دورۂ پاکستان بنگلہ دیش حتمی جواب کل دے گا
سیریز کا انحصار آئی سی سی کی جانب سے آفیشلز بھیجنے پر بھی ہوگا،بورڈ آفیشل۔
متوقع ٹور کیلیے تمیم اقبال کو نیوزی لینڈ سے قبل از وقت واپسی کیلیے تیار رہنے کی ہدایت،پریمیئر لیگ مینجمنٹ کمپنی پاکستانی پلیئرز کی شرکت کیلیے پُرامید۔ فوٹو: اے ایف پی
دورۂ پاکستان کے حوالے سے بنگلہ دیش حتمی جواب جمعرات کو دے گا۔
تین روز کے مختصر ٹور پر راضی بی سی بی آفیشلزکو اپنی حکومت کے گرین سگنل کا انتظار ہے، چیئرمین کرکٹ آپریشن عنایت حسین سراج نے واضح کیاکہ دورے کا انحصار آئی سی سی کی جانب سے اپنے آفیشلز بھیجنے پر بھی ہوگا۔ ادھر بورڈ نے متوقع دورے کیلیے تمیم اقبال کو نیوزی لینڈ سے قبل از وقت واپسی کیلیے تیار رہنے کی بھی ہدایت کردی، بنگلہ دیش پریمیئر لیگ کی مینجمنٹ کمپنی 'گیم آن' پاکستانی پلیئرز کی ایونٹ میں شرکت کیلیے پُرامید ہے، ڈائریکٹر اینجن گنگولی نے کہاکہ بی سی بی کی جانب سے دورے کا باضابطہ اعلان ہوتے ہی پاکستانی پلیئرز کو این او سی بھی جاری ہوجائے گی۔
تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ اگرچہ پاکستان کے ٹور پر اصولی رضامندی ظاہر کرچکا مگر اس بارے میں حتمی جواب جمعرات20 دسمبر کو دے گا، دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی روز بنگلہ دیش پریمیئر لیگ کیلیے پلیئرز کی نیلامی بھی ہونی ہے، پاکستان نے اپنے کھلاڑیوں کو این او سی دینے کا معاملہ بھی بی سی بی کی جانب سے ٹور کے آفیشل اعلان سے مشروط کررکھا ہے، وقت کم ہونے کی وجہ سے صورتحال کافی دلچسپ رخ اختیار کرگئی۔
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ جہاں ایک طرف اپنے سابق صدر مصطفیٰ کمال کے الفاظ کی پاسداری کرتے ہوئے دورے کی یقینی دہانی کررہا ہے وہیں وہ اسے کبھی سیکیورٹی کلیئرنس توکبھی کسی اور چیز سے مشروط کرکے جان چھڑانے کا راستہ بھی کھلا چھوڑنا چاہتا ہے۔ بی سی بی ایڈہاک کمیٹی کے ممبر اور کرکٹ آپریشن کمیٹی کے چیئرمین عنایت حسین سراج نے اب واضح کردیاکہ بورڈ نے تو اجازت دے دی مگر حکومتی کلیئرنس ملنے پر ہی ٹور کا باقاعدہ اعلان کیا جائے گا۔
انھوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ 12 اور 13 جنوری کے مجوزہ شیڈول کے مطابق بنگلہ دیش ٹیم کو دو میچز کیلیے پاکستان میں دو راتیں قیام کرنا پڑے گا، ہمیں اس سلسلے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کا بھیجا ہوا سیکیورٹی پلان پہلے ہی موصول ہوچکا، ویسے تو ہمارے بورڈ نے متفقہ طور پر پاکستان کے ٹور کا فیصلہ کرلیا مگر کچھ باتیں اب بھی حل طلب ہیں، ہمیں امید ہے کہ اپنے تمام اسٹیک ہولڈرز سے بات کرنے کے بعد 20 دسمبر تک پی سی بی کو واضح جواب دینے کے قابل ہوںگے، انھوں نے کہا کہ ہم کسی بھی پلیئر کو زبردستی اس ٹور پر مجبور نہیں کریں گے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ یہ ٹور ہماری حکومت کی سیکیورٹی کلیئرنس سے مشروط ہوگا،اس کے ساتھ انحصار اس بات پر بھی ہوگا کہ آئی سی سی ان میچز کیلیے اپنے آفیشلز پاکستان بھیجتی ہے یا نہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل جب اپریل میں بنگلہ دیش نے دو میچز کیلیے پاکستان آنے کی حامی بھری تھی تو اس سے قبل کونسل نے ایک خصوصی رعایت دی تھی، جس کے تحت اس کی جانب سے امپائرز و ریفری نہ بھیجنے کی صورت میں دونوں بورڈز باہمی طور پر سیریز میں مقامی آفیشلز کا تقرر کرسکتے ہیں،کچھ عرصہ قبل صدر ایلن آئزک نے دورئہ بنگلہ دیش کے دوران واضح کیا تھا کہ پہلے پاکستان اور بنگلہ دیش سیریز پر راضی ہوجائیں اور سیکیورٹی پلان آئی سی سی کو بھیجیں،اس کے بعد ہم خود صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد آفیشلز کو پاکستان بھیجنے کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔
ادھر بنگلہ دیش پریمیئر لیگ کی مینجمنٹ کمپنی گیم آن اسپورٹس کے ڈائریکٹر اینجن گنگولی کا کہنا ہے کہ ہم نیلامی میں پاکستانی کھلاڑیوں کی شرکت کے حوالے سے پُرامید ہیں،ہمیں یقین ہے کہ بی سی بی نیلامی سے قبل ہی آفیشل طور پر پاکستان جانے کا اعلان کردے گا جس سے پی سی بی بھی اپنے پلیئرز کو این او سی دے دیگا۔دریں اثنا بنگلہ دیشی اوپنر تمیم اقبال نیوزی لینڈ چلے گئے جہاں ٹوئنٹی 20 ایونٹ میں حصہ لیں گے تاہم ان کو بی سی بی آفیشلز کی جانب سے آگاہ کردیا گیاکہ اگر پاکستان کا دورہ طے پاگیا تو انھیں 8 جنوری تک واپس لوٹ آنا ہوگا۔ شکیب الحسن انجری کے باعث پاکستان نہیں آسکیں گے جبکہ ابھی تک کوچنگ اسٹاف نے بھی ٹیم کے ساتھ سفر کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔
تین روز کے مختصر ٹور پر راضی بی سی بی آفیشلزکو اپنی حکومت کے گرین سگنل کا انتظار ہے، چیئرمین کرکٹ آپریشن عنایت حسین سراج نے واضح کیاکہ دورے کا انحصار آئی سی سی کی جانب سے اپنے آفیشلز بھیجنے پر بھی ہوگا۔ ادھر بورڈ نے متوقع دورے کیلیے تمیم اقبال کو نیوزی لینڈ سے قبل از وقت واپسی کیلیے تیار رہنے کی بھی ہدایت کردی، بنگلہ دیش پریمیئر لیگ کی مینجمنٹ کمپنی 'گیم آن' پاکستانی پلیئرز کی ایونٹ میں شرکت کیلیے پُرامید ہے، ڈائریکٹر اینجن گنگولی نے کہاکہ بی سی بی کی جانب سے دورے کا باضابطہ اعلان ہوتے ہی پاکستانی پلیئرز کو این او سی بھی جاری ہوجائے گی۔
تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ اگرچہ پاکستان کے ٹور پر اصولی رضامندی ظاہر کرچکا مگر اس بارے میں حتمی جواب جمعرات20 دسمبر کو دے گا، دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی روز بنگلہ دیش پریمیئر لیگ کیلیے پلیئرز کی نیلامی بھی ہونی ہے، پاکستان نے اپنے کھلاڑیوں کو این او سی دینے کا معاملہ بھی بی سی بی کی جانب سے ٹور کے آفیشل اعلان سے مشروط کررکھا ہے، وقت کم ہونے کی وجہ سے صورتحال کافی دلچسپ رخ اختیار کرگئی۔
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ جہاں ایک طرف اپنے سابق صدر مصطفیٰ کمال کے الفاظ کی پاسداری کرتے ہوئے دورے کی یقینی دہانی کررہا ہے وہیں وہ اسے کبھی سیکیورٹی کلیئرنس توکبھی کسی اور چیز سے مشروط کرکے جان چھڑانے کا راستہ بھی کھلا چھوڑنا چاہتا ہے۔ بی سی بی ایڈہاک کمیٹی کے ممبر اور کرکٹ آپریشن کمیٹی کے چیئرمین عنایت حسین سراج نے اب واضح کردیاکہ بورڈ نے تو اجازت دے دی مگر حکومتی کلیئرنس ملنے پر ہی ٹور کا باقاعدہ اعلان کیا جائے گا۔
انھوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ 12 اور 13 جنوری کے مجوزہ شیڈول کے مطابق بنگلہ دیش ٹیم کو دو میچز کیلیے پاکستان میں دو راتیں قیام کرنا پڑے گا، ہمیں اس سلسلے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کا بھیجا ہوا سیکیورٹی پلان پہلے ہی موصول ہوچکا، ویسے تو ہمارے بورڈ نے متفقہ طور پر پاکستان کے ٹور کا فیصلہ کرلیا مگر کچھ باتیں اب بھی حل طلب ہیں، ہمیں امید ہے کہ اپنے تمام اسٹیک ہولڈرز سے بات کرنے کے بعد 20 دسمبر تک پی سی بی کو واضح جواب دینے کے قابل ہوںگے، انھوں نے کہا کہ ہم کسی بھی پلیئر کو زبردستی اس ٹور پر مجبور نہیں کریں گے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ یہ ٹور ہماری حکومت کی سیکیورٹی کلیئرنس سے مشروط ہوگا،اس کے ساتھ انحصار اس بات پر بھی ہوگا کہ آئی سی سی ان میچز کیلیے اپنے آفیشلز پاکستان بھیجتی ہے یا نہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل جب اپریل میں بنگلہ دیش نے دو میچز کیلیے پاکستان آنے کی حامی بھری تھی تو اس سے قبل کونسل نے ایک خصوصی رعایت دی تھی، جس کے تحت اس کی جانب سے امپائرز و ریفری نہ بھیجنے کی صورت میں دونوں بورڈز باہمی طور پر سیریز میں مقامی آفیشلز کا تقرر کرسکتے ہیں،کچھ عرصہ قبل صدر ایلن آئزک نے دورئہ بنگلہ دیش کے دوران واضح کیا تھا کہ پہلے پاکستان اور بنگلہ دیش سیریز پر راضی ہوجائیں اور سیکیورٹی پلان آئی سی سی کو بھیجیں،اس کے بعد ہم خود صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد آفیشلز کو پاکستان بھیجنے کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔
ادھر بنگلہ دیش پریمیئر لیگ کی مینجمنٹ کمپنی گیم آن اسپورٹس کے ڈائریکٹر اینجن گنگولی کا کہنا ہے کہ ہم نیلامی میں پاکستانی کھلاڑیوں کی شرکت کے حوالے سے پُرامید ہیں،ہمیں یقین ہے کہ بی سی بی نیلامی سے قبل ہی آفیشل طور پر پاکستان جانے کا اعلان کردے گا جس سے پی سی بی بھی اپنے پلیئرز کو این او سی دے دیگا۔دریں اثنا بنگلہ دیشی اوپنر تمیم اقبال نیوزی لینڈ چلے گئے جہاں ٹوئنٹی 20 ایونٹ میں حصہ لیں گے تاہم ان کو بی سی بی آفیشلز کی جانب سے آگاہ کردیا گیاکہ اگر پاکستان کا دورہ طے پاگیا تو انھیں 8 جنوری تک واپس لوٹ آنا ہوگا۔ شکیب الحسن انجری کے باعث پاکستان نہیں آسکیں گے جبکہ ابھی تک کوچنگ اسٹاف نے بھی ٹیم کے ساتھ سفر کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔