بھارت کے عزائم خطے کے لیے خطرہ

عالمی برادری نے پاکستان اور بھارت سے بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے

، فوٹو؛ فائل

اسرائیل اور بھارت کے مابین دفاعی معاہدوں اور مودی حکومت کی پاکستان مخاصمت پر مبنی پالیسی کا تسلسل خطے کے لیے مستقل خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ ایک طرف بھارتی فورسز نے لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ کی جو اس کی اشتعال انگیزیوں کا عکس ہے جس کا پاک فوج نے منہ توڑ جواب بر وقت دے دیا ہے، تاہم منگل کو پوکھلیاں سیکٹر میں پھر فائرنگ کی گئی جب کہ چھمب پتنی سیکٹر میں اسکول اور کالج کو نشانہ بنایا گیا، پاک فوج کی جانب سے بھی بھارتی اشتعال انگیزی کا بھرپور جواب دیا گیا اور دشمنوں کی توپوں کو خاموش کرا دیا گیا۔

واضح رہے کہ پیر کو کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں 7 فوجی شہید ہوگئے تھے، اس سنگین خلاف ورزی کے خلاف شدید رد عمل میں پاک فوج کے لیے جوابی کارروائی ناگزیر تھی جس میں متعدد بھارتی فوجیوں کے بھی مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔

اس جارحانہ اور بلا جواز کشیدگی سے منسلک دانستہ کارروائیوں سے یہی نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ بھارت پاکستان کے دشمن ملکوں کے ساتھ مل کر جنگجوئی کے خود سوز جنون میں مبتلا ہے، بدامنی کے لیے کسی بہانہ کی تلاش میں ہے۔ اور بھارت کے بڑھتے ہوئے جنگجویانہ عزائم اور بالادستی و اجارہ داری کی نئی ذہنیت سے پیدا شدہ صورتحال خطے کے ملکوں کی سلامتی و بقا اور عالمی برادری کے لیے سلگتا ہوا سوالیہ نشان ہے۔

عالمی برادری نے پاکستان اور بھارت سے بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے لیکن جب پاکستان کی امن پسندی کو اس کی کمزوری پر محمول کرتے ہوئے کنٹرول لائن پر مستقل فائرنگ اور گولہ باری کی جائے تو اس کا کیا مطلب لیا جائے۔ لہذا وزیراعظم محمد نوازشریف نے لگاتار بھارتی اشتعال انگیزیوں کے حوالہ سے کہا ہے کہ پاکستان بھارتی جارحیت پر انتہائی صبر و تحمل کا مظاہرہ کر رہا ہے، ہمارے صبرکو کمزوری نہ سمجھا جائے، پاکستان کسی بھی جارحیت کی صورت میں وطن عزیز کے دفاع کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔

وزیراعظم نوازشریف کی زیرصدارت اسلام آباد میں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں مشیر خارجہ سرتاج عزیز، مشیر قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصرجنجوعہ اور معاون طارق فاطمی سمیت دیگراعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اس موقع پر وزیراعظم نے اپنی بات کا اعادہ کیا کہ اقوام متحدہ بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر سیز فائرکی خلاف ورزیوں اورکشیدگی میں بلاجواز اضافے کا نوٹس لے۔

حقیقت یہ ہے کہ بھارت کشمیر کی اندوہ ناک صورتحال سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے ایل او سی پر اشتعال انگیزیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے جب کہ اندر ہی اندر وہ اپنی جنگی تیاریوں اور مذموم عزائم پر پردہ ڈالنے کے لیے اسرائیل سے دفاع اور انسداد دہشتگردی کے لیے تعاون بڑھانے کی کوششوں میں بھی مصروف ہے، یوں میڈیا نے بھی پول کھول دیا ہے کہ بھارت اسرائیل کا پاکستان کے خلاف دفاعی اتحاد ہوگیا ہے۔


بھارتی میڈیا کے مطابق اسرائیلی صدر ریوون ریولن کے ساتھ ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان کا نام لیے بغیر پھر سے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے الزام لگایا کہ دہشتگردی کے ماخذ 3 ممالک میں سے ایک ہمارا ہمسایہ ہے۔یہ الزام وہ جنگ پرست مودی سرکار لگا رہی ہے جسے امن راس نہیں آتا۔اسرائیلی صدر بھارت کے دورہ پر ہیں۔

افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ بھارتی میڈیا ابھی ہذیانی کیفیت سے نجات حاصل نہیں کرسکا جس کا مظاہرہ مختلف بھارتی اخبارات نے کیا، ٹائمز آف انڈیا جیسے سنجیدہ اخبار نے سرتاج عزیز کے مجوزہ دورہ کو ایک تبصرہ میں گھٹنے ٹیکنے سے تعبیر جب کہ کسی نے لکھا کہ اس شخص کو بھارت نہ آنے دیا جائے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امورسرتاج عزیز نے کہا کہ کنٹرول لائن پرفائرنگ سے ہونے والی شہادتوں اور سرحد پر خلاف ورزیوں کے باوجود پاکستان 3دسمبرکو بھارتی شہر امرتسر میں شروع ہونے والی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کرے گا، بھارت نے اگر مذاکرات کی پیشکش کی تو دیکھیں گے ۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے سارک کانفرنس کو سبوتاژ کیا مگر پاکستان کا ایسا کوئی ارادہ نہیں۔

یاد رہے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں افغانستان کی صورتحال اور اسے درپیش دیرینہ سیاسی و معاشی بحران سے نکالنے کے لیے مختلف ایشیائی ملک اور ڈونرز شرکت کریں گے۔ اب اس درد کا کیا علاج ہو کہ پاکستان نے افغان صورتحال کی بہتری کے لیے کیا کیا صدمے اور الزامات نہیں سہے لیکن افغان حکومت پھر بھی بہتان طرازیوں میں مشغول ہے۔

دریں اثنا اسلام آباد میں مسلم انسٹیٹیوٹ اور سینٹرفار انٹرنیشنل پیس اینڈ اسٹیبلٹی، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے اشتراک سے ''جوناگڑھ پر بھارتی قبضہ پاکستان کے لیے پالیسی آپشنز'' کے عنوان سے منعقدہ سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا ہے کہ نواب آف جوناگڑھ کی پاکستان کے ساتھ دستخط کی گئی الحاقی دستاویز کے تحت جوناگڑھ قانونی طور پر پاکستان کا حصہ ہے جس پر بھارت نے غیر قانونی قبضہ جما رکھا ہے، پاکستان کو یہ مسئلہ دوبارہ سے عالمی سطح پراٹھانا چاہیے۔عالمی برادری کو اس نکتہ کی طرف بھی دھیان دینا چاہیے۔

 
Load Next Story