بھی کارفرما ہے کہ اتنے بڑے بحری جہاز کو توڑنے کے لیے 400 سے 600 مزدور درکارہوتے ہیں لیکن ستم ظریفی دیکھئے کہ بڑا ٹھیکیدار جو اصل تعداد بتا سکتا تھا وہ بھی حادثے میں جاں بحق ہو چکا ہے۔
گڈانی کے ہولناک سانحے کے اسرار سے پردہ اٹھانے کی کوششیں جاری ہیں لیکن سرکاری ذرایع سے ہلاک ہونے والوں اور لاپتہ افراد کے مختلف اعداد و شمار دینے سے پتہ چلتا ہے کہ حکام اس سانحے پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، حکام کی یہ کوشش ''حادثے سے بڑا سانحہ'' ہے۔
ناگہانی موت ایک فرد کی ہو یا 250 افراد اس حادثے کا شکار ہوئے ہوں، اس امر پر پردہ نہیں ڈالا جا سکتا کہ بہرحال اس حادثے میں انسانی غلطیاں اور کوتاہیاں اور انتظامیہ کی لاپرواہی شامل ہے۔ پاکستان میں مزدور طبقے کی جان کس قدر ارزاں ہے یہ بلدیہ فیکٹری کے حادثے میں 259 سوختہ لاشیں پہلے ہی عیاں کر چکی ہیں۔ جب تک مزدوروں کو انسان نہیں سمجھاجائے گا اس طرح کے حادثات جنم لیتے رہیں گے۔