کنٹرول لائن پر بھارتی جارحیت7پاکستانی فوجی شہید

پاکستان بھارتی سرحدی خلاف ورزی کے ثبوت متعدد بار اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کے سامنے پیش کر چکا ہے

۔ فوٹو : فائل

ISLAMABAD:
بھمبر سیکٹر پر بھارتی فوج کی فائرنگ سے 7پاکستانی فوجی شہید ہوگئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ہفتے کے روز بھارتی فوج کی جانب سے بلااشتعال اندھا دھند فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا جو بہت دیر تک بلاتعطل جاری رہا' پاک فوج نے بھی بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جس پر تین بھارتی چوکیاں تباہ اور متعدد فوجی ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے بھارتی فائرنگ سے پاک فوج کے 7 اہلکاروں کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج کی جانب سے ایل اوسی پر جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی افسوس ناک ہے، کشیدگی کا مقصد دنیا بھر کی نظر کشمیر میں جاری مظالم سے ہٹانا ہے، بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں نہتے شہریوں پر ناقابل بیان مظالم کر رہی ہے۔

وہ دیوار پر لکھا پڑھنے میں ناکام ہو چکی ہے، بھارتی مظالم کے خلاف کشمیری عوام اٹھ کھڑے ہوں۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کے خلاف دفاع کی بھرپورصلاحیت رکھتا ہے، دفاع وطن کے لیے جان دینے والوں کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ بھارت نے ایل او سی پر بھاری اسلحے کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے تاہم پاک فوج بھارت کو بھرپور جواب دے رہی ہے۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے اپنے مذمتی بیان میں کہا کہ بھارت جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ بناتا ہے۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے بھارتی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مادر وطن کے دفاع میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے' بھارتی فائرنگ پر بھرپور اور موثر جواب جاری رکھا جائے۔

بھارت کی جانب سے ورکنگ باؤنڈری اور کنٹرول لائن پر سرحدی خلاف ورزی معمول بن چکا ہے۔ بھارت نے کنٹرول لائن پر مسلسل فائرنگ سے جنگی ماحول پیدا کر رکھا ہے' لیکن 7پاکستانی فوجیوں کی شہادت کا واقعہ پہلی بار ہوا ہے اور یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں جسے چند ایک مذمتی بیانات دے کر بھلا دیا جائے۔ اس واقعہ سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ بھارت کی جانب سے بھاری ہتھیاروں کا کھلم کھلا استعمال کیا گیا۔ رواں سال بھارتی فوج کی جانب سے ورکنگ باؤنڈری کی 38بار خلاف ورزی کی گئی جب کہ 26پاکستانی شہری شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ پاکستان نے ہر بار بھارتی جارحیت پر بھرپور احتجاج کیا اور بھارت سے کنٹرول لائن پر کشیدگی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔


سرحدوں پر بھارت کی جانب سے گولہ باری اور فائرنگ کے بعد دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز کی ہاٹ لائن پر گفتگو ہونے کے علاوہ ملاقاتیں بھی ہوئیں جس میں سرحدی کشیدگی کے خاتمے پر اتفاق کیا گیا لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ ادھر ملاقات ختم ہوئی تو ادھر بھارتی افواج نے سرحدی خلاف ورزی کا سلسلہ پھر سے شروع کر دیا۔ آخر بھارت سرحدی خلاف ورزیوں سے کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے اور پاکستان کے احتجاج کے باوجود وہ مسلسل کشیدگی پیدا کرنے سے باز کیوں نہیں آ رہا۔

پاکستان بھارتی سرحدی خلاف ورزی کے ثبوت متعدد بار اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کے سامنے پیش کر چکا ہے' حیرت انگیز امر یہ ہے کہ سرحد کے دونوں جانب اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین موجود ہیں مگر پھر بھی بھارت کی جانب سے مسلسل سرحدی خلاف ورزی رکنے میں نہیں آ رہی۔ موجودہ صورت حال کے تناظر میں یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اقوام متحدہ سرحدوں پر بھارتی جارحیت روکنے کے لیے اپنا کوئی کردار ادا نہیں کر رہی' آخر اقوام متحدہ کی جانب سے یہ خاموشی اور صرف نظر کا رویہ کیا معنی رکھتا ہے۔

جب بھارت میں دہشت گردی کا کوئی واقعہ رونما ہو جائے جیسا کہ پٹھانکوٹ اور اوڑی میں ہوا تھا تو وہ آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے اور اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی قوتیں بھی اس کی ہاں میں ہاں ملانا شروع کر دیتی ہیں لیکن جب بھارتی فوج کی جانب سے جارحیت کی جاتی ہے تو عالمی قوتیں مذمتی بیان جاری کرنا بھی گوارا نہیں کرتیں' ان کے اس منافقانہ اور دوغلے کردار ہی کے باعث بھارت کو شہ ملتی ہے اور اسے ادراک ہو چکا ہے کہ عالمی قوتیں اس کی کسی بھی جارحیت کے خلاف لب وا نہیں کریں گی۔ بھارتی جارحیت کے بڑھتے ہوئے اس رویے کو روکنے کا کیا حل ہے۔

اس سلسلے میں اقوام متحدہ اور عالمی قوتوں کو ہی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ اگر بھارتی جارحیت اسی طرح جاری رہی اور بات بڑھتے بڑھتے جنگ تک آ پہنچی تو یہ اس خطے کی تباہی کا اعلان ہو گا۔ دونوں ممالک ایٹمی ہتھیاروں' جدید ترین میزائلوں اور خوفناک اسلحے سے لیس ہیں جن کے استعمال کے بعد اس خطے میں جو تباہی پھیلے گی اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ پاک بھارت جنگ سے نہ صرف جنوبی ایشیا کا خطہ بلکہ پوری دنیا کا ماحول بھی شدید متاثر ہو گا۔ وقت آ گیا ہے کہ اقوام متحدہ اور عالمی قوتیں اپنی خاموشی توڑ کر پاک بھارت کشیدگی کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کریں ان کی خاموشی دنیا کو تباہی کی طرف لے جائے گی۔بہرحال پاکستان کو بھارت کی اس جارحیت کا منہ توڑ جواب دینا چاہیے۔
Load Next Story