بگرام ایئربیس پر طالبان کا وار
طالبان نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ افغانستان میں اب بھی ایک موثر قوت ہیں
۔ فوٹو: فائل
افغانستان کے دارالحکومت کابل کے شمال میں واقع نیٹو کے بگرام ایئربیس میں ایک طالبان نے مزدور کے بھیس میں خودکش دھماکا کردیا جس میں4 امریکی ہلاک جب کہ 16 امریکی اور پولش فوجی زخمی ہوگئے۔
امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر نے کہا ہے کہ خودکش حملے میں 2 امریکی فوجی اور 2 کنٹریکٹر ہلاک ہوئے ہیں۔ نیٹو کی جانب سے جاری ہونے والے مختصر بیان میں کہا گیا کہ دھماکا صبح ساڑھے 5بجے کے قریب ہوا جس میں چار امریکی ہلاک ہوگئے ہیں ۔افغانستان کے صوبہ پروان کے گورنر کے ترجمان وحید صدیقی نے میڈیا کو بتایا کہ ایک خودکش حملہ آور نے خود کو ایئربیس کے کھانے کے مقام کے قریب دھماکے سے اڑایا۔
انھوں نے بتایا کہ حملہ آور اس علاقے میں کام کرنے والا ایک افغان مزدور تھا۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حملے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پروان صوبے میں کیے گئے اس حملے میں 23 امریکی فوج ہلاک اور 44 زخمی ہوئے ہیں۔ طالبان کا دعویٰ درست ہے یا غلط ہے ، اس میں پڑے بغیر یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس حملے سے طالبان نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ افغانستان میں اب بھی ایک موثر قوت ہیں اور نیٹو فوج کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اب جب کہ امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ صدارتی الیکشن جیت چکے ہیں' یہ حملہ دراصل انھیں بھی ایک پیغام ہے۔ اب دیکھنا یہ ہو گا کہ امریکا کے نئے صدر افغانستان کے بارے میں کیا پالیسی اختیار کرتے ہیں۔ بات دراصل یہ ہے کہ جب تک افغانستان کی حکومت اور امریکا افغانستان کے معامالت میں زمینی حقائق کو تسلیم نہیں کرتے' افغانستان میں امن قائم نہیں ہو سکتا' پچھلے دنوں یہ خبر منظرعام پر آئی تھی کہ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان خفیہ مذاکرات ہوئے ہیں' امریکا بھی خفیہ طور پر طالبان کے ساتھ رابطے میں ہے۔
اصل معاملہ یہ ہے کہ امریکا افغانستان میں بھارت اور افغانستان کی حکومت کو زیادہ اہم کردار میں دیکھنا چاہتا ہے جب کہ افغان طالبان اقتدار میں زیادہ حصہ طلب کرتے ہیں کیونکہ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ افغانستان کی سب سے بڑی قوت ہیں' جب تک امریکا حقیقت تسلیم نہیں کرتا' افغانستان میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ امریکا افغانستان میں امن کی باتیں تو کرتا ہے لیکن وہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے کہ طالبان افغانستان کی اہم جنگجو قوت ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ امریکا اور نیٹو فورسز اپنے تمام تر قوت اور وسائل کے باوجود طالبان کو مکمل طور پر شکست نہیں دے سکی۔
بگرام بیس پر ہونے والا حملہ اس کا ثبوت ہے۔ بگرام بیس ایک انتہائی حساس علاقہ ہے' یہاں حملہ کرنا کوئی آسان بات نہیں' طالبان نے یہاں حملہ کر کے اپنے نیٹ ورک کی فعالیت کا ثبوت فراہم کیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ امریکا کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان کے امور کو حل کرنے کے لیے زمینی حقائق تسلیم کریں۔ افغانستان میں امن کے لیے طالبان کو اقتدار میں اتنا حصہ ضرور ملنا چاہیے جتنی قوت کے وہ حامل ہیں۔
امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر نے کہا ہے کہ خودکش حملے میں 2 امریکی فوجی اور 2 کنٹریکٹر ہلاک ہوئے ہیں۔ نیٹو کی جانب سے جاری ہونے والے مختصر بیان میں کہا گیا کہ دھماکا صبح ساڑھے 5بجے کے قریب ہوا جس میں چار امریکی ہلاک ہوگئے ہیں ۔افغانستان کے صوبہ پروان کے گورنر کے ترجمان وحید صدیقی نے میڈیا کو بتایا کہ ایک خودکش حملہ آور نے خود کو ایئربیس کے کھانے کے مقام کے قریب دھماکے سے اڑایا۔
انھوں نے بتایا کہ حملہ آور اس علاقے میں کام کرنے والا ایک افغان مزدور تھا۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حملے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پروان صوبے میں کیے گئے اس حملے میں 23 امریکی فوج ہلاک اور 44 زخمی ہوئے ہیں۔ طالبان کا دعویٰ درست ہے یا غلط ہے ، اس میں پڑے بغیر یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس حملے سے طالبان نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ افغانستان میں اب بھی ایک موثر قوت ہیں اور نیٹو فوج کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اب جب کہ امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ صدارتی الیکشن جیت چکے ہیں' یہ حملہ دراصل انھیں بھی ایک پیغام ہے۔ اب دیکھنا یہ ہو گا کہ امریکا کے نئے صدر افغانستان کے بارے میں کیا پالیسی اختیار کرتے ہیں۔ بات دراصل یہ ہے کہ جب تک افغانستان کی حکومت اور امریکا افغانستان کے معامالت میں زمینی حقائق کو تسلیم نہیں کرتے' افغانستان میں امن قائم نہیں ہو سکتا' پچھلے دنوں یہ خبر منظرعام پر آئی تھی کہ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان خفیہ مذاکرات ہوئے ہیں' امریکا بھی خفیہ طور پر طالبان کے ساتھ رابطے میں ہے۔
اصل معاملہ یہ ہے کہ امریکا افغانستان میں بھارت اور افغانستان کی حکومت کو زیادہ اہم کردار میں دیکھنا چاہتا ہے جب کہ افغان طالبان اقتدار میں زیادہ حصہ طلب کرتے ہیں کیونکہ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ افغانستان کی سب سے بڑی قوت ہیں' جب تک امریکا حقیقت تسلیم نہیں کرتا' افغانستان میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ امریکا افغانستان میں امن کی باتیں تو کرتا ہے لیکن وہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے کہ طالبان افغانستان کی اہم جنگجو قوت ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ امریکا اور نیٹو فورسز اپنے تمام تر قوت اور وسائل کے باوجود طالبان کو مکمل طور پر شکست نہیں دے سکی۔
بگرام بیس پر ہونے والا حملہ اس کا ثبوت ہے۔ بگرام بیس ایک انتہائی حساس علاقہ ہے' یہاں حملہ کرنا کوئی آسان بات نہیں' طالبان نے یہاں حملہ کر کے اپنے نیٹ ورک کی فعالیت کا ثبوت فراہم کیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ امریکا کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان کے امور کو حل کرنے کے لیے زمینی حقائق تسلیم کریں۔ افغانستان میں امن کے لیے طالبان کو اقتدار میں اتنا حصہ ضرور ملنا چاہیے جتنی قوت کے وہ حامل ہیں۔