ٹرمپ کا پہلا کام

ہنگامہ خیز انتخابات کے بعد ٹرمپ امریکا کے صدر بن گئے

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

SWAT:
ہنگامہ خیز انتخابات کے بعد ٹرمپ امریکا کے صدر بن گئے، امریکا میں رائج انتخابی نظام کے مطابق کسی صدارتی امیدوارکی ہار یا جیت کا فیصلہ عمومی ووٹوں کی اکثریت سے نہیں بلکہ الیکٹرول ووٹوں کی اکثریت سے ہوتا ہے۔ یہ ایک پیچیدہ نظام ہے جس میں پاپولر ووٹ کی طاقت الیکٹرول ووٹوں سے کم ہوتی ہے۔ اس رائج الوقت انتخابی نظام کے تحت تو ٹرمپ نے انتخابات جیت لیے ہیں لیکن امریکی عوام کی ایک قابل ذکر تعداد ٹرمپ کو صدر ماننے سے انکاری ہے۔

ان کا موقف یہ ہے کہ ہیلری کلنٹن نے ٹرمپ سے ایک لاکھ زیادہ ووٹ حاصل کیے ہیں، لہٰذا ہیلری کلنٹن کو کامیاب قرار دیا جانا چاہیے۔ بادی النظر میں تو ہیلری کلنٹن کے حامیوں کا موقف درست معلوم ہوتا ہے لیکن امریکا میں عشروں سے جو انتخابی نظام رائج ہے اس کے مطابق ٹرمپ انتخابات جیت گئے ہیں اور ہیلری انتخابات ہار گئی ہیں۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرمپ کے خلاف ہونے والے مظاہرے اب ایک تحریک میں بدل رہے ہیں اور یہ تحریک امریکی ریاستوں ہی میں نہیں بلکہ دنیا کے کئی دیگر ملکوں تک جا پہنچی ہے۔

اس حوالے سے21 جنوری کو وا شنگٹن میں ایک ویمن مارچ کا اہتمام کیا جا رہا ہے جس میں بڑی تعداد میں عوام شرکت کی تیاری کر رہے ہیں لیکن انتخابی گرد جیسے جیسے سمٹتی جا رہی ہے، ٹرمپ کے حامیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور لگتا ہے کہ ٹرمپ کی مخالف تحریک آہستہ آہستہ ختم ہو جائے گی۔

ٹرمپ کی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے جو متنازعہ بیانات دیے ہیں، ان میں مسلمانوں کی مخالفت کے ساتھ امریکا سے 20 لاکھ تارکین وطن کو نکالنے کا اعلان بھی شامل ہے، ٹرمپ ان تارکین وطن کو جرائم پیشہ، تخریب کار اور منشیات فروش کہتا ہے اگر 20 لاکھ تارکین وطن جرائم پیشہ تخریب کار اور منشیات فروش ہیں تو پھر امریکا کو دنیا کا سب سے بڑا جرائم پیشہ ملک ہی کہا جا سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ اقتدار سنبھالنے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ اس موقعے پر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں پہنچنے کے بعد ان کا پہلا کام 20 لاکھ تارکین وطن کو امریکا سے نکال باہر کرنا ہو گا جن کی تعداد 30 لاکھ بھی ہو سکتی ہے۔

ٹرمپ بنیادی طور پر ایک کاروباری انسان ہے، سیاست سے ان کا واسطہ کم ہی رہا ہے، غالباً یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ کے ذہن میں جو بات ہوتی ہے خواہ وہ کتنی ہی قابل اعتراض کیوں نہ ہو ٹرمپ اس کا اظہار بلکہ بے دھڑک اظہار کر دیتا ہے، اس کے غیر مقبول ہونے کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ وہ بیان بازی میں سیاستدانوں والا ''رکھ رکھاؤ'' نہیں رکھتا جو اس کے دل میں ہوتا ہے اس کا بے دھڑک اظہار کر دیتا ہے۔


ٹرمپ کے مطابق تخریب کاروں، جرائم پیشہ افراد اور منشیات فروشوں کی تعداد 20 لاکھ سے 30 لاکھ تک ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ 20، 30 لاکھ جرائم پیشہ تخریب کار اور منشیات فروش اچانک اگنے والی کوئی فصل نہیں ہے یہ امریکی معاشرے میں عشروں سے موجود ہیں اور اس کا حصہ بنے ہوئے ہیں اگر یہ درست ہے تو ماضی کی امریکی حکومتیں 20، 30 لاکھ جرائم پیشہ افراد کو پھلنے پھولنے کیوں دیتی رہیں انھیں امریکا بدر کرنے کا انھیں خیال کیوں نہیں آیا؟

اس سوال کے جواب کے لیے ہمیں اس نظام پر ایک نظر ڈالنی پڑے گی، جو امریکا سمیت ساری دنیا میں رائج ہے اور جس کے خمیر میں جرائم پیشہ لوگوں کو پیدا کرنا شامل ہے۔ ٹرمپ اگر امریکا سے 20، 30 لاکھ جرائم پیشہ افراد کو نکال بھی لیتا ہے تو امریکا میں موجود سرمایہ دارانہ نظام 30، 40 لاکھ مزید جرائم پیشہ، تخریب کاروں اور منشیات فروشوں کو پیدا کر دے گا کیوںکہ سرمایہ دارانہ نظام کی سرشت ہی میں جرائم اور جرائم پیشہ لوگوں کو پیدا کرنا ہے۔

جب تک امریکا میں سرمایہ دارانہ نظام موجود ہے امریکا ہی میں نہیں بلکہ ساری دنیا میں جرائم اور جرائم پیشہ لوگ فروغ پاتے رہیں گے اور ٹرمپ اس سرمایہ دارانہ نظام کو ختم کرنے کی سوچ بھی نہیں سکتا جس کی بدولت وہ ارب پتی اور امریکا کا سب سے زیادہ مالدار صدر بنا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف تارکین وطن ہی جرائم پیشہ، تخریب کار اور منشیات فروش ہیں؟ یا امریکی شہریوں میں بھی یہ خوبیاں موجود ہیں؟

ٹرمپ ایک لا ابالی عقل و فہم سے نابلد انسان ہے چونکہ وہ سرمایہ دارانہ نظام ہی کی گود میں پلا بڑھا ہے اور ارب پتی بنا ہے لہٰذا سرمایہ دارانہ نظام کی برائیوں پر اس کی نظر نہیں جا سکتی۔ اگر ٹرمپ کی نظر سرمایہ دارانہ نظام پر جاتی ہے تو وہ 20، 30 لاکھ تارکین وطن کو امریکا سے نکالنے کو اپنا پہلا کام قرار نہیں دے سکتا تھا۔ اصل مسئلہ امریکا سے تارکین وطن کو نکالنا ہے لیکن سرمایہ دارانہ نظام نے جنگوں اور طبقاتی مظالم کے جس کلچر کو جنم دیا ہے اس میں تارکین وطن کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔

آج لاکھوں تارکین وطن اپنے بال بچوں کے ساتھ غیر محفوظ کشتیوں میں گنجائش سے بہت زیادہ تعداد میں اپنے ملکوں سے نکل کر پناہ کی تلاش میں جس طرح سمندر بدر ہو رہے ہیں یہ سرمایہ دارانہ نظام کی ایجاد کردہ جنگوں ہی کا کارنامہ ہے۔

شام اور عراق سے ہر روز ہزاروں تارکین وطن امن کی تلاش میں جس خطرناک سفر پر نکل رہے ہیں کیا اس میں ان کی خوشی اور رضامندی شامل ہے؟ نہیں بلکہ یہ وہ بے بس عوام ہیں جو اپنے ملکوں میں اٹھنے والے جنگ کے شعلوں کی جھلس سے تنگ آ کر اپنا وطن چھوڑ کر تارکین وطن بن رہے ہیں اور جن ملکوں میں وہ پناہ لے رہے ہیں اگر ان ملکوں میں انھیں زندگی گزارنے کا جائز ذرایع حاصل ہوں تو نہ وہ منشیات فروش بن سکتے ہیں نہ تخریب کار نہ جرائم پیشہ۔

ٹرمپ ایک متعصب امریکی ہے جو رنگ، نسل، مذہب و ملت کے حوالے سے تنگ نظری کا شکار ہے اور لاشعوری طور پر امریکیوں کو ''سپر ہیومین'' سمجھتا ہے اگر ٹرمپ حقیقت پسند دور اندیش اور مدبرانہ سوچ کا حامل شخص ہوتا تو وہ تارکین وطن کو امریکا سے نکالنے کے بجائے ان جنگوں کے خاتمے کی کوشش کرتا جو انسانوں کو ان کے وطن سے نکالنے پر مجبور کر رہی ہیں، اس نظام کو بدلنے کی کوشش کرتا جو جرم اور جرائم پیشہ لوگوں کو جنم دیتا ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ٹرمپ ریاستی طاقت کے ذریعے 20، 30 لاکھ تارکین وطن کو نکالنے میں کامیاب بھی ہو گیا تو کیا امریکا سے جرائم اور جرائم پیشہ لوگوں کا خاتمہ ہو جائے گا؟
Load Next Story