وقار یونس آسٹریلوی ٹیم کے بولنگ کوچ نہیں بن سکیں گے

انٹرویو کے بعد امیدواروں کی فہرست سے نام خارج، معاملات طے نہ ہو سکے، سابق پیسر

انٹرویو کے بعد امیدواروں کی فہرست سے نام خارج، معاملات طے نہ ہو سکے، سابق پیسر۔ فوٹو آئن لائن

سابق پاکستانی کپتان وکوچ وقار یونس آسٹریلوی ٹیم کے بولنگ کوچ نہیں بن سکیں گے،کرکٹ بورڈ نے انٹرویو کے بعد ان کا نام امیدواروں کی فہرست سے خارج کر دیا، سابق اسپیڈ اسٹار کا کہنا ہے کہ میرے اور سی اے کے درمیان معاملات طے نہ ہو سکے۔

تفصیلات کے مطابق14سالہ کیریئر میں پاکستان کیلیے 373 ٹیسٹ وکٹیں لینے والے وقار یونس پاکستانی نژاد آسٹریلوی خاتون سے شادی کے بعد مستقل طور پر سڈنی میں ہی رہائش پذیر ہیں،انھوں نے اپنی ملکی ٹیم کیلیے بولنگ کوچ جبکہ بعدازاں چیف کوچ کی ذمہ داری بھی انجام دی، وہ خرابی صحت کو جواز بنا کر عہدے سے مستعفی ہوئے تاہم چند ماہ بعد ہی یو اے ای میں کمنٹری کرتے دکھائی دیے۔


اس سے ان قیاس آرائیوں کو تقویت ملی کہ انھوں نے بعض معاملات پر اختلافات کی وجہ سے کوچنگ چھوڑی، آسٹریلیا میں چند ماہ قبل کریگ میکڈرمٹ کے مستعفی ہونے کی وجہ سے بولنگ کوچ کی پوسٹ خالی ہوئی، وقار یونس نے بھی اس کیلیے درخواست کی تاہم معاملات طے نہ ہو سکے۔

سابق فاسٹ بولر نے ایک انٹرویو میں کہا کہ آسٹریلوی بورڈ نے مجھے آگاہ کر دیاکہ میں بولنگ کوچ کے عہدے کا امیدوار نہیں رہا ہوں، گوکہ میں یہ ذمہ داری سنبھالنا چاہتا تھا مگر کرکٹ آسٹریلیا اور میرے درمیان معاملات طے نہ ہو سکے، انھوں نے میرا انٹرویو بھی لیا تاہم ایسا لگتا ہے کہ میں نے انھیں جو پیشکش کی اور وہ جو چاہتے تھے دونوں بالکل مختلف چیزیں تھیں۔

وقار یونس نے مزید کہا کہ میں بدستور آسٹریلوی نظام میں کسی بھی قسم کے کوچنگ کردار کو پانے کا خواہاں ہوں، میں سری لنکن پریمیئر لیگ میں بطور کوچ شریک ہوں گا اس کے بعد ورلڈ ٹوئنٹی 20 میں کمنٹری اور دبئی کے اسٹوڈیو میں کام کرنا ہے، آئندہ چند ماہ میں مکمل طور پر مصروف رہوں گا۔ یاد رہے تسمانیہ کے بولنگ کوچ الیسٹر ڈی ونٹر کینگرو ٹیم کے ساتھ منسلک ہونے کیلیے فیورٹ ہیں، انھیں حالیہ دورئہ انگلینڈ میں عارضی طورپر بولرز کی رہنمائی کا کام سونپا گیا تھا۔
Load Next Story