سی پیک کے تحت پہلا بریک تھرو
بھارت بلوچستان میں مداخلت کے راستے سی پیک کے خلاف اپنے خبث باطن کا اظہار کئی بار کرچکا ہے
فوٹو: فائل
پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ (سی پیک) کے تحت گوادر سے پہلے تجارتی قافلہ کی عالمی منڈیوں کے لیے روانگی سے بلاشبہ ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔ وزیراعظم محمد نواز شریف نے اتوار کو گوادر میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک کے دشمن پاکستان کے دشمن ہیں۔ وزیراعظم نے اس تاریخی موقع پر کہا کہ پاکستان اہم تجارتی مرکز بن جائے گا۔
قافلہ کو وزیراعظم اور بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے الوداع کیا ۔ تقریب میں جنرل راحیل شریف نے وزیراعظم کو سووینئر پیش کیا ، وزیراعلیٰ بلوچستان میر ثنا اللہ زہری اور چینی سفیر نے خطاب کیا، ملکی سفیروں ، سیاسی و عسکری شخصیات سمیت وفاقی اور صوبائی اعلیٰ حکام نے شرکت کی ، سیکیورٹی کے موثر انتظام کیے گئے ۔ اس حقیقت سے شاید کوئی انکار کرسکے کہ سی پیک کے بارے میں بعض عناصر کی سیاسی مخالفت بد قسمتی ہے جب کہ بھارت بلوچستان میں مداخلت کے راستے سی پیک کے خلاف اپنے خبث باطن کا اظہار کئی بار کرچکا ہے۔
بعض غیر ملکی قوتیں بھی اس کی ہمنوا ہیں اور پاک چین دوستی کے خلاف مذموم عزائم رکھتی ہیں اس لیے وقت کا تقاضہ ہے کہ سی پیک کی تکمیل کے لیے جہاں سیاسی و عسکری قیادت نے چین کے ساتھ مل کر ایک عظیم معاشی فیصلہ کیا ہے اس کی روشنی میں تمام سیاسی شراکت دار اور اپوزیشن جماعتیں بطور خاص پاک چین اقتصادی راہداری کے تمام مراحل کی کامیابی کے ساتھ تکمیل میں ایک پیج پر رہیں۔
ملکی معیشت کے استحکام اور قومی معاشی اہداف کے حصول کی سمت عظیم پڑوسی ملک چین کے مشترکہ تعاون اور لازوال دوستی کی بنیاد پر منصوبہ کی تکمیل کے لیے مفاہمانہ سیاسی خیر سگالی اور فراخدلی کی ضرورت ہے، سی پیک کو متنازع بنانے کی کوشش ملکی مفاد میں نہیں، یہ خوش آئند بات ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویزخٹک نے مفاہمانہ طرز عمل اختیار کیا ہے۔ قوم کے پختہ عزم ، سیاسی و عسکری قیادت کی قابل تحسین ہم آہنگی ، چینی ماہرین اور ایف ڈبلیو او کے بے مثال تعمیراتی کاموں کی وقت مقررہ سے قبل تکمیل کے باعث تجارتی قافلہ اپنی طے شدہ منزلوں کی طرف روانہ ہوا ، یہ پاک چین دوستی کا ایک سنگ میل ہے۔
ملکی ترقی، عوام کی خوشحالی اور ملکی سالمیت کے فیصلے سیاسی کشیدگی سے ہمیشہ بالاتر رکھنے جانے چاہییں، خدا کا شکر ہے کہ سی پیک بریک تھرو سے نکتہ چینی کی گرد تھم گئی جب کہ سی پیک کی کامیابی کے اس پہلے پائلٹ پروجیکٹ سے سی پیک کو تقویت ملے گی جس کی کامیابی سے عوام اور سیاسی حلقوں کو مطمئن کردیا۔ سی پیک واقعی پورے پاکستان کا منصوبہ بنتا دکھائی دے رہا ہے جس کے ثمرات سے چاروں صوبے اور اہل وطن مستفید ہوں گے ، بلوچستان حکومت کا یہ کریڈٹ ہے اس نے گوادر پورٹ کے خلاف عالمی سازشوں کے جواب میں ثابت قدمی کے ساتھ وفاق، ایف ڈبلیو او ، سیاسی جماعتوں اور چینی کمپنیوں سے اپنی کمٹمنٹ نبھائی ، وزیر اعلیٰ میر ثنا اللہ زہری کی اس موقع پر تقریر کو پزیرائی حاصل ہوئی ۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی سطح پر سی پیک سے متعلق ہم خیالی، سیاسی و اقتصادی یک جہتی اور کشادہ نظری سے ملکی حقائق کا جائزہ لیا جائے۔ سی پیک سے ہزاروں محنت کشوں کو روزگار ملے گا ۔ پاک چین اقتصادی راہداری معاہدہ پورے پاکستان کے لیے گہری معنویت ، افادیت اور معاشی اہمیت کا حامل ہے۔ اہل وطن کو مبارک ہوکہ بلوچستان کے شورش زدہ صوبہ میں پاکستان کے ایک گیم چینجر منصوبہ کا ابتدائی قدم قوم کے لیے خوشیوں بھرا پیغام لایا ہے لہذا امید کی جانی چاہیے کہ سی پیک جیسے دوسرے اہم منصوبے بھی اسی سرعت اورجوش و جذبہ سے مکمل ہونگے۔
قافلہ کو وزیراعظم اور بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے الوداع کیا ۔ تقریب میں جنرل راحیل شریف نے وزیراعظم کو سووینئر پیش کیا ، وزیراعلیٰ بلوچستان میر ثنا اللہ زہری اور چینی سفیر نے خطاب کیا، ملکی سفیروں ، سیاسی و عسکری شخصیات سمیت وفاقی اور صوبائی اعلیٰ حکام نے شرکت کی ، سیکیورٹی کے موثر انتظام کیے گئے ۔ اس حقیقت سے شاید کوئی انکار کرسکے کہ سی پیک کے بارے میں بعض عناصر کی سیاسی مخالفت بد قسمتی ہے جب کہ بھارت بلوچستان میں مداخلت کے راستے سی پیک کے خلاف اپنے خبث باطن کا اظہار کئی بار کرچکا ہے۔
بعض غیر ملکی قوتیں بھی اس کی ہمنوا ہیں اور پاک چین دوستی کے خلاف مذموم عزائم رکھتی ہیں اس لیے وقت کا تقاضہ ہے کہ سی پیک کی تکمیل کے لیے جہاں سیاسی و عسکری قیادت نے چین کے ساتھ مل کر ایک عظیم معاشی فیصلہ کیا ہے اس کی روشنی میں تمام سیاسی شراکت دار اور اپوزیشن جماعتیں بطور خاص پاک چین اقتصادی راہداری کے تمام مراحل کی کامیابی کے ساتھ تکمیل میں ایک پیج پر رہیں۔
ملکی معیشت کے استحکام اور قومی معاشی اہداف کے حصول کی سمت عظیم پڑوسی ملک چین کے مشترکہ تعاون اور لازوال دوستی کی بنیاد پر منصوبہ کی تکمیل کے لیے مفاہمانہ سیاسی خیر سگالی اور فراخدلی کی ضرورت ہے، سی پیک کو متنازع بنانے کی کوشش ملکی مفاد میں نہیں، یہ خوش آئند بات ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویزخٹک نے مفاہمانہ طرز عمل اختیار کیا ہے۔ قوم کے پختہ عزم ، سیاسی و عسکری قیادت کی قابل تحسین ہم آہنگی ، چینی ماہرین اور ایف ڈبلیو او کے بے مثال تعمیراتی کاموں کی وقت مقررہ سے قبل تکمیل کے باعث تجارتی قافلہ اپنی طے شدہ منزلوں کی طرف روانہ ہوا ، یہ پاک چین دوستی کا ایک سنگ میل ہے۔
ملکی ترقی، عوام کی خوشحالی اور ملکی سالمیت کے فیصلے سیاسی کشیدگی سے ہمیشہ بالاتر رکھنے جانے چاہییں، خدا کا شکر ہے کہ سی پیک بریک تھرو سے نکتہ چینی کی گرد تھم گئی جب کہ سی پیک کی کامیابی کے اس پہلے پائلٹ پروجیکٹ سے سی پیک کو تقویت ملے گی جس کی کامیابی سے عوام اور سیاسی حلقوں کو مطمئن کردیا۔ سی پیک واقعی پورے پاکستان کا منصوبہ بنتا دکھائی دے رہا ہے جس کے ثمرات سے چاروں صوبے اور اہل وطن مستفید ہوں گے ، بلوچستان حکومت کا یہ کریڈٹ ہے اس نے گوادر پورٹ کے خلاف عالمی سازشوں کے جواب میں ثابت قدمی کے ساتھ وفاق، ایف ڈبلیو او ، سیاسی جماعتوں اور چینی کمپنیوں سے اپنی کمٹمنٹ نبھائی ، وزیر اعلیٰ میر ثنا اللہ زہری کی اس موقع پر تقریر کو پزیرائی حاصل ہوئی ۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی سطح پر سی پیک سے متعلق ہم خیالی، سیاسی و اقتصادی یک جہتی اور کشادہ نظری سے ملکی حقائق کا جائزہ لیا جائے۔ سی پیک سے ہزاروں محنت کشوں کو روزگار ملے گا ۔ پاک چین اقتصادی راہداری معاہدہ پورے پاکستان کے لیے گہری معنویت ، افادیت اور معاشی اہمیت کا حامل ہے۔ اہل وطن کو مبارک ہوکہ بلوچستان کے شورش زدہ صوبہ میں پاکستان کے ایک گیم چینجر منصوبہ کا ابتدائی قدم قوم کے لیے خوشیوں بھرا پیغام لایا ہے لہذا امید کی جانی چاہیے کہ سی پیک جیسے دوسرے اہم منصوبے بھی اسی سرعت اورجوش و جذبہ سے مکمل ہونگے۔