پاک چین اقتصادی راہداری … آخری حصہ
2013 میں پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کی گنجائش 22797 میگا واٹ تھی
سی پیک کے تحت اس ریلوے ٹریک کا فیز 1 دسمبر 2017 اور فیز 2 اوور ہال اور ریپیئر ہونے کے بعد 2021 میں مکمل ہوگا، اس کی لاگت 8.2 ارب روپے ڈالر آئے گی، اس منصوبے کے بعد ٹرینوں کی رفتار 160 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوجائے گی، جب کہ موجودہ رفتار 60-105 کلومیٹر ہے۔
اس منصوبے کے بعد کراچی، پشاور سفر کی مدت مختصر ہو کر آدھی رہ جائے گی۔ اس وقت پاکستان ریلوے 4 فیصد پاکستان کے کارگو کا حصہ لے پاتا ہے۔ اس منصوبے کے بعد 22 فیصد سے زیادہ پاکستان کا کارگو ریلوے کے ذریعے جائے گا اور ریلوے کی آمدنی جو پچھلے سال 32 ارب کے قریب تھی جو 2025 تک بڑھ کر 70 ارب روپے تک ہوجائے گی۔
مین لائن 1، (ML1): کراچی سے لاہور تک 2 ٹریک کی ریلوے لائن ہے، مگر لاہور سے پشاور سنگل ٹریک ہے۔ 2021 تک لاہور پشاور بھی 2 ٹریک کا ہوجائے گا۔
مین ریلوے مین لائن 2، (ML2): ML1 کی طرح ML2 کو بھی اپ گریڈکیا جائے گا۔ مین لائن 2 جو کوٹری سندھ سے شروع ہو کر اٹک تک جاتی ہے، اس کی لمبائی 1254 کلومیٹر ہے۔ یہ لائن دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ اس منصوبے میں گوادر، جیکب آباد ریلوے لائن کی تعمیر بھی شامل ہے، جس کا روٹ جیکب آباد، خضدار، بائسما، پنجگور، ہوشاب، تربت، گوادر ہے۔ جیکب آباد ML2 اور ML3 کا جنکشن بھی ہے۔
مستقبل میں بائسما قلات، مستونگ، کوئٹہ ریلوے لائن بنانے کا بھی منصوبہ ہے، اس طرح گوادر ریلوے لائن کے ذریعے کوئٹہ سے مل جائے گا۔مین ریلوے لائن 3، (ML3): اس ریلوے لائن میں 560 کلومیٹر لمبی ریلوے لائن کی تعمیر نو شامل ہے، جو بوستان (افغانستان کی سرحد کے قریب واقع بلوچستان کا علاقہ) سے شروع ہو کر کوٹلاجام ڈیرہ غازی خان تک جاتی ہے۔ اس ریلوے لائن کی تکمیل کے بعد افغانستان کے بارڈر چمن سے بوستان، خانوزئی، مسلم باغ، قلعہ سیف اﷲ، مسافر پور، ژوب، بوستان کا ریلوے سفر شروع ہوجائے گا۔
بوستان سے آگے ڈیرہ غازی خان، درائم خان، میانوالی، داؤدخیل، جند، بسل اٹک، حویلیاں تک پہلے ہی دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ ریلوے لائن موجود ہے۔ اس طرح ML1 ریلوے کوریڈور کو ریلوے کا مشرقی اور ML2، ML3 کو ریلوے کا مغربی کوریڈور کہا جاسکتا ہے۔ مستقبل میں کراچی گوادر ریلوے لائن بنانے کا بھی منصوبہ ہے۔
سی پیک کے تحت بجلی کے منصوبے:
2013 میں پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کی گنجائش 22797 میگا واٹ تھی۔ اوسط طلب 17000-18000 میگا واٹ اور شارٹ فال 4500-5000 میگا واٹ تھا۔ فرنس آئل سے 35.2 فیصد، پن بجلی سے 29.9 فیصد اور باقی 5.9 فیصد ایٹمی، شمسی توانائی اور ایران سے 100 میگاواٹ کے قریب درآمد کرکے پوری کی جاتی تھی۔
لوڈشیڈنگ کی وجہ سے ہماری مجموعی قومی پیداوار GDP کی شرح میں 2.3 فیصد اضافہ نہیں ہو پاتا، یعنی اگر آج ہم 4.7 فیصد کے گروتھ ریٹ سے ترقی کر رہے ہیں، اگر بجلی کا بحران نہ ہوتا تو ہم 7.7 فیصد سالانہ ترقی کرسکتے تھے۔ پاکستان کی ترقی کی رکاوٹ میں جہاں دہشت گردی، غربت، جہالت، سرمایہ کی کمی رکاوٹ ہیں، وہیں توانائی کا بحران بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ چین 33 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری صرف توانائی کے شعبوں میں کر رہا ہے۔ ان منصوبوں کی تکمیل کے بعد ہم توانائی کے بحران پر قابو پالیں گے۔ پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کی انتہائی نچلی سطح کی ایک بنیادی وجہ بھی توانائی کا بحران ہے۔
سی پیک کے تحت توانائی کے منصوبوں پر چین کا EXIM BANK مختلف چینی کمپنیوں کو 5-6 فیصد سالانہ پر قرضہ دے گا۔ یہ چینی کمپنیاں پاکستان کے چاروں صوبوں میں شمسی توانائی، ہوا سے توانائی، ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور کوئلے سے چلنے والے بجلی کے کارخانے لگائے گی۔ حکومت پاکستان ہر کمپنی سے ہر منصوبے کی نوعیت کے مطابق بجلی خریدنے کا معاہدہ کرے گی۔
سی پیک کے تحت گوادر شہر کے منصوبے:
پاکستان کی جغرافیائی لحاظ سے انتہائی اہمیت کی حامل یہ بندرگاہ چین کے ون بیلٹ ون روڈ کے منصوبے میں سب سے زیادہ اہمہت کا حامل منصوبہ ہے۔ یہ سلک روڈ کا بھی سی پیک کی صورت میں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل منصوبہ ہے اور میری ٹائم سلک روڈ کا بھی سب سے زیادہ اہمیت کا حامل منصوبہ ہے۔ گوادر میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے چین مختلف منصوبے 2017-18 تک مکمل کرے گا۔
گوادر کی بندرگاہ کی تعمیر کا فیز 1 کا کام 2002 سے 2007 کے بیچ میں مشرف کے دور میں مکمل ہوا۔ گوادر، کراچی کوسٹل ہائی وے اسی دور میں مکمل ہوئی۔ گہرے سمندر کی قدرتی بندرگاہ ہونے کی وجہ سے 70,000 ٹن وزنی بحری جہاز گوادر کی بندرگاہ پر لنگرانداز ہوسکتے ہیں۔گوادر پورٹ پر 130 ملین ڈالر کی لاگت سے بریک واٹر تعمیر کیا جارہا ہے، بریک واٹر بنانے کا بنیادی مقصد سمندر کی اونچی لہروں سے بندرگاہ کو بچانا ہوتا ہے۔
گوادر پورٹ پر FLOATING LIQUEFIED NATURAL GAS ٹرمینل تعمیر کیا جائے گا، جس کی گنجائش 500 ملین کیوبک فٹ گیس روزانہ ہوگی۔ یہ ٹرمینل گوادر نوابشاہ گیس پائپ لائن سے منسلک ہوگا، جو ایران پاکستان گیس پائپ لائن کا حصہ ہے۔مستقبل کا نیا تجارتی و معاشی مرکز گوادر جو دبئی کا متبادل ہوگا۔ سی پیک منصوبہ مکمل ہونے کے بعد گوادر بحرِہند کی سب سے بڑی بندرگاہ بن جائے گی۔ بمبئی اور دبئی سے بھی بڑی بندرگاہ۔ گوادر کا شمار دنیا کی پانچ بڑی بندرگاہوں میں ہوگا۔
گوادر خطے کا تجارتی اور انرجی ہب بننے کے ساتھ ساتھ خطے کا نہ صرف ہوائی ہب بنے گا بلکہ بحری ہب اور خطے کا سب سے بڑا ٹرانزٹ ٹریڈ ہب بھی بن جائے گا۔ گوادر دبئی کی مرکزی تجارتی حیثیت کا بہترین متبادل بن سکتا ہے، کیونکہ گوادر بحرِہند کے کھلے سمندر میں بحیرۂ عرب اور خلیج فارس کے منہ پر واقع ہے، جب کہ دبئی جانے کے لیے ہوائی جہازوں اور بحری جہازوں کو کئی سو کلومیٹر کا فاصلہ خلیج فارس میں طے کرنا پڑتا ہے اور بحری جہازوں کو Strait of Hormous کی تنگ بحری گزرگاہ سے ہو کر دبئی جانا پڑتا ہے، جس میں وقت، پیسہ اور اضافی فیول خرچ ہوتا ہے، جب کہ گوادر اپنے بہترین محل وقوع کی وجہ سے دبئی پر فوقیت رکھتا ہے۔
اگر ہم گوادر پورٹ اور ایئرپورٹ کو چین کے ساتھ مل کر بین الاقوامی معیار کا بنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو مستقبل قریب میں گوادر ایئر پورٹ اور بندرگاہ نہ صرف خطے، بلکہ دنیا کے مصروف ترین ایئر پورٹس اور بندرگاہوں میں سے ایک ہوگا، کیونکہ مشرقی ایشیا، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا سے مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور یورپ کے لیے بہترین ٹرانزٹ پوائنٹ ہوائی جہازوں اور بحری جہازوں کے لیے گوادر ہی ہے۔
اس طرح مستقبل قریب میں گوادر شہر میں دنیا بھر کی شپنگ کمپنیوں کے آفس اور دنیا کی ساری بڑی ایئر لائنوں کے ریجنل ہیڈ آفس ہوں گے، کیونکہ دنیا بھر کی ایئر لائنوں اور شپنگ کمپنیز کے لیے ٹرانزٹ ٹریڈ، ری فیولنگ، اسٹاپ اوور اور ٹرانزٹ کے لیے گوادر دبئی کا بہترین نعم البدل ہوگا۔
اس منصوبے کے بعد کراچی، پشاور سفر کی مدت مختصر ہو کر آدھی رہ جائے گی۔ اس وقت پاکستان ریلوے 4 فیصد پاکستان کے کارگو کا حصہ لے پاتا ہے۔ اس منصوبے کے بعد 22 فیصد سے زیادہ پاکستان کا کارگو ریلوے کے ذریعے جائے گا اور ریلوے کی آمدنی جو پچھلے سال 32 ارب کے قریب تھی جو 2025 تک بڑھ کر 70 ارب روپے تک ہوجائے گی۔
مین لائن 1، (ML1): کراچی سے لاہور تک 2 ٹریک کی ریلوے لائن ہے، مگر لاہور سے پشاور سنگل ٹریک ہے۔ 2021 تک لاہور پشاور بھی 2 ٹریک کا ہوجائے گا۔
مین ریلوے مین لائن 2، (ML2): ML1 کی طرح ML2 کو بھی اپ گریڈکیا جائے گا۔ مین لائن 2 جو کوٹری سندھ سے شروع ہو کر اٹک تک جاتی ہے، اس کی لمبائی 1254 کلومیٹر ہے۔ یہ لائن دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ اس منصوبے میں گوادر، جیکب آباد ریلوے لائن کی تعمیر بھی شامل ہے، جس کا روٹ جیکب آباد، خضدار، بائسما، پنجگور، ہوشاب، تربت، گوادر ہے۔ جیکب آباد ML2 اور ML3 کا جنکشن بھی ہے۔
مستقبل میں بائسما قلات، مستونگ، کوئٹہ ریلوے لائن بنانے کا بھی منصوبہ ہے، اس طرح گوادر ریلوے لائن کے ذریعے کوئٹہ سے مل جائے گا۔مین ریلوے لائن 3، (ML3): اس ریلوے لائن میں 560 کلومیٹر لمبی ریلوے لائن کی تعمیر نو شامل ہے، جو بوستان (افغانستان کی سرحد کے قریب واقع بلوچستان کا علاقہ) سے شروع ہو کر کوٹلاجام ڈیرہ غازی خان تک جاتی ہے۔ اس ریلوے لائن کی تکمیل کے بعد افغانستان کے بارڈر چمن سے بوستان، خانوزئی، مسلم باغ، قلعہ سیف اﷲ، مسافر پور، ژوب، بوستان کا ریلوے سفر شروع ہوجائے گا۔
بوستان سے آگے ڈیرہ غازی خان، درائم خان، میانوالی، داؤدخیل، جند، بسل اٹک، حویلیاں تک پہلے ہی دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ ریلوے لائن موجود ہے۔ اس طرح ML1 ریلوے کوریڈور کو ریلوے کا مشرقی اور ML2، ML3 کو ریلوے کا مغربی کوریڈور کہا جاسکتا ہے۔ مستقبل میں کراچی گوادر ریلوے لائن بنانے کا بھی منصوبہ ہے۔
سی پیک کے تحت بجلی کے منصوبے:
2013 میں پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کی گنجائش 22797 میگا واٹ تھی۔ اوسط طلب 17000-18000 میگا واٹ اور شارٹ فال 4500-5000 میگا واٹ تھا۔ فرنس آئل سے 35.2 فیصد، پن بجلی سے 29.9 فیصد اور باقی 5.9 فیصد ایٹمی، شمسی توانائی اور ایران سے 100 میگاواٹ کے قریب درآمد کرکے پوری کی جاتی تھی۔
لوڈشیڈنگ کی وجہ سے ہماری مجموعی قومی پیداوار GDP کی شرح میں 2.3 فیصد اضافہ نہیں ہو پاتا، یعنی اگر آج ہم 4.7 فیصد کے گروتھ ریٹ سے ترقی کر رہے ہیں، اگر بجلی کا بحران نہ ہوتا تو ہم 7.7 فیصد سالانہ ترقی کرسکتے تھے۔ پاکستان کی ترقی کی رکاوٹ میں جہاں دہشت گردی، غربت، جہالت، سرمایہ کی کمی رکاوٹ ہیں، وہیں توانائی کا بحران بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ چین 33 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری صرف توانائی کے شعبوں میں کر رہا ہے۔ ان منصوبوں کی تکمیل کے بعد ہم توانائی کے بحران پر قابو پالیں گے۔ پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کی انتہائی نچلی سطح کی ایک بنیادی وجہ بھی توانائی کا بحران ہے۔
سی پیک کے تحت توانائی کے منصوبوں پر چین کا EXIM BANK مختلف چینی کمپنیوں کو 5-6 فیصد سالانہ پر قرضہ دے گا۔ یہ چینی کمپنیاں پاکستان کے چاروں صوبوں میں شمسی توانائی، ہوا سے توانائی، ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور کوئلے سے چلنے والے بجلی کے کارخانے لگائے گی۔ حکومت پاکستان ہر کمپنی سے ہر منصوبے کی نوعیت کے مطابق بجلی خریدنے کا معاہدہ کرے گی۔
سی پیک کے تحت گوادر شہر کے منصوبے:
پاکستان کی جغرافیائی لحاظ سے انتہائی اہمیت کی حامل یہ بندرگاہ چین کے ون بیلٹ ون روڈ کے منصوبے میں سب سے زیادہ اہمہت کا حامل منصوبہ ہے۔ یہ سلک روڈ کا بھی سی پیک کی صورت میں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل منصوبہ ہے اور میری ٹائم سلک روڈ کا بھی سب سے زیادہ اہمیت کا حامل منصوبہ ہے۔ گوادر میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے چین مختلف منصوبے 2017-18 تک مکمل کرے گا۔
گوادر کی بندرگاہ کی تعمیر کا فیز 1 کا کام 2002 سے 2007 کے بیچ میں مشرف کے دور میں مکمل ہوا۔ گوادر، کراچی کوسٹل ہائی وے اسی دور میں مکمل ہوئی۔ گہرے سمندر کی قدرتی بندرگاہ ہونے کی وجہ سے 70,000 ٹن وزنی بحری جہاز گوادر کی بندرگاہ پر لنگرانداز ہوسکتے ہیں۔گوادر پورٹ پر 130 ملین ڈالر کی لاگت سے بریک واٹر تعمیر کیا جارہا ہے، بریک واٹر بنانے کا بنیادی مقصد سمندر کی اونچی لہروں سے بندرگاہ کو بچانا ہوتا ہے۔
گوادر پورٹ پر FLOATING LIQUEFIED NATURAL GAS ٹرمینل تعمیر کیا جائے گا، جس کی گنجائش 500 ملین کیوبک فٹ گیس روزانہ ہوگی۔ یہ ٹرمینل گوادر نوابشاہ گیس پائپ لائن سے منسلک ہوگا، جو ایران پاکستان گیس پائپ لائن کا حصہ ہے۔مستقبل کا نیا تجارتی و معاشی مرکز گوادر جو دبئی کا متبادل ہوگا۔ سی پیک منصوبہ مکمل ہونے کے بعد گوادر بحرِہند کی سب سے بڑی بندرگاہ بن جائے گی۔ بمبئی اور دبئی سے بھی بڑی بندرگاہ۔ گوادر کا شمار دنیا کی پانچ بڑی بندرگاہوں میں ہوگا۔
گوادر خطے کا تجارتی اور انرجی ہب بننے کے ساتھ ساتھ خطے کا نہ صرف ہوائی ہب بنے گا بلکہ بحری ہب اور خطے کا سب سے بڑا ٹرانزٹ ٹریڈ ہب بھی بن جائے گا۔ گوادر دبئی کی مرکزی تجارتی حیثیت کا بہترین متبادل بن سکتا ہے، کیونکہ گوادر بحرِہند کے کھلے سمندر میں بحیرۂ عرب اور خلیج فارس کے منہ پر واقع ہے، جب کہ دبئی جانے کے لیے ہوائی جہازوں اور بحری جہازوں کو کئی سو کلومیٹر کا فاصلہ خلیج فارس میں طے کرنا پڑتا ہے اور بحری جہازوں کو Strait of Hormous کی تنگ بحری گزرگاہ سے ہو کر دبئی جانا پڑتا ہے، جس میں وقت، پیسہ اور اضافی فیول خرچ ہوتا ہے، جب کہ گوادر اپنے بہترین محل وقوع کی وجہ سے دبئی پر فوقیت رکھتا ہے۔
اگر ہم گوادر پورٹ اور ایئرپورٹ کو چین کے ساتھ مل کر بین الاقوامی معیار کا بنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو مستقبل قریب میں گوادر ایئر پورٹ اور بندرگاہ نہ صرف خطے، بلکہ دنیا کے مصروف ترین ایئر پورٹس اور بندرگاہوں میں سے ایک ہوگا، کیونکہ مشرقی ایشیا، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا سے مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور یورپ کے لیے بہترین ٹرانزٹ پوائنٹ ہوائی جہازوں اور بحری جہازوں کے لیے گوادر ہی ہے۔
اس طرح مستقبل قریب میں گوادر شہر میں دنیا بھر کی شپنگ کمپنیوں کے آفس اور دنیا کی ساری بڑی ایئر لائنوں کے ریجنل ہیڈ آفس ہوں گے، کیونکہ دنیا بھر کی ایئر لائنوں اور شپنگ کمپنیز کے لیے ٹرانزٹ ٹریڈ، ری فیولنگ، اسٹاپ اوور اور ٹرانزٹ کے لیے گوادر دبئی کا بہترین نعم البدل ہوگا۔