مصر معزول صدر مرسی کی سزائے موت ختم

مصری حکومت کو تاریخ کے صفحات سے سبق حاصل کرنا چاہیے

فوٹو: رائٹرز/فائل

مصر کی اپیل عدالت نے معزول صدر محمد مرسی کی سزائے موت ختم کرتے ہوئے مقدمے کی دوبارہ سماعت کا حکم دیا ہے، تاہم ان کی عمرقید کی سزا برقرار ہے۔ محمد مرسی 2012 میں صدر منتخب ہوئے لیکن فوج نے ایک برس بعد ان کی حکومت کو ختم کرکے انھیں جیل میں بند کردیا تھا، اپیل کورٹ کے فیصلے کے بعد محمد مرسی کے خلاف شدت پسندوں کو جیل سے فرار کرانے میں مدد دینے کے الزامات پر دوبارہ سماعت ہوگی۔

واضح رہے مرسی 2011 میں ودی نترون نامی جیل سے فرار ہوئے تھے، ان پر الزام تھا کہ انھوں نے جیل میں بند غیر ملکی جنگجوؤں کے ساتھ مل کر قیدیوں کو جیل سے رہا کرانے کی سازش تیار کی تھی۔ سابق صدر کو ایک اور مقدمے میں مظاہرین کو گرفتار کرنے اور ان پر تشدد کا حکم دینے کے جرم میں 20 سال قید کی سزا سنائی جاچکی ہے، دوسری جانب ان کی جماعت اخوان المسلمون پر پابندی عائد کرکے اس کے ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔


مصر میں پہلی بار جمہوری طریقے سے منتخب سابق صدر مرسی کو جولائی 2013 میں فوجی بغاوت کے بعد معزول کردیا گیا تھا، مئی2014 میں فوج کے سابق سربراہ عبدالفتح السیسی نے صدارتی انتخاب میں کامیابی حاصل کی تھی۔ مصر میں فوجی بغاوت اور جمہوری ریاست کا تخت الٹنے کے بعد وہاں کے عوام کو جس شورش اور بدامنی کا سامنا رہا وہ تاریخ میں سیاہ باب کے طور پر درج ہوچکا ہے۔ صائب ہوگا کہ سیاسی انتقام سے گریز اور نظریاتی سطح پر سیاسی معاملات طے کیے جائیں، ماضی کی غلطیوں کو سدھارتے ہوئے مستقبل میں آگے بڑھا جائے اور مصری حکومت اپنی ریاست کی مضبوطی اور امن و امان کے قیام پر توجہ مرکوز کرے۔ جمہوری ریاستوں کا حسن اختلافات کو برداشت کرنے اور اپنے دلائل کی بنیاد پر حق کو ثابت کرنے میں ہے۔

مصری حکومت کو نظریاتی سطح پر اپوزیشن کا سامنا کرنا چاہیے۔ سابق صدر کی سزائے موت کی منسوخی کو خوش آیند اقدام قرار دیا جاسکتا ہے، بہرحال وہ مصر کے باقاعدہ جمہوری طریقے سے منتخب صدر رہے ہیں، صائب ہوگا کہ کسی بھی فیصلے میں سیاسی انتقام کی آمیزش نہ ہونے پائے۔ ذاتی رنجشوں اور اختلافات کی بنیاد پر سیاسی انتقام کا خمیازہ کئی نسلوں کو ادا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان میں اس کی واضح مثال موجود ہے جب ایک منتخب وزیراعظم کو جلد بازی میں پھانسی کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ مصری حکومت کو تاریخ کے صفحات سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔

 
Load Next Story