بھارتی آبدوز کا خفیہ مشن ناکام
پاکستان نے اسے بلوچستان اور خاص طور پر گوادر پورٹ کو ٹارگٹ کرنے کی مذموم بھارتی خواہش اور کوشش قرار دیا ہے
، فوٹو؛ آئی این پی
بھارتی چانکیائی سیاست کے علمبردار حکمراں مختلف روپ بدل کر دنیا کی توجہ کشمیر اور کنٹرول لائن کی سنگین صورتحال سے ہٹانے کی مذموم کوششوں میں مصروف ہیں۔ اس بار مودی حکومت نے اپنی بحریہ کی ایٹمی آبدوز پاکستانی سمندری حدود میں چوری چھپے بھیجنے کی مہم جوئی کی تاہم پاکستان نیوی نے اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارتوں کے ساتھ ہر دم چوکنا رہتے ہوئے کامیابی سے بھارتی آبدوز کا سراغ لگا کر اُسے پاکستانی سمندری علاقے میں داخل ہونے سے روک دیا۔
بھارتی میڈیا نے حسب معمول اس بحری مہم جوئی سے انکار کیا اور واقعہ کو توڑ مروڑ کر چوتھی پاک چائنا بحری مشقوں کے حوالہ سے بلوچستان کے ساحلی علاقے سے دور محض الرٹ رہنے کا تاثر دینا چاہا ہے تاہم پاکستان نے اسے بلوچستان اور خاص طور پر گوادر پورٹ کو ٹارگٹ کرنے کی مذموم بھارتی خواہش اور کوشش قرار دیا ہے، بھارتی بحریہ نے جس آبدوز کے ذریعے پاکستانی بحری حدود میں دراندازی کی ناکام کوشش کی، وہ ٹائپ ٹو او نائن سب میرین تھی۔
جرمن ساختہ سب میرین ڈیزل الیکٹرک اٹیک سب میرین کہلاتی ہے۔ بھارت در حقیقت اپنے داخلی مسائل اور لائن آف کنٹرول پر بلا جواز کشیدگی بڑھا کر کشمیر مسئلہ کو عالمی فورم کی نگاہوں سے بچانا چاہتا ہے، اسے سی پیک منصوبہ کی غیر معمولی پیش رفت بھی مضطرب کیے ہوئے ہے اسی لیے اس بار وہ بحری آبدوزوںکی جنگ کا بگل بجاکر عالمی ضمیر کو مزید دھوکا دینے میں مصروف ہے تاہم اسے اندازہ نہیں کہ پاک بحریہ بھارتی عزائم سے نہ صرف آگاہ ہے بلکہ دشمن کی زمین اور زیر آب ہر حرکت اس کی نگاہوں سے چھپ نہیں سکتی۔
پاک بحریہ کے چوکس جوانوں نے یہ موقف غلط ثابت کیا کہ بھارتی آبدوز پاکستان کی سمندری حدود میں جانے کے لیے پر نہیں تول رہی تھی اور بحر ہندکی سمندری حدود میں معمول کی پٹرولنگ پر مامور تھی۔بھارت غالباً سرد جنگ کے دوران روس اور سوئیڈن کے مابین آبدوزوں کے سنگین اور ہولناک کشیدگی سے پیدا شدہ صورتحال اور دوطرفہ بحری جنگ کے ممکنہ خطرات سے واقف نہیں ۔ میڈیا کے مطابق واقعہ یہ ہے کہ 14نومبر2016ء کو پاکستان کے سمندری علاقے کے جنوب میں پاک بحریہ کے فلیٹ یونٹس (Fleet Units)کی مدد سے بھارتی آبدوز کی موجودگی کا سراغ لگایا گیا۔
بھارتی آبدوز نے اپنی موجودگی کو خفیہ رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن پاکستان نیوی فلیٹ یونٹس نے آبدوز کا مسلسل تعاقب جاری رکھا اور اُسے پاکستانی پانیوںسے دور دھکیل دیا، گہرے سمندر میں بھارتی بحریہ کی آبدوز کا سراغ لگانا اور اس کی مسلسل نگرانی کا یہ اہم کارنامہ نہ صرف پاکستان نیوی کی اینٹی سب میرین وار فیئر (Anti Submarine Warfare) کی اعلیٰ صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے بلکہ پاکستان کی بحری سرحدوں کے دفاع میں بلند عزم اور مضبوط عہد کا بھی عکاس ہے۔ جس کے باعث پاکستانی سمندری حدود میں بھارتی بحریہ کی ایٹمی آبدوز کا خفیہ مشن ناکام ہو گیا۔
یہ خوش آئند کارروائی ہے کہ پاک بحریہ نے جنوبی ساحلوں میں بھارتی آبدوز کا سراغ لگا کر اس کی نقل و حرکت محدود کر دی، پاکستانی آبدوزوں نے تعاقب کر کے پاکستانی ساحلوں سے مار بھگایا۔ پاک بحریہ کے جاری اعلامیے کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں جاری آزادی کی مقامی تحریک سے توجہ ہٹانے کی خاطر بھارت پاکستان کے خلاف مسلسل اشتعال انگیز کاروائیوں میں مصروف ہے، جہاں بھارتی آرمی لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی تشویش ناک حد تک لگا تار خلاف ورزیاںکر رہی ہے وہیں بھارتی بحریہ بھی خفیہ مقاصد کے حصول کے لیے اپنی آبدوزوں کو پاکستان کے خلاف تعینات کر رہی ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ بھارت چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک ) کی وجہ سے بہت پریشان ہے اور اس وجہ سے اوٹ پٹانگ حرکتیں کر رہا ہے ، وہ پاکستان کو کمزور کرنے کے لیے کئی قسم کے حربے استعمال کر رہا ہے، دراندازی کی کوشش کرنے والی سب میرین میں بھارتی ایس ایس جی کے لوگ اور دہشتگرد تھے جنھیں لینڈ کرنے کے بعد بلوچستان میں کارروائی کرنا تھی، ان کا مقصد سی پیک کو نقصان پہنچانا تھا۔ بھارت کی بد نیتی کا عالم یہ ہے کہ اس نے بالٓاخرکنٹرول لائن پر پاک فوج کی کارروائی میںاپنے13 فوجیوںکی ہلاکت کا اعتراف کر لیا۔
بھارتی وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میںکہاگیا ہے کہ گزشتہ دنوںلائن آف کنٹرول پرفائرنگ کے دوران7 پاکستانی فوجی شہیدہوئے تھے جب کہ پاک فوج کی جانب سے جوابی کارروائی میں ہمارے 13 فوجی مارے گئے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھارت کی جانب سے فوجیوںکی ہلاکتوںکو پوشیدہ رکھا جا رہا تھا تاہم آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی جانب سے حالیہ بیان کے بعد جس میںانھوںنے کہاکہ بھارت جانتا ہے کہ پاکستان کیا کر سکتا ہے۔ ملکی سلامتی پر مامور حکام کو بھارتی وزیردفاع منوہر پاریکر کے حالیہ بیانات اور اس دھمکی کا کہ پاک فوج کے سربراہ کا بیان ناقابل برداشت اوراعلان جنگ کے مترادف ہے سخت نوٹس لینا چاہیے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بتایا کہ پہلے ایٹمی ہتھیار استعمال نہ کرنے کا بھارتی ڈاکٹرائن ڈھونگ ہے، بھارتی وزیردفاع کا یہ بیان کہ 'سرحدی کشیدگی بڑھنے کی صورت میں ایٹمی ہتھیار پہلے استعمال نہ کرنے کی پیشکش واپس لے سکتے ہیں' نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کیلیے خطرہ ہے، پاکستان ایٹمی ہتھیار پہلے استعمال نہ کرنے کے اصول پرقائم ہے اور قائم رہے گا۔ موجودہ نازک معروضی صوررتحال میں پاکستان کو مزید چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔
بھارتی میڈیا نے حسب معمول اس بحری مہم جوئی سے انکار کیا اور واقعہ کو توڑ مروڑ کر چوتھی پاک چائنا بحری مشقوں کے حوالہ سے بلوچستان کے ساحلی علاقے سے دور محض الرٹ رہنے کا تاثر دینا چاہا ہے تاہم پاکستان نے اسے بلوچستان اور خاص طور پر گوادر پورٹ کو ٹارگٹ کرنے کی مذموم بھارتی خواہش اور کوشش قرار دیا ہے، بھارتی بحریہ نے جس آبدوز کے ذریعے پاکستانی بحری حدود میں دراندازی کی ناکام کوشش کی، وہ ٹائپ ٹو او نائن سب میرین تھی۔
جرمن ساختہ سب میرین ڈیزل الیکٹرک اٹیک سب میرین کہلاتی ہے۔ بھارت در حقیقت اپنے داخلی مسائل اور لائن آف کنٹرول پر بلا جواز کشیدگی بڑھا کر کشمیر مسئلہ کو عالمی فورم کی نگاہوں سے بچانا چاہتا ہے، اسے سی پیک منصوبہ کی غیر معمولی پیش رفت بھی مضطرب کیے ہوئے ہے اسی لیے اس بار وہ بحری آبدوزوںکی جنگ کا بگل بجاکر عالمی ضمیر کو مزید دھوکا دینے میں مصروف ہے تاہم اسے اندازہ نہیں کہ پاک بحریہ بھارتی عزائم سے نہ صرف آگاہ ہے بلکہ دشمن کی زمین اور زیر آب ہر حرکت اس کی نگاہوں سے چھپ نہیں سکتی۔
پاک بحریہ کے چوکس جوانوں نے یہ موقف غلط ثابت کیا کہ بھارتی آبدوز پاکستان کی سمندری حدود میں جانے کے لیے پر نہیں تول رہی تھی اور بحر ہندکی سمندری حدود میں معمول کی پٹرولنگ پر مامور تھی۔بھارت غالباً سرد جنگ کے دوران روس اور سوئیڈن کے مابین آبدوزوں کے سنگین اور ہولناک کشیدگی سے پیدا شدہ صورتحال اور دوطرفہ بحری جنگ کے ممکنہ خطرات سے واقف نہیں ۔ میڈیا کے مطابق واقعہ یہ ہے کہ 14نومبر2016ء کو پاکستان کے سمندری علاقے کے جنوب میں پاک بحریہ کے فلیٹ یونٹس (Fleet Units)کی مدد سے بھارتی آبدوز کی موجودگی کا سراغ لگایا گیا۔
بھارتی آبدوز نے اپنی موجودگی کو خفیہ رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن پاکستان نیوی فلیٹ یونٹس نے آبدوز کا مسلسل تعاقب جاری رکھا اور اُسے پاکستانی پانیوںسے دور دھکیل دیا، گہرے سمندر میں بھارتی بحریہ کی آبدوز کا سراغ لگانا اور اس کی مسلسل نگرانی کا یہ اہم کارنامہ نہ صرف پاکستان نیوی کی اینٹی سب میرین وار فیئر (Anti Submarine Warfare) کی اعلیٰ صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے بلکہ پاکستان کی بحری سرحدوں کے دفاع میں بلند عزم اور مضبوط عہد کا بھی عکاس ہے۔ جس کے باعث پاکستانی سمندری حدود میں بھارتی بحریہ کی ایٹمی آبدوز کا خفیہ مشن ناکام ہو گیا۔
یہ خوش آئند کارروائی ہے کہ پاک بحریہ نے جنوبی ساحلوں میں بھارتی آبدوز کا سراغ لگا کر اس کی نقل و حرکت محدود کر دی، پاکستانی آبدوزوں نے تعاقب کر کے پاکستانی ساحلوں سے مار بھگایا۔ پاک بحریہ کے جاری اعلامیے کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں جاری آزادی کی مقامی تحریک سے توجہ ہٹانے کی خاطر بھارت پاکستان کے خلاف مسلسل اشتعال انگیز کاروائیوں میں مصروف ہے، جہاں بھارتی آرمی لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی تشویش ناک حد تک لگا تار خلاف ورزیاںکر رہی ہے وہیں بھارتی بحریہ بھی خفیہ مقاصد کے حصول کے لیے اپنی آبدوزوں کو پاکستان کے خلاف تعینات کر رہی ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ بھارت چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک ) کی وجہ سے بہت پریشان ہے اور اس وجہ سے اوٹ پٹانگ حرکتیں کر رہا ہے ، وہ پاکستان کو کمزور کرنے کے لیے کئی قسم کے حربے استعمال کر رہا ہے، دراندازی کی کوشش کرنے والی سب میرین میں بھارتی ایس ایس جی کے لوگ اور دہشتگرد تھے جنھیں لینڈ کرنے کے بعد بلوچستان میں کارروائی کرنا تھی، ان کا مقصد سی پیک کو نقصان پہنچانا تھا۔ بھارت کی بد نیتی کا عالم یہ ہے کہ اس نے بالٓاخرکنٹرول لائن پر پاک فوج کی کارروائی میںاپنے13 فوجیوںکی ہلاکت کا اعتراف کر لیا۔
بھارتی وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میںکہاگیا ہے کہ گزشتہ دنوںلائن آف کنٹرول پرفائرنگ کے دوران7 پاکستانی فوجی شہیدہوئے تھے جب کہ پاک فوج کی جانب سے جوابی کارروائی میں ہمارے 13 فوجی مارے گئے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھارت کی جانب سے فوجیوںکی ہلاکتوںکو پوشیدہ رکھا جا رہا تھا تاہم آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی جانب سے حالیہ بیان کے بعد جس میںانھوںنے کہاکہ بھارت جانتا ہے کہ پاکستان کیا کر سکتا ہے۔ ملکی سلامتی پر مامور حکام کو بھارتی وزیردفاع منوہر پاریکر کے حالیہ بیانات اور اس دھمکی کا کہ پاک فوج کے سربراہ کا بیان ناقابل برداشت اوراعلان جنگ کے مترادف ہے سخت نوٹس لینا چاہیے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بتایا کہ پہلے ایٹمی ہتھیار استعمال نہ کرنے کا بھارتی ڈاکٹرائن ڈھونگ ہے، بھارتی وزیردفاع کا یہ بیان کہ 'سرحدی کشیدگی بڑھنے کی صورت میں ایٹمی ہتھیار پہلے استعمال نہ کرنے کی پیشکش واپس لے سکتے ہیں' نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کیلیے خطرہ ہے، پاکستان ایٹمی ہتھیار پہلے استعمال نہ کرنے کے اصول پرقائم ہے اور قائم رہے گا۔ موجودہ نازک معروضی صوررتحال میں پاکستان کو مزید چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔