اظہر نے شارٹ گیندوں پر کمزوری کا اعتراف کرلیا
اس سے قبل کبھی ایسی پچ نہیں دیکھی، بہتری کیلیے وقت درکار ہوگا، قائم مقام کپتان
اس سے قبل کبھی ایسی پچ نہیں دیکھی، بہتری کیلیے وقت درکار ہوگا، قائم مقام کپتان فوٹو: فائل
اظہرعلی نے شارٹ گیندوں پرکمزوریوں کا اعتراف کرلیا، اوپنر کا کہنا ہے کہ کیریئر میں کبھی اس نوعیت کی سیمنگ پچ نہیں دیکھی، قطعی مختلف کنڈیشنز میں درپیش مسائل کا اندازہ ہے۔
کارکردگی بہتر بنانے کیلیے وقت درکار ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق کرائسٹ چرچ ٹیسٹ میں بہتر ہدف دینے کیلیے پاکستان کو دوسری اننگز میں زیادہ ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت تھی لیکن بیٹسمین گھبراہٹ کا شکار نظر آئے، اس کی بڑی وجہ کیوی بولرز کی جانب سے شارٹ گیندیں تھیں جن پر بابر اعظم، یونس خان،مصباح الحق اور اسد شفیق نے وکٹوں کی قربانی پیش کردی، میچ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے اظہر علی نے کہا کہ ایشیائی ٹیمیں جب بھی آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں کھیلیں، شارٹ گیندیں چیلنج ہوتی ہیں۔
ہمیں بھی ان مسائل کا اندازہ ہے، پوری کوشش کررہے ہیں کہ کارکردگی میں بہتری لائیں لیکن اس کیلیے وقت درکار ہوگا۔انھوں نے کہا کہ اپنے کیریئر میں کبھی ایسی سیمنگ پچ نہیں دیکھی،انگلینڈ میں بھی گیند سیم ہوتی ہے لیکن تھوڑا وقت گزرنے پر بیٹسمین کیلیے بھی آسانی پیدا ہونے لگتی ہے،کرائسٹ چرچ میں معاملہ مختلف رہا اور گیند آخر تک یکساں موو ہوتی رہی،بہرحال ہوم کنڈیشنز میں میزبان ٹیم بہتر کھیلی اور کامیاب ہوئی، ہمیں پروفیشنل کرکٹرز کے طور پر شارٹ گیندوں سمیت ہر طرح کی صورتحال میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔
اپنی سست بیٹنگ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مشکل حالات میں رنز بنانے کیلیے بڑی جدوجہد کی لیکن میزبان بولرز کی عمدہ لائن اور لینتھ مجھ سمیت بیٹسمینوں کو ردھم میں آنے کا موقع ہی نہیں دیا،بعض اوقات اچھی کوشش بھی کامیاب نہیں ہوتی،امید ہے کی بیٹ تسلسل کیساتھ رنز اگلنے لگے گا۔
کارکردگی بہتر بنانے کیلیے وقت درکار ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق کرائسٹ چرچ ٹیسٹ میں بہتر ہدف دینے کیلیے پاکستان کو دوسری اننگز میں زیادہ ثابت قدمی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت تھی لیکن بیٹسمین گھبراہٹ کا شکار نظر آئے، اس کی بڑی وجہ کیوی بولرز کی جانب سے شارٹ گیندیں تھیں جن پر بابر اعظم، یونس خان،مصباح الحق اور اسد شفیق نے وکٹوں کی قربانی پیش کردی، میچ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے اظہر علی نے کہا کہ ایشیائی ٹیمیں جب بھی آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں کھیلیں، شارٹ گیندیں چیلنج ہوتی ہیں۔
ہمیں بھی ان مسائل کا اندازہ ہے، پوری کوشش کررہے ہیں کہ کارکردگی میں بہتری لائیں لیکن اس کیلیے وقت درکار ہوگا۔انھوں نے کہا کہ اپنے کیریئر میں کبھی ایسی سیمنگ پچ نہیں دیکھی،انگلینڈ میں بھی گیند سیم ہوتی ہے لیکن تھوڑا وقت گزرنے پر بیٹسمین کیلیے بھی آسانی پیدا ہونے لگتی ہے،کرائسٹ چرچ میں معاملہ مختلف رہا اور گیند آخر تک یکساں موو ہوتی رہی،بہرحال ہوم کنڈیشنز میں میزبان ٹیم بہتر کھیلی اور کامیاب ہوئی، ہمیں پروفیشنل کرکٹرز کے طور پر شارٹ گیندوں سمیت ہر طرح کی صورتحال میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔
اپنی سست بیٹنگ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مشکل حالات میں رنز بنانے کیلیے بڑی جدوجہد کی لیکن میزبان بولرز کی عمدہ لائن اور لینتھ مجھ سمیت بیٹسمینوں کو ردھم میں آنے کا موقع ہی نہیں دیا،بعض اوقات اچھی کوشش بھی کامیاب نہیں ہوتی،امید ہے کی بیٹ تسلسل کیساتھ رنز اگلنے لگے گا۔