ماتلی میں گیس پریشر کی کمی کا مسئلہ سنگین ہوگیا
علاقہ مکین پریشانی کا شکار‘سوئی سدرن گیس کمپنی کے خلاف لوگ سڑکوں پر نکل آئے
سدرن گیس کمپنی کے مقامی اہکاروں سے جب بھی رابطہ قائم کیا جاتا ہے تو انکا کہنا ہوتا ہے کہ پریشر بڑھا دیا گیا ہے. فوٹو: رائٹرز/ فائل
ماتلی شہر کے مختلف علاقوں میں گیس کے پریشر میں کمی کے مسئلے نے سردی میں اجافے کے ساتھ ہی سنگین صورت اختیار کر لی ہے۔
سدرن گیس کمپنی کے مقامی اہلکار شکایت لینے کے بجائے لوگوں کو کہانیاں سنانے لگے، ماتلی شہر کے مختلف علاقوں کشمیری محلہ، چانڈیہ محلہ،میمن محلہ ، نوتکانی کالونی، قلدنری محلہ گودام ایریا، فتح پور محلہ، بشیر آباد محلہ اور دیگر شہر کی کئی ملحقہ علاقوں میں گیس کی لوڈشیڈنگ اور پریشر کی کمی کی شکایات دیرنہ مسئل ہے، ایسے مستقل بنیاد پر حل کرنے کے بجائے عارضی انتظامات کئے جاتے ہیں خصوصاً موسم سرمااور رمضان المبارک میں ان علاقوں میں کھانے پینے کے اوقات میں گیس غائب ہو جاتی ہے، ناشتہ دیر سے تیار ہونے کے باعث بچے اسکول اور مرد و حضرات دفاتر اور کام کاج پر پہنچنے میں لیٹ ہو جاتے ہیں۔
خصوصی طور پر ان دنوں میں شکایت نے سنگین صورتحال اختیار کر لی ہے، جس سے ان علاقوں کے30ہزار سے زائد لوگ شدید پریشانی کا شکار ہیں، سدرن گیس کمپنی کے مقامی اہکاروں سے جب بھی رابطہ قائم کیا جاتا ہے تو انکا کہنا ہوتا ہے کہ پریشر بڑھا دیا گیا ہے تاہم سدرن گیس کمپنی کے اندرونی ذرائع نے انشکاف کیا ہے کہ شہر بھر خصوصاً ان علاقوں میں1994میں بچھائی گئی پرانی لائنیں ناکارہ ہو چکی ہے، نیٹ ورک کی مکمسل تبدیلی تک اس صورتحال سے مستقل کنڑول ممکن نہیں ہے۔
دوسری جانب شہر کے سینکڑوں افراد نے سوئی سدرن گیس کمپنی کے ماتلی کے عملے کے خلاف روڈ پر نکال آکر احتجاج کیا، مظاہرے کی رہنمائی کرنے والے رہمائوں محمد علی رحمانی، فقیر منظور کشمیری، میر ولد چانڈیو، محمد خالد، کلیم کشمیری اور دیگر رہنمائوں نے گیس کے پریشر کی کمی شکایت کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کے پریشر کو بڑھایا جائے اور حکومت سے کہا ہے کہ اس مسئلے کا نوٹس لیکر ماتلی کی عوام کو دیرینہ مسئلے کو حل کروا دیا جائے۔
سدرن گیس کمپنی کے مقامی اہلکار شکایت لینے کے بجائے لوگوں کو کہانیاں سنانے لگے، ماتلی شہر کے مختلف علاقوں کشمیری محلہ، چانڈیہ محلہ،میمن محلہ ، نوتکانی کالونی، قلدنری محلہ گودام ایریا، فتح پور محلہ، بشیر آباد محلہ اور دیگر شہر کی کئی ملحقہ علاقوں میں گیس کی لوڈشیڈنگ اور پریشر کی کمی کی شکایات دیرنہ مسئل ہے، ایسے مستقل بنیاد پر حل کرنے کے بجائے عارضی انتظامات کئے جاتے ہیں خصوصاً موسم سرمااور رمضان المبارک میں ان علاقوں میں کھانے پینے کے اوقات میں گیس غائب ہو جاتی ہے، ناشتہ دیر سے تیار ہونے کے باعث بچے اسکول اور مرد و حضرات دفاتر اور کام کاج پر پہنچنے میں لیٹ ہو جاتے ہیں۔
خصوصی طور پر ان دنوں میں شکایت نے سنگین صورتحال اختیار کر لی ہے، جس سے ان علاقوں کے30ہزار سے زائد لوگ شدید پریشانی کا شکار ہیں، سدرن گیس کمپنی کے مقامی اہکاروں سے جب بھی رابطہ قائم کیا جاتا ہے تو انکا کہنا ہوتا ہے کہ پریشر بڑھا دیا گیا ہے تاہم سدرن گیس کمپنی کے اندرونی ذرائع نے انشکاف کیا ہے کہ شہر بھر خصوصاً ان علاقوں میں1994میں بچھائی گئی پرانی لائنیں ناکارہ ہو چکی ہے، نیٹ ورک کی مکمسل تبدیلی تک اس صورتحال سے مستقل کنڑول ممکن نہیں ہے۔
دوسری جانب شہر کے سینکڑوں افراد نے سوئی سدرن گیس کمپنی کے ماتلی کے عملے کے خلاف روڈ پر نکال آکر احتجاج کیا، مظاہرے کی رہنمائی کرنے والے رہمائوں محمد علی رحمانی، فقیر منظور کشمیری، میر ولد چانڈیو، محمد خالد، کلیم کشمیری اور دیگر رہنمائوں نے گیس کے پریشر کی کمی شکایت کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کے پریشر کو بڑھایا جائے اور حکومت سے کہا ہے کہ اس مسئلے کا نوٹس لیکر ماتلی کی عوام کو دیرینہ مسئلے کو حل کروا دیا جائے۔